10 مہنگی چیزیں، جن کے بارے میں آپ نے زندگی میں نہیں سنا ہوگا

این این ایس نیوز! قدیم کہاوت ہے کہ دولت سے خوشی نہیں خریدی جا سکتی ۔ یہ کسی حد تک درست ہے لیکن  دکھاوے کے اس جدید دور میں انسان  مہنگی اشیا خرید  کسی حد تک خوش ہو سکتا ہے۔دنیا بھر میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو بظاہر تو روز مرہ زندگی  میں استعمال ہوتی ہیں لیکن اُن کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ  ہر کوئی  انہیں نہیں خرید سکتا۔ کچھ ایسی ہی چیزوں کی فہرست درج ذیل ہے۔

1.    سکول: سوئزر لینڈ کے  Institut Le Roseyکی سالانہ ٹیوشن فیس 1 لاکھ 30 ہزار 500 ڈالر ہے۔ اس سکول میں 400 طلبہ پڑھتے ہیں، جن کے لیے 90 اساتذہ ہیں۔اساتذہ کے علاوہ سکول میں عملے کی تعداد 200 سے زیادہ ہے۔
2.    مائع: بچھو کے زہر کے ایک گیلن کی قیمت39 ملین ڈالر ہوتی ہے۔ اس زہر سے کینسر سمیت کئی بیماریوں کا علاج ہوتا ہے۔
3.    سیل فون نمبر: دنیا کا سب سے مہنگا سیل فون نمبر 6666666 ہے۔

یہ 27 لاکھ 50 ہزار ڈالر میں فروخت ہوا تھا ۔ اس نمبر کو 2006ء میں  قطر میں ایک فلاحی ادارے کے لیےنیلام کیا گیا۔  اس سےپہلے سب سے مہنگے نمبر کا ریکارڈ چینی نمبر 8888-8888 کے پاس تھا، جو 2 لاکھ 80 ہزار ڈالر میں فروخت ہوا تھا۔
4. ٹی بیگ:بروک بانڈ کی 75 ویں سالگرہ کےموقع پر  پی جی ٹپس نے 14 ہزار ڈالر مالیت کا ایک ٹی بیگ پیش کیا۔ اس ٹی بیگ میں 280 ہیرے جڑے تھے۔

5. کی بورڈ: جاپان میں  ہاتھوں سے بنائے گئے دنیا کے سب سے مہنگے کی بورڈ کی  قیمت 4240 ڈالر ہے۔6. کانٹیکٹ لینز: بھارت میں بنائے گئے کانٹیکٹ لینز کے ایک جوڑے کی قیمت 15 ہزار ڈالر ہے۔ اس میں سونے کی پلیٹ پر 18 ہیرے جڑے ہیں۔7. پنیر: دنیا کا سب سے مہنگا پنیر گائے  یا بکر ی سے حاصل نہیں کیا جاتا۔اسے گدھوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔

Pule Cheeseکو بالکان گدھوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کے ایک پاؤنڈ کی قیمت 600 ڈالر ہے۔ یہ تجارتی مارکیٹ میں دستیاب بھی نہیں ہوتا۔8. آئس کیوبز: کیلفورنیا کی ایک کمپنی  لگژری آئس کیوبز بناتی ہے۔ اسے ہاتھوں سے مکمل چوکور شکل میں ڈھالا جاتا ہے۔ 50 آئس کیوبز کی قیمت 325 ڈالر ہے۔9. ٹوائلٹ پیپر: آسٹریلین کمپنی سونے سے بنے ٹوائلٹ پیپر فروخت کرتی ہے۔

22 قیراط سونےکے ورق سے تیار ٹوائلٹ پیپر کا رول 1.38 ملین ڈالر میں فروخت ہوتا ہے۔ اسے استعمال کے لیےمحفوظ خیال کیا گیا جاتا ہے۔10. پرندے کا پر: ایک پرندہ ہویا (huia) 1907ء میں ناپید ہوگیا تھا لیکن اس خوبصورت پرندے کے پر آج بھی بہت مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں۔ 2010ء میں  ہونے والی ایک نیلامی میں ایک نامعلوم شخص نے 10 ہزار ڈالر میں ہویا کی دم کا ایک پر خریدا تھا، جو اسے دنیا کا سب سے قیمتی پر بناتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *