”میں نے اس پاکستانی سے پسند کی شادی کی اوراب دن رات رورہی ہوں کیونکہ ۔ ۔ ۔“آسٹریلیا میں مقیم بھارتی خاتون کا ایسا دعویٰ کہ تفصیلات جان کر آپ کو بھی اس شخص پر غصہ آجائے گا

سڈنی (ڈیلی پاکستان آن لائن)بیرون ملک جانیوالے ایشیائی باشندوں کی پہلی خواہش شہریت کا حصول اور پیسہ کمانا ہوتا ہے اور کئی ممالک میں لوگ صرف ”کاغذی شادیاں “بھی کرلیتے ہیں لیکن ایک بھارتی لڑکی نے دعویٰ کیا کہ سکالرشپ پر آسٹریلیا جانیوالے پاکستانی شہری نے اس سے اہلخانہ کو بتائے بغیر پسند کی شادی کی لیکن لڑکی سے پیسہ لے کر پاکستان آگیا جبکہ وہ پہلے ہی شادی شدہ تھا اور اب دسمبر کے آخری ہفتے میں تیسری شادی کاامکان ہے ۔ تاہم اس ضمن میں پاکستانی شہری کا موقف معلوم نہیں ہوسکا۔

روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے آسٹریلیا کے علاقہ ڈارون میں مقیم ہرجیت کورگل نے کہاکہ سکالرشپ پر پاکستانی شہری محمد نادر خان آسٹریلیا آیا تھا اوراسی دوران کلاس میں ہی ان کی پہلی ملاقات ہوئی تھی ۔ ہرجیت کور نے دعویٰ کیا کہ بات بڑھی تو نادر نے شادی کی پیشکش کردی ، کچھ وقت کیلئے مختلف مسائل اور کسی نتیجے پر نہ پہنچ پانے کی وجہ سے میں نے جواب نہیں دیا لیکن نادر کے پیار کااحساس دلانے اور خود کو نقصان پہنچالینے کے دعووں کے بعد پھرمیں نے ہاں کردی۔

شادی کرنے کے بعد میں نے اپنے والدین کو بتایا تو وہ مان گئے لیکن نادر گھر بتانے سے گریزاں رہالیکن پھر ایک دن اس کی پہلی شادی کی دستاویزات پکڑی گئیں تو نادر نے بتایاکہ یہ دراصل کنٹریکٹ میرج تھی اور دونوں الگ الگ مقیم تھے ۔

ہرجیت کور نے دعویٰ کیا کہ میں حاملہ ہوئی تو ہمارے پاس اخراجات کی رقم نہیں تھی کیونکہ میراخاوند بچے کا خواہشمند نہیں تھا، جھوٹ بول کر میں نے اپنے والدین سے رقم منگوائی ،کچھ ہسپتال خرچ ہوئی اور باقی ماندہ رقم سے نادرنے گاڑی خریدی اور شاپنگ کرلی کیونکہ کچھ دنوں بعد اسے پاکستان یعنی آبائی علاقے سیالکوٹ جانا تھالیکن سیالکوٹ روانگی سے قبل ہی نادر کا ویزا منسوخ ہوگیا تو میں نے جلدی سے ریزیڈنسی پرمٹ لے لیا تاکہ بھائی کی شادی کے بعد یہ واپس آسکے ۔

ہرجیت کاکہناتھاکہ 23اکتوبر کو آسٹریلیا سے جانے کے بعدرابطہ کرنا چھوڑدیا اوراس کے دوستوں نے بتایاکہ امریکہ میں کسی لڑکی کیساتھ دسمبر کے آخری ہفتے میں نادر کی شادی ہورہی ہے ،آسٹریلیا میں موجودگی کے دوران ہی شادی طے پاگئی تھی اور دونوں بھائی کی شادیاں اکٹھی ہیں، میں نے پوچھاتو کہنے لگا کہ لوگ کہتے رہتے ہیں ، اب آسٹریلیا نہیں، دبئی سیٹل ہوجائیں گے لیکن میرے بات کرنے کی کوشش پر مجھے بلاک کردیا اور بولا کہ جوکرنا ہے ، کرلو، میرے والدکے تعلقات کافی ہیں ، آپ کچھ بگاڑ نہیں سکتیں ۔

ہرجیت کور نے کہاکہ کئی کئی راتیں اس کی رو رو کر گزر جاتی ہیں، اس کی تصاویر دیکھ دیکھ کر ٹیلی فون کا انتظار کرتی رہتی ہوں ، میں نہیں چاہتی کہ کسی اور لڑکی کی زندگی خراب ہو ۔۔میں نے نادر کی پہلی بیوی سے بھی رابطہ کیا لیکن اس نے کنٹریکٹ میرج کی تردید کرتے ہوئے اپنی دکھ بھری داستان سنادی۔

بھارتی نژادخاتون کے دعوے پر جب روزنامہ پاکستان نے نادر سے رابطے کی کوشش کی تو ان کا موبائل فون نمبر بند ملا ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.