جنات سے مناظرہ کرنے والے ولی اللہ کا ایمان افروز واقعہ

اسلامی اور غیر اسلامی حکایات میں بھی جنات سے ملاقاتوں کا عام ذکر ملتا ہے۔جس کا واضح مطلب ہے کہ کائنات میں ایسی مخلوق موجود ہے۔میں نے چند روز پہلے اللہ کے ایک برگزیدہ بندے حضرت ابراہیم خواص کا ایک واقعہ پڑھا ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں نکلتے ہوئے انکی جنات سے ملاقات ہوئی اور ان سے علمی مباحثہ بھی ہوا،بات چیت میں کئی ایسی باتوں کا ادراک ہوا کہ جنات بھی شریعت کے پابند اور صالح ہوتے ہیں۔

حضرت ابراہم خواص دسویں صدی کے برگزیدہ ولی تھے اور ایران میں رہتے تھے ۔آپؒ نے جو واقعہ بیان کیا ہے آپ ان کی زبانی ہی سن لیں۔آپؒ فرماتے ہیں کہ ایک سال مَیں حج کو گیا۔ راستہ میں یکا یک میرے دل میں خیال گزرا کہ تو سب سے علیحدہ ہوکر شارع عام چھوڑ کر چل۔ مَیں عام راستہ چھوڑ کر دوسرے راستہ پر چلنے لگا۔ میں تین دن اور تین رات برابر چلا گیا لیکن مجھے کھانے کا خیال آیا نہ پینے کا، نہ کوئی دوسری حاجت پیش آئی۔ آخر کار ایک ہرے بھرے جنگل سے گزر ہوا، جہاں میوہ دار درخت اور خوشبو دار پھول تھے۔ وہاں ایک چھوٹا سا تالاب تھا۔ مَیں نے اپنے دل میں کہا یہ تو جنت لگتی ہے ۔ سخت تعجب میں تھا۔ اسی حال میں متفکر تھا کہ لوگوں کی ایک جماعت آتی نظر آئی ۔ان کے چہرے آدمیوں جیسے تھے۔ نفیس پوشاک پہنے اور خوبصورت ٹپکے سے آراستہ، آتے ہی ان لوگوں نے مجھے گھیر لیا اور سب نے سلام کیا۔ مَیں نے جواب میں وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا۔

پھر میرے دل میں خیال گزرا کہ شاید یہ لوگ جنّ ہیں اور یہ عجیب و غریب قوم ہے۔ اتنے میں ایک اُن میں سے بولا’’ ہم لوگوں میں ایک مسئلہ درپیش ہے اور باہم اختلاف ہے اور ہم لوگ قوم جنّ ہیں۔ ہم نے خدائے بزرگ کا کلام جناب رسالت مآب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے سن کرمقام عقبہ میں حضوری حاصل کی۔ حضرت محمد ﷺ کے کلام مبارک نے ہمارے تمام دنیا کے کام ہم سے لئے اور خدا وند تعالیٰ نے یہ مقام اسی جنگل میں ہمارے واسطے مقرر فرمادیا‘‘

میں نے دریافت کیا ’’ جس مقام پر ہمارے دوسرے ساتھی ہیں وہ یہاں سے کتنی دوری پر ‘‘
یہ سن کر ایک ان میں سے مسکرایا ور کہا’’ اے ابو اسحاق اسرار عجائب میں یہ مقام جہاں تو اس وقت ہے ،بجز ایک انسان کے آج تک کوئی نہیں آیا لیکن وہ انسان تیرے ساتھیوں میں سے تھا۔ اس نے یہیں وفات پائی اور دیکھ وہ اس کی قبر ہے ‘‘ اس نے قبر کی جانب اشارہ کیا۔ وہ قبر تالاب کے کنارے تھی۔ اس کے گرد باغیچہ تھا، جس میں پھل کھلے ہوئے تھے۔ ایسے پھول اور خوشنما باغ مَیں نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ پھر اس جنّ نے کہا’’ تیرے ساتھیوں اور تیرے درمیان میں اس قدر مہینوں اور برس کا فیصلہ ہے‘‘

ابراہیمؒ کہتے ہیں مَیں نے اُن جنوں سے کہا’’ مجھے اس جوان کے بارے میں کچھ بتاؤ‘‘
ان میں سے ایک بولا’’ہم یہاں تالاب کے کنارے بیٹھے تھے اور محبت کا ذکر کررہے تھے اور اس میں گفتگو ہورہی تھی کہ ناگاہ ایک شخص پہنچا اور ہمیں سلام کیا، ہم نے جواب دیا اور دریافت کیا کہ کہاں سے آئے ہو؟ اس نے بتایا کہ وہ نیشا پور سے ہے۔ ہم نے کہا کب چلے تھے؟ اس نے بتایا کہ سات دن ہوئے۔ پھر ہم نے کہا گھر سے نکلنے کی وجہ؟کہا میں نے اللہ تعالیٰ کا کلام’’و انیبوا الی ربکم ‘‘یعنی اللہ کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمابردار ہوجاؤ۔ قبل اس کے کہ تم پر عذاب آئے، پھر ہماری مدد نہ ہوگی۔ ہم نے کہا انابت تسلیم اور عذاب کے کیا معنے؟ جواب دیا انابت یہ ہے کہ اپنے آپ سے رجوع کرکے اس کا ہورہے‘‘
پھر کہا اور عذاب۔۔۔۔۔! اور ایک چیخ ماری اور مر گیا۔ ہم لوگوں نے اسے یہاں دفن کیا اور یہی اُس کی قبر ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو۔‘‘

ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ السلام کہتے ہیں مجھے اُن کے بیان اوصاف (خوبیوں) سے تعجب آیا۔ پھر میں قبر کے پس گیا تو اس کے سرہانے نرگس کے پھولوں کا بڑا گلدستہ رکھا ہوا پایا اور یہ عبارت لکھی دیکھی کہ یہاں ا للہ کے دوست کی قبر ہے۔ اسے غیرت نے مارا ہے اور ایک ورق پرانا بت کے معنی لکھے تھے۔ کہتے ہیں جو کچھ لکھا تھا میں نے پڑھا۔ قوم جنّ نے بھی اس کے معلوم کرنے کی درخواست کی۔ مَیں نے بیان کیا تو بڑے خوش ہوئے اور کہا ’’ہمیں ہمارے مسئلہ کا جواب مل گیا ہے‘‘
ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ السلام کہتے ہیں پھر میں سوگیا اور مجھے ہوش نہ آیا۔ اور جب بیدار ہوا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مسجد کے قریب اپنے آپ کو دیکھا۔ میرے پاس پھولوں کی پنکھڑیاں تھیں جن کی خوشبو سال بھر تک رہی پھر وہ خود بخود گم ہوگئیں۔

۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.