عورت

شام چار بجے میں اس کی دیہاڑی کے چھ سو روپے لیکر اس کے پاس پہنچا میں نے دور کھڑے ہو کر آواز دی انکل!ٹائم پورا ہو گیا ۔اس نے نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھا اس شدید سردی میں بھی اس کے چہرے سے پسینے کی بوندیں ٹپک رہیں تھیں اس نے اپنی پھٹی ہوئی قمیض کا دامن پکڑا اور اسی سے چہرا پونچھتے ہوئے بولا !میں نے دو گھنٹے اور کام کرنا ہے بھائی سے پوچھ آؤ دو سو زیادہ مل جائے گا ؟میں نے اثبات میں سر ہلا دیا اور وہ پھر سے کھدائی میں مصروف ہو

گیا :میں گھر لوٹا بھیا سے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے دو سو روپے اور تھما دیے اور کہا اسے آٹھ سو دے دو اور گھر بھیج دو ۔میں نے آٹھ سو روپے اسے دیے اور کام چھوڑ دینے کو کہا جس پر وہ بمشکل راضی ہوا وہ ایک طرف گیا۔اپنے پلاسٹک کے پرانے جوتے اٹھا کر پہنے بائیں پاؤں کا انگوٹھا جوتے کے آگے پھٹن کی وجہ سے بنے سوراخ سے باہر آ گیا! اس نے کدال کندھے پر رکھی اور شکریہ ادا کرتا ہوا چل دیا اس کے چہرے پر سخت تھکاوٹ کے باوجود فاتحانہ چمک سی تھی جس نے مجھے تجسس میں ڈال دیا اس نے نیچے دیکھا کچھ سوچا اور زیر لب مسکرایا جس سے میرے تجسس میں اور اضافہ ہو گیا ۔میں بھی اس کے ساتھ ساتھ چل پڑا اور ہمت کر کے اس آخری کیفیت کے بارے میں دریافت کر لیاکچھ اصرار پر اس نے بتایا کہ کل گاؤں میں شادی ہے بیوی نے نئے سوٹ کا مطالبہ رکھا تھا اس کیلیے پریشان تھا الحمد للہ اب پیسے پورے ہو گئے!دوکان سے جاتے ہوئے سوٹ لیکر جاؤں گا بس یہی سوچ رہا تھا ” کتنی خوش ہو گی وہ ” پتہ نہیں کب میری آنکھیں نم ہو گئیں تھیں میں نے اسے الوداع کیا اور یہ سوچتا ہوا گھر کی طرف لوٹا کہ کاش ہمیشہ نا شکری کرنے والی عورت کبھی مرد کے جذبات کو بھی سمجھ پاتی!
ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺭﺳﻮﻝ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺭﺳﻮﻝ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﻮﮞ :ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺟﺮﻣﻦ ﺑﺤﺮﯾﮧ ﮐﮯ ﺳﺮ ﺑﺮﺍﮦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ : ” ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺭﺳﻮﻝ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﻮ۔ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ” ﻣﯿﺮﺍ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ؟ ” ۔ﺟﻨﺮﻝ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ “: ﺗﻢ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺭﺳﻮﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﮨﮯ ” ۔ﻧﻮﺟﻮﺍن نے ﮐﮩﺎ : ” ﺗﻢ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﮍﮮ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﻮ؟ ” ۔ﺟﻨﺮﻝ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ “: ﻣﯿﺮﮮ ﺍﯾﮏ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﻓﻮﺟﯽ ﺟﻮﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯿﮟ 10 ﻣﻨﭧ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺻﻒ ﺑﺴﺘﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ”: ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻻﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯﺍﻥ ﮐﻮ ﺻﻒ ﺑﺴﺘﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺘﻨﺎ ﻭﻗﺖ ﻟﻮﮔﮯ؟ﺟﻨﺮﻝ : ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ 2 ﮔﮭﻨﭩﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﻟﭗ ﭨﺎﭖ ﺁﻥ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﺮﻡ ﻣﮑﯽ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻨﻈﺮ ﺟﻨﺮﻝ ﮐﻮ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ : ﺩﯾﮑﮭﻮ ﯾﮧ ﺗﯿﻦ ﻣﻠﯿﻦ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺻﻔﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺻﻔﯿﮟ ﺑﺎﻧﺪﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ،ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ،ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ،ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﻤﺮﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﯿﮟ،ﻣﺮﺩ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺑﮭﯽ،ﺑﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺑﮭﯽ،ﻣﻌﺬﻭﺭ ﺍﻭﺭﻣﺮﯾﺾ ﺑﮭﯽ ،ﻣﮕﺮ ﺍﯾﮏ ﺁﻭﺍﺯ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺻﻒ ﺑﺴﺘﮧﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻤﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ۔ﺟﻨﺮﻝ ﺣﯿﺮﺍﻧﮕﯽ ﺳﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ۔ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﯾﮧ ﺍﻣﺖ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﮨﮯ،ﯾﮧ ﺻﻔﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ،ﻋﻨﻘﺮﯾﺐ ﺻﻔﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﮏ ﻧﻌﺮﮦ حق ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺭﺍﺷﺪ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ،ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺍﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﮨﺴﺘﯽ ﺿﺮﻭﺭ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮتی ﮨﮯ،ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ کی ﮔﻮﺍﮦ ﮨﮯ ،۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.