آپ کوپوری عیسائی دنیا میں کسی طوائف کا نام میری‘ مریم‘ رابیکا یا صفورا نہیں ملے گا ، مسلم ممالک میں بھی طوائفوں کے نام شمع ، نگینہ ، گوری اور نایاب جیسے ہوتے ہیں ، اس زبردست حقیقت کے پیچھے کیا کہانی چھپی ہے ؟ جاوید چوہدری کی خاص الخاص تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) مجھے پاکستان میں آج تک کوئی ایسا شخص نہیں ملا جس نے لاطینی امریکا کی سیاحت کی ہو‘ یہ لاطینی امریکا کے آدھے ملک بھی دیکھ چکے ہیں‘ مطالعے کی دائمی عادت کا شکار ہیں‘ روز دو تین گھنٹے پڑھتے ہیں‘ الیکٹرومیڈیکل انسٹرومنٹس کا کام کرتے ہیں‘ پورے ملک میں یورالوجی‘

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔گائنی اور لیور کے آلات سپلائی کرتے ہیں‘ اینڈوسکوپی اور لیور سکین میں مناپلی ہے‘ طبیعت میں تحمل اور خیالات میں روانی ہے‘ گفتگو سالڈ کرتے ہیں اور شوقیا ٹیلی فلمیں بناتے ہیں اور میں ایک دو ملاقاتوں میں ان کا فین ہوچکا ہوں۔مجھے شرم الشیخ اور لاہور میں ان کے ساتھ چند گھنٹے گزارنے کا موقع ملا‘ سردار صاحب نے ان چند گھنٹوں میں میرے چار خوف ناک مغالطے دور کر کے میرے علم میں بے تحاشا اضافہ کیا‘ سردار صاحب کا خیال ہے ہم مسلمان سبحان اللہ کی تسبیح کرتے ہیں لیکن دنیا کا بہترین سبحان اللہ کام ہے‘ آپ کوئی کارنامہ سرانجام دیں‘ آپ دیوار چین بنا دیں‘ بلب ایجاد کر دیں‘ کینسر کی دوا بنا دیں‘ آپ کوئی مفید کتاب لکھ دیں‘ آپ کوئی شان دار ایپلی کیشن بنا دیں یا آپ کوئی ایسی نظم‘ کوئی ایسی غزل یا کوئی ایسی دھن بنا دیں جسے سن کر‘ دیکھ کر یا محسوس کر کے دوسروں کے منہ سے سبحان اللہ نکل جائے اور یہ سبحان اللہ ہماری روزانہ کی تسبیحات سے بڑا سبحان اللہ ہو گا۔ان کا کہنا تھا سبحان اللہ جتنا ان ڈائریکٹ‘ جتنا عملی ہو گا یہ اتنا ہی پاورفل اور اتنا ہی بڑا ہو گا اور اس کا اتنا ہی ثواب ہو گا‘ سیاح دیوار چین دیکھ کر کیا کہتے ہیں ’’سبحان اللہ بنانے والوں نے کیا دیوار بنائی ہے‘‘ یہ فقرہ اصل سبحان اللہ‘ اصل تسبیح ہے‘ سردار صاحب کی بات میرے دل کو لگی‘ دوسرا ان کا کہنا تھا دنیا جہاں کی طوائفیں مذہبی ہوتی ہیں‘

آپ کوپوری عیسائی دنیا میں کسی طوائف کا نام میری‘ مریم‘ رابیکا یا صفورا نہیں ملے گا‘ آپ کو مسلمان طوائفوں کے نام بھی شمع یا پروانہ ٹائپ ملیں گے۔دنیا جہاں کی طوائفیں ادا فروشی سے پہلے اپنے نام تبدیل کرتی ہیں‘ یہ صدقہ خیرات بھی بہت کرتی ہیں اور تمام اسلامی تہوار بھی عام مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ خشوع و خضوع کے ساتھ مناتی ہیں‘ یہ ہر دوسرے تیسرے دن ختم بھی کراتی ہیں اور ان کے دن کا آغاز بھی مناجات سے ہوتا ہے‘ آپ نے کبھی سوچا ’’کیوں؟‘‘ میں نے جواب دیا نہیں‘ یہ بولے انسان کی نفسیات ہے یہ جتنا بڑا جرم کرتا ہے‘ یہ جتنا بڑا مجرم ہوتا ہے‘ یہ وکیل بھی اتنے ہی تگڑے اور زیادہ رکھتا ہے۔یہ طوائفوں کا گلٹ ہوتا ہے جو انھیں مذہب میں پناہ لینے پر مجبور کر دیتا ہے‘ مجھے ان کی یہ بات بھی ٹھیک لگی اور اس کے ساتھ ہی مجھے وہ تمام سیٹھ بھی یاد آ گئے جنھوں نے زندگی میں حرام کمانے کا کوئی موقع ضایع نہیں کیا لیکن آخر میں شہر کی سب سے بڑی مسجد بھی بنا دی‘ مدرسہ بھی اور اسپتال بھی‘ یہ اسپتال‘ مدرسہ‘ مسجد یا پھر لنگر شاید‘ شاید ان کے وکیل ہوں اور وہ یہ سمجھتے ہوں یہ عمارتیں دوسری زندگی میں ان کی وکالت کریں گی۔تیسرا سردار صاحب نے بتایا میرا ایک بزنس پارٹنر ہوتا تھا‘ وہ میری ساری رقم لے کر بھاگ گیا اور کمپنی میرے سر پر آ گری جس کے بعد میرے پاس دو آپشن تھے‘ میں یہ کاروبار جاری رکھتا یا پھر میں کمپنی بند کر کے نیا کام شروع کر دیتا‘

میں نے کاروبار جاری رکھنے کا فیصلہ کیا‘ میں جاپان چلا گیا اور اس کمپنی کے سی ای او سے ملا جس کی مشینیںہم پاکستان میں فروخت کرتے تھے‘ سی ای او نے مجھ سے پوچھا ’’تمہارے پاس رقم نہیں ہے‘ ہم تمہارے ساتھ کام کیوں کریں‘‘ میں نے اسے بتایا ’’میرے والد کہا کرتے تھے تمہارا سکہ رات کے وقت جس جگہ گرتا ہے وہ اگلی صبح تمہیں وہیں ملتا ہے چنانچہ تم کھویا ہوا سکہ کسی دوسری جگہ تلاش نہ کرو‘ اسی جگہ جائو جہاں یہ گرا تھا۔میرا سکہ کیوں کہ آپ کے دفتر میں گرا ہے لہٰذا یہ مجھے یہاں ہی ملے گا‘‘ وہ ہنسا اور اس نے میرے ساتھ کام شروع کر دیا اور میں چند ماہ میں دوبارہ قدموں پر کھڑا ہو گیا‘ مجھے سردار صاحب کی بات روشنی کا طویل راستہ محسوس ہوئی‘ ہم میں سے زیادہ تر لوگ ناکامی کے بعد پرانا بزنس‘ پرانی جاب اور پرانی سکل چھوڑ کر نئی کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں اور اس کاروباری ہجرت کے دوران یہ بھول جاتے ہیں یہ جس کام جس سکل کے ماہر ہیں‘ جس میں انھوں نے منافع بھی کمایا اور نقصان بھی برداشت کیا یہ اسے چھوڑ کر اس کام میں قدم رکھ رہے ہیں جس کی یہ الف ب بھی نہیں جانتے۔یہ لوگ لاہور میں گم ہونے والا سکہ راولپنڈی میں تلاش کرتے ہیں چنانچہ یہ کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں اور یہ اگر کامیاب ہو بھی جائیں تو انھیں پہلے سے زیادہ محنت اور زیادہ کام کرنا پڑے گا‘ سردار صاحب نے باتوں ہی باتوں میں مجھے ’’سیلف ہیلپ‘‘ کی بہت بڑی ٹپ دے دی اور آخری بات پچھلی تینوں سے زیادہ جان دار اور اسٹرائیکنگ تھی‘ سردار صاحب کا کہنا تھا‘ میں قرآن مجید کا ترجمہ پڑھ رہا تھا‘ میں جب سورۃ النساء کی 17 ویں اور18 ویں آیت پر پہنچا تو مجھے محسوس ہوا معافی اور توبہ کا بھی ایک وقت ہوتا ہے‘ ہم جب وہ وقت گزار دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ توبہ اور معافی کے دروازے بند کر دیتا ہے‘ مثلاً جوانی کی غلطیوں اور جرائم کی توبہ اور معافی کا وقت جوانی ہوتا ہے۔اقتدار‘ کامیابی اور خوش حالی کے دوران ہونے والی غلطیوں کا ادراک اور توبہ بھی اس عرصے کے دوران قبول کی جاتی ہے‘ آپ جب عہدے‘ دولت‘ کامیابی‘ اقتدار اور طاقت سے محروم ہو جاتے ہیں تو پھر آپ معافی اور توبہ کا وقت ضایع کر بیٹھتے ہیں پھر آپ کے لیے دروازے بند ہو جاتے ہیں‘ سردار صاحب کا فرمانا تھا ہمیں چاہیے ہم جس وقت غلطی‘ کوتاہی یا زیادتی کریں ہم اسی وقت معذرت کریں‘ ہم اسی وقت معافی مانگیں اور توبہ کریں‘ ہم شاید رتبہ اور عہدہ ختم ہونے کے بعد معافی کی سہولت سے محروم ہو جائیں‘ یہ نقطہ بھی میرے دل پر لگااور میں نے دونوں ہاتھ جوڑ کر سردار صاحب کا شکریہ ادا کیا۔(ش س م)

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

//graizoah.com/afu.php?zoneid=3437593