شوہراپنی بیوی سے کتنا عرصہ دوررہ سکتا ہے بیرون ملک پاکستانی لازمی پڑھیں کم سن نئی نویلی دلہن کا اپنے پردیسی شوہر کو خط

کراچی (این این ایس نیوز) روزی کے لیے کیا کچھ کرنا پڑتا بیرون ملک جاب کرنے والوں کو 1سال بعد اور بعض کو دو سال بعد چھٹی ملتی ہے اور بعض افراد تو پیسے کی لالچ میںجلدی واپس جاتے ہی نہیں ہیں۔ ایک شادی شدہ مرد زیادہ سے زیادہ کتنی مدت تک بیوی سے دور بیرون ملک قیام کر سکتا ہے، دور جدید کے مطابق احسن و افضل عمل کیا ہے؟ تاریخ الخلفاءمیں جلال الدین سیوطی رحمة اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ ذکر کیا ہے کہ آپ رات کے وقت گشت کر رہے تھے

تو ایک گھر سے ایک عورت کی آواز آرہی تھی اور وہ کچھ اشعار پڑھ رہی تھی۔ مفہوم یہ تھا کہ اس کا شوہر گھر سے کہیں دور چلا گیا تھا اور وہ اسکے فراق میں غمزدہ تھی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ گھر آئے اور اپنی زوجہ سے دریافت کیا کہ شادی شدہ عورت شوہر کے بغیر کتنی مدت صبر کر سکتی ہے تو زوجہ نے جواب دیا کہ تین سے چار ماہ۔ آپ نے حکم جاری کر دیا کہ ہر فوجی کو چار ماہ بعد ضرور چھٹی دی جائے تاکہ ہر فوجی اپنی بیوی کا حق ادا کر سکے۔

علماءکرام فرماتے ہیں کہ چار ماہ تک اگر شوہر عورت کا حق ادا نہ کرے تو عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ خلع کا مطالبہ کرے یہ اس صورت میں ہے جب عورت راضی نہ ہو۔ اس لیے شوہر کو چاہیے کہ وہ عورت کو راضی رکھے اور ہوسکے تو کم از کم سال میں ضرور اپنے گھر کا چکر لگائے، اگر ممکن ہو تو عورت کو اپنے ساتھ ہی رکھے۔ باہمی رضامندی سے اگر زیادہ وقت دور رہ سکتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر فتنہ کا خوف ہو تو پھر رضامندی بھی بے فائدہ ہے کیونکہ زیادہ عرصہ تک گھر واپس نہ آنا بہت سے نقصانات کا باعث بن سکتا ہے۔

بیوی سے زیادہ عرصہ تک علیحدہ رہنے کی ممانعت
چار ماہ سے زیادہ بیوی سے علیحدگی اور صحبت نہ کرنے کو علماء نے منع فرمایا ہے کیونکہ عورت میں قوت صبر چار ماہ سے زیادہ نہیں ہوتی ہے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آئے واقعہ سے پتہ چلتا ہے جو اس طرح پر ہے کہ ایک بار امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کر رہے تھے تو ایک مکان سے کسی جوان عورت کے گانے کی آواز سنی جو کچھ عشقیہ اشعار گا رہی تھی جن کا مفہوم کچھ اس طرح تھا کہ خدا کی قسم مجھے خوف خدا نہ ہوتا تو آج چار پائی کی چولیں چرچرانے لگتیں امیر المومنیں کو اشعار سن کر کچھ شک ہوا اور دروازہ کھولنے کا حکم دیا اور جب دروازہ نہیں کھولا تو آپ دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے تو وہاں صرف ایک عورت کو پایا کوئی مرد نہ تھا دریافت کرنے پر عورت نے بتایا کہ اس کا شہر کافی عرصہ سے جہاد میں گیا ہوا ہے جس کی جدائی میں بے چین ہو کر وہ یہ اشعار گا رہی تھی یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی صاحبزادی کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا کہ بغیر شرم و لحاظ کے بتاؤ کہ شادی شدہ عورت بغیر شوہر کے کتنے دن صبر کر سکتی ہے جواب میں اُم المومنین نے نیچی نگاہوں سے ہاتھ کی چار انگلیاں اٹھا دیں جس سے آپ سے سمجھ لیا کہ عورت بغیر شوہر کے چار ماہ تک صبر کر سکتی ہے پس آپ نے جہاں جہاں اسلامی لشکر جہاد پر تھے حکم نامے جاری فرمائے کہ شادی شدہ فوجیوں کو چار ماہ ہونے پر اپنے گھر جانے کی اجازت دی جائے ۔

مسئلہ : اگر عورت اپنے شوہر کے چار ماہ سے زائد عرصہ تک دور رہنے پر راضی ہو جائے تو چار ماہ سے زائد علیحدگی میں بھی کوئی مضائقہ نہیں بلکہ ایک سال بھی اگر شوہر قریب نہ جائے تو جائز ہے ۔

ایک نئی نویلی دلہن نے اپنے بیرون ملک مال و دولت کمانے والے شوہر کو خط لکھا کہ میرے سرتاج مال و دولت تو زندگی کی ہر عمر میں کمایا جاسکتا ہے جوانی کے تو چند دن ہوتے ہیں اور بہت جلد جوانی ڈھل جاتی ہے۔ کیا میں اسی طرح۔

ایک نئی نویلی دلہن نے اپنے بیرون ملک مال و دولت کمانے والے شوہر کو خط لکھا۔کہ میرے سرتاج مال و دولت تو زندگی کی ہر عمر میں کمایا جاسکتا ہے جوانی کے تو چند دن ہوتے ہیں اور بہت جلد جوانی ڈھل جاتی ہے.کیا میں اسی طرح سالہا سال آپ کا انتظار کرکے اپنے سر کے بالوں میں چاندی بھر لوں گی؟ اپنے ہاتھوں سے رنگین مہندی کو مٹا دوں گی.اپنے پاؤں کے پائل کی جھنکار جو صرف جوانی میں ہی اچھی لگتی ہے کیا میں اسے ابھی اتار کر اس تصور کے ساتھ رکھ دوں گی کہ اپنی بیٹی کو پہناؤں گی؟ بس اب میرے پہننے کی عمر ختم ہوگئی ہے کیا میں جوانی کی حسرت اور امیدوں کو کسی سلطان رسول میں رکھ کر تالا لگا دوں؟ میں نے آنکھوں سے آپ کو چاہا ہے‘آپ کے بول میرے کانوں میں رس کے بول میرے کانوں میں رس گھولتے ہیں‘آپ کی مسکراہٹ سے میری گھر کے سارے کاموں کی تھکن ختم ہو جاتی ہے کیا یہ جذبات آپ کی تصویر دیکھ کر تسکین پا لیں گے؟ نہیں!میرے سرتاج ہر گز نہیں‘آپ واپس آجائیں مجھے بھوک قبول ہے‘پرانے کپڑے قبول ہیں لیکن ان بچوں کو اور اس جوانی کو آپ کا ساتھ چاہیے۔

ان جذبات کو آپ کا سہارا چاہیے میں انتظار بہت کرچکی اب مجھے زیادہ انتظار نہ کروائیں۔ قارئین یہ الفاظ لکھتے ہوئے میں خود آبدیدہ ہوں‘جب بھی میرے پاس ایسی زندگی آتی ہیں میں تڑپ جاتا ہوں‘ میرے اندر کا سلطان رسول چیخ اٹھتا ہے‘آخرکیوں؟مال دولت اور پیسے کیلئے وہ زندگی سسکتی اور سلگتی رہ جائے گی۔ کیا مال و دولت اور پیسہ سب کچھ ہوتا ہے؟ایک خاتون اپنی انیس سالہ بیٹی کو ساتھ لیے کہہ رہی تھی اس کہ منگنی ہے اور باپ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ میں تجھے منگنی کا تحفہ بھیجوں گا. بس یہ پیٹ میں تھی تو باپ اٹلی گیا.ابھی تک واپس نہیں آیا۔ سنا ہے اس نے وہاں کوئی شادی کررکھی ہے اس کی زندگی تو یوں گزر گئی میں اس کے انتظار ہی کی آہٹ کو سنتے سنتےبوڑھے ہوگئی. وہ بلک بلک کر رو رہی تھی پھر اس نے ایک کاغذ بیٹی سے علیحدہ مجھے پکڑایا جس کے اندر اس کے وہ گناہ تھے جس کا ذمہ دار صرف اس کا شوہر ہی ہوسکتا ہے۔ کیا اس کے ڈالر‘ پونڈ یورو‘ درہم‘ دینار‘ ریال اس کو آخرت میں بیوی کی اس جواب دہی سے چھڑوا دیں گے؟؟؟کیا اس کو اس فعل سے نجات مل جائے گی؟

ہر گز نہیں…ایک خاتون کہنے لگی یہ بیٹا آٹھ سال کا ہوگیا ہے اور اس کی پیدائش سے چند ماہ پہلے اس کا باپ سائپرس یعنی یونان گیا پھرپلٹ کے نہ آیا بیٹے نے نیٹ پر باپ کی تصویر دیکھی ہے باپ نے بھی نیٹ پر ہی بیٹے کی تصویر دیکھی ہے…حقیقت میں باپ نے بیٹے کو دیکھانہ بیٹے نے باپ کو دیکھا کہتا ہے جب میں سکول جاتا ہوں. بچے مجھ سے پوچھتے ہیں ہمارے ابوں تو آتے ہیں پرنسپل سے ملتے ہیں ٹیچر سے ملتے ہیں تیرے ابو تجھے کبھی چھوڑنے نہیں آئے.کیا تیرے ابو نہیں ہیں؟ میں اپنے کلاس فیلوز کو وضاحتیں دیتے دیتے تھک گیا ہوں مجھے اس کی کوئی وضاحت نہیں ملتی.میں کیا کروں؟کہاں سے وضاحتیں لے آئوں میں تھک چکا ہوں اس کا کوئی وسیلہ میرے پاس نہیں ہے میں کس سے سوال کروں.قارئیں معاشرے میں پھیلتا ہوا گناہ اولاد کی بے راہ روی اس کے اسباب اور بھی ہیں لیکن ایک بڑا سبب باپ کی سرپرستی سے محروم اولاد اور شوہر کی سرپرستی سے محروم بیوی ہے.پھر وہ کیا کرے آخر اس کی زندگی کیساتھ بھی تو جذبات جڑے ہوئے ہیں.کیا مرد‘عورتوں کے گناہوں کے ذمہ دار ہیں؟؟؟ جی ہاں…! یہ حقیقت ہے یہ سچ ہے‘مجرم مرد ہیں…!عورتیں نہیں

Comments are closed.