برطانوی شخص کو دوبئی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 4 گھنٹوں میں کتنے لاکھ جرمانہ ہوگیا

این این ایس نیوز! ایک برطانوی شخص کا پاسپورٹ  کار ڈیلر کمپنی نے ضبط کرلیا ہے۔ مذکورہ شخص کو حدرفتار کی خلاف ورزی پر تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار درہم جرمانہ ہوا تھا۔25 سالہ فراہ ہاشی نے دوبئی میں ایک کار ڈیلر سے ڈھائی کروڑ روپے مالیت کی لمبورگینی  کرائے پر لی تھی اورشہر کی مصروف ترین شاہراہ شیخ زید روڈ   150 میل فی گھنٹہ کی رفتار  سے زیادہ گاڑی چلاتے ہوئے کئی بار حد رفتار کی خلاف ورزی کی۔

فراہ  کو چار گھنٹوں کی  ڈرائیونگ میں 33 جرمانے ہوئے، جس کے نوٹی فیکشن کار ڈیلر کمپنی کو ملتے رہے۔ کار ڈیلر کمپنی نے فراہ کا پاسپورٹ  ضبط کر لیا اور جرمانے کی ادائیگی  تک واپس کرنے سے انکار کر دیا۔دوبئی کے قانون کے مطابق گاڑی کے ڈرائیور کی بجائے گاڑی کا مالک جرمانہ ادا کرنے کا پابند ہے۔فراہ کے بھائی 50 سالہ ادمان کا کہنا ہے کہ اس کا بھائی اتنا بھاری جرمانہ ادا نہیں کر سکتا، اس لیے وہ دوبئی میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ادمان کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ قانونی طور پر کوئی کسی کا پاسپورٹ کیسے رکھ سکتا ہے۔ ادمان نے بتایا کہ اس کا بھائی بے روزگار ہے اور دوبئی میں اپنے دوستوں سے ملنے گیا تھا۔ کار ڈیلر کمپنی کا کہنا ہے فراہ کا پاسپورٹ انہوں نے گاڑی کرائے پر دیتے ہوئے گارنٹی کے طور پر لیا تھا جبکہ ادمان کا دعویٰ ہے کمپنی نے جرمانے لگنے کے بعد ہوٹل جا کر پاسپورٹ لیا اور ضبط کر لیا۔دوبئی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ 50 میل فی گھنٹہ حد رفتار کی خلاف ورزی پر خود کار طور پر 3000 درہم جرمانہ ہو جاتا ہے۔

 فراہ کو سارے جرمانے 31 جولائی کو رات ڈھائی بجے سے صبح چھ بجے تک ہوئے، جب سڑکیں تقریباً سنسان ہوتی ہیں۔ فراہ کو 33 میں سے 12 جرمانے کچھ سیکنڈوں کے فرق سے بھی ہوئے۔
ادمان نے بتایا کہ گاڑی اس کے بھائی نے نہیں بلکہ بھائی کی دوست نے کرائے پر لے کر دی تھی اور اس کا بھائی دوبئی کے قوانین نہیں جانتا تھا۔کار ڈیلرکمپنی کاکہنا ہے کہ گاڑی ابھی بھی فراہ کے پاس ہے اور اس کے ہوٹل کے باہر کھڑی ہے، وہ گاڑی بھی واپس نہیں لے رہے اور جرمانہ بھی ادا نہیں کرسکتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *