ایسا پھل جو مرد کی قوت کو چالیس افراد کے برابر کر دیتا ہے

این این ایس نیوز! انسان کے دل و جسم کو تقویت دینے والی بے شمار جڑی بوٹیوں اور پھلوں کا ذکر طب نبویؐ میں ملتا ہے . تفصیلات کے مطابق ’’بہی ‘‘ ایسا پھل ہے جس کی شکل صورت سیب اور آڑو سے ملتی ہے . اس پھل کا ذکر احادیث مبارکہ میں کئی جگہ پر موجود ہے . بہی کا پھل کھانے والی خواتین کے ہاں خوبصورت بچے پیدا ہوتے ہیں جبکہ مرد کےکھانے سے چالیس افرادکے برابر طاقت آتی ہے .

بہی کے پھل میں کئی طرح کے وٹامن اور معدنیا ت شامل ہیں . بہی کا مربہ اس حوالے سے بہترین غذا ہے جو نہار منہ کھایا جائے تو دل کے عوارض سے بھی بچاتا ہے.حٖضرت طلحٰہ رضی اللہ عنہ بن عبید اللہ روایت فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ اس وقت اپنے اصحاب کی مجلس میں تھے.ان کے ہاتھ میں بہی تھا جس سے وہ کھیل رہے تھے. جب میں بیٹھ گیا تو انہوں نے اسے میری طرف کر کے فرمایا. “اے ابا ذر! یہ دل کو طاقت دیتا ہے سانس کو خوشبودار بناتا ہے اور سینہ سے بوجھ کو اتار دیتا ہے”.حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں.

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “بہی کھاؤ کیونکہ وہ دل کے دورے کو ٹھیک کر کے سینہ سے بوجھ اتار دیتا ہے”.حضرت انس رضی اللہ عنہ بن مالک روایت فرماتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “بہی کھانے سے دل پر سے بوجھ اتر جاتا ہے.” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بہی کھاؤ کہ دل کے دورے کو دور کرتاہے. اللہ نے ایسا کوئی نبی نہیں مامور فرمایا جسے جنت کا بہی نہ کھلایا ہو کیونکہ یہ فرد کی قوت کو چالیس افراد کے برابر کر دیتا ہے”.نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اپنی حاملہ عورتوں کو بہی کھلایا کرو کیونکہ یہ دل کی بیماریوں کو ٹھیک کرتا ہے اور لڑکے کو حسین بناتا ہے”.حضرت عوف رضی اللہ عنہ بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” بہی کھاؤ کہ یہ دل کے دورے کو ٹھیک کرتا اور دل کو مضبوط کرتا ہے”.بہی کو نہار مُنہ کھانا چاہیٔ بہی کو عربی میں سفر جل کہتے ہیں۔اسکی سب سے زیادہ کاشت ترکی میں ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی پہاڑی علاقوں میں دستیاب ہے۔تاہم پاکستان کے سوا دیگر ممالک میں اسکی کاشت تجارتی پیمانے پر ہوتی ہے۔ اطبا کا کہنا ہے کہ بہی کا مزاج بارد یابس ہے اور ذائقہ کے اعتبار سے اس کا مزاج بھی بدلتا رہتا ہے مگر تمام بہی سرد اور قابض ہوتی ہیں‘ معدہ کے لئے موزوں ہے‘ شیریں بہی میں برودت و یبوست کم ہوتی اور زیادہ معتدل ہوتی ہے ۔

ترش بہی کھانے سے قبض اور خشکی پید اہوتی ہے۔ بہی کی ساری قسمیں تشنگی کو بجھادیتی ہیں اور قے کو روکتی ہیں۔ پیشاب آوراور پاخانہ بستہ کرتی ہے‘آنتوں کے زخم کے لئے نافع ہے۔ اس کا مربہ معدہ اور جگر کو تقویت پہنچاتا ‘دل کو مضبوط کرتا اور سانسوں کو خوشگوار بناتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *