پیٹ کی گیس اور سینے کا جلن کی وجہ وہ کام جو آپ شوق سے کرتے اورانتہائی آسان علاج جان کر چٹکی میں اس مسئلے سے جان چھڑائیں

لندن(این این ایس نیوز)اگر پیٹ میں گیس بھر جائے تو انسان بہت زیادہ اذیت اور تکلیف کا شکار ہوجاتا ہے ۔ کبھی کوئی ٹوٹکا اپنایا جاتا ہے تو کبھی کوئی کام کیا جاتا ہے ۔ پیٹ میں گیس بھر جانے کی کئی وجوہات ہیں اور اگر انسان وہ کام ہی نہ کرے جن سے یہ مصیبت نازل ہوتی ہے تو کیا ہی اچھا ہے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کام کون سے ہیں جن سے بچ کر آپ صحت مند زندگی کا لطف اٹھاسکتے ہیں۔

تیزی میں کھانا
جب آپ تیزی سے کھاتے ہیں تو کھانے کو بہتر طریقے سے نہیں چباتے جس سے ہوتا یہ ہے کہ کھانے کے بڑے بڑے ٹکڑے پیٹ میں جاتے ہیں اورانہیں ہضم ہونے میں وقت لگتا ہے اور گیس پیدا ہوتی ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ آپ آرام سے اور کھانے کو اچھی طرح چبا کر کھائیں۔

سوڈا اور کولڈ ڈرنک
آج کل یہ ہر بندے کی عادت بنتی جا رہی ہے کہ وہ کھانے کے ساتھ سوڈا یعنی کوک اور پیپسی کا استعمال ضرور کرتا ہے جب یہ زہر آپ کے معدے میں جاتا ہے تو اس میں موجود بلبلے آپ کے معدے کی سوجن کا باعث بنتے ہیں اور گیس بننا شروع ہو جاتی ہے۔ ڈائٹ کوک تو گیس بنانے میں انتہائی خطرناک کردار ادا کرتی ہے۔ اگر آپ اس عادت سے چھٹکارا نہیں پا سکتے توکم از کم یہ کام ضرور کریں کہ بوتل کو کھولنے کے بعد تھوڑی دیر پڑا رہنے دیں تا کہ اس میں موجو د کاربونیشن کم ہوجائے اور آپ کے پیٹ میں بھی گیس کم بنے۔

سینڈوچ کا استعمال
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سینڈوچ میں انتہا درجے کی سوڈیم موجود ہوتی ہے جو گیس بناتی ہے لہذا اس عادت کو کم سے کم کردیں۔

پیک ہوئے کھانے کا استعمال
جیسا کہ ابھی بتایا گیا ہے کہ اگر کھانے میں سوڈیم کی زیادہ مقدار شامل ہوجائے تو یہ پیٹ میں ’گیس بم‘ بن جاتا ہے۔ بازار سے ملنے والے ڈبہ بند کھانے مثلاًسوپ، ٹماٹر کیچ اپ، سلاد وغیرہ بہت غذائیت والے کھانے لگتے ہیں لیکن اصل میں ان میں سوڈیم کی انتہا درجے کی مقدار پائی جاتی ہے لہذا جس قدر ہو سکے ان کھانوں سے بچیں۔

ڈائیٹ کھانے
سننے میں یہ کھانے بہت مفید لگتے ہیں کیونکہ یہ عام تاثر ہے کہ ان میں چینی کی بہت ہی کم مقدار پائی جاتی ہے لیکن جدید تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پیٹ میں گیس بنانے میں ڈائیٹ کھانوں کا بہت ہی زیادہ کردار ہے جس کی وجہ ان کا دیر سے ہضم ہونا ہے کیونکہ معدہ انہیں غذا نہیں سمجھتا اور بہتر ہضم نہیں کر پاتا جس سے گیس پیدا ہوتی ہے۔

لوبیا
لوبیا پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے اور اکثر کھانوں میں ہم اس کا بھرپور استعمال بھی کرتے ہیں لیکن اس میں کاربوہائیڈریٹس بھی بہت زیادہ مقدار میں موجود ہوتا ہے جس سے یہ دیر سے ہضم ہوتا ہے اور گیس پیدا ہوتی ہے۔

چیونگم یا کینڈیوں کا استعمال
اگر آپ ان اشیاءکا بہت زیادہ استعمال کرنا شروع کردیں تو آپ کا منہ ہر وقت مصروف رہے گا اور اس سے بھی گیس ہونے کا قوی امکان ہے لہذا ضروری ہے کہ چیونگم کم کردیں اور زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کریں کیونکہ یہ گیس کم کرنے میں مدد دے گا۔

سونے سے پہلے کھانا
جب بھی رات کا کھانا کھائیں تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ چہل قدمی کریں ۔ کھانا کھاتے ہی سونے سے معدے پر بوجھ پڑتا ہے اور گیس پیداہوتی ہے اسلئے ضروری ہے کہ کھانا کھا کر چہل قدمی کریں اور پھر سونے کے لئے لیٹا جائے

خوراک میں تبدیلی: اپنی روزمرہ خوراک میں تبدیلی لاکر جہاں انتڑیوں او معدے میں زیادہ گیس کی پیداوار میں کمی لائی جا سکتی ہے وہاں اس کے جلد اور باآسانی اخراج کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اپنی خوراک اور ان کی وجہ سے پیدا ہونے والے پیٹ میں گیس کے مسائل کا ایک تقابلی چارٹ مرتب کرنے سے آپ اپنے لیے ایسی غذاؤں کا انتخاب کر سکتے ہیں جو پیٹ میں گیس کے مسائل سے نجات میں مددگار ہوں۔ مندرجہ ذیل قسم کی غذاؤں سے اجتناب پیٹ میں گیس کے مسائل سے نپٹنے میں خاصا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈیری مصنوعات؛ چینی کے متبادل مستعمل مرکبات؛ تلی ہوئی اور چکنائی سے بھرپور غذائیں؛ کاربونیٹڈ مشروبات؛ فائبر سے بھرپور اضافی خوراکیں اور پانی کا بکثرت استعمال

Comments are closed.