ایک گنجا اور تین دوست

لاہور(این این ایس نیوز)تین دوست سینما میں فلم دیکھنے گئے، وہاں کچھ کرسیاں چھوڑ کر اْنکے آگے ایک گنجا شخص آ کے بیٹھ گیا۔ فلم کے دوران ہی اِن تینوں کو شرارت سوجھی اور انہوں نے ایک دوسرے سے شرط لگائی کہ ہم میں سے جو بھی دوست اِس گنجے کے سر پر زور سے ہاتھمارے گا اْسے پانچ سو روپے ملیں گے۔۔۔!!! آخر ایک دوست تیار ہوگیا۔۔!! وہ اْس گنجے شخص کے پاس گیا 

اور زور سے اْس کے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا، “او شیدے! کیا حال ہے تیرا۔۔؟” گنجے شخص نے گھوم کر اْس کی طرف دیکھا اورغصے میں بولا، “ھیلو! تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے، میں شیدا نہیں ہوں۔۔!” ۔”اوھووو! سوری”۔۔۔!! اتنا کہہ کر وہ واپس آ گیا اور پانچ سو روپے لے لیے۔کچھ دیر بعد دوسرے دونوں دوستوں نے اپنے اِس دوست کو پھر اْکسایا کہ اگر اب کی بار تم اْس کے سر پر ہاتھ مارو گے تو ہزار روپے ملیں گے، پہلے تو وہ تھوڑا سا ہچکچایا لیکن پھر راضی ہوگیا۔اِس بار اْس نے گنجے کے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا، “دیکھو یار! مذاق مت کرو، مجھے پتہ ہے تم شیدا ہی ہو۔۔۔!!!” اِس بار تو وہ گنجا شخص غصے سے لال پیلا ہو گیا اور اپنی کرسی سے اْٹھتے ہوئے بولا، “تمہیں ایک بار کہا کہ میں شیدا نہیں ہوں تو تمہیں سمجھ نہیں آتی۔۔!”۔ وہ دوست “سوری” کہہ کر پھر واپس اپنی سیٹ پر آگیا اور اْسے ہزار روپے مل گئے،

اِس دوران وہ گنجا شخص غصے میں ہال سے اْٹھ کر اوپر باکس میں جا کر بیٹھ گیا۔ اِس بار پھر دونوں دوستوں نے اْسے کہا اگر اب کی بار تم اْسے مار کے آؤ تو تمہیں پندرہ سو روپے ملیں گے۔، تھا تو بہت مشکل لیکن وہ پھر ہمت کر کے باکس میں جا پہنچا وہاں اْس کے سر پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے بولا، “اوے شیدے! تم یہاں باکس میں بیٹھے ہوئے ہو میں نیچے ہال میں پتہ نہیں کس کو مارتا رہا ہوں۔آج کی بہترین پوسٹس پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں۔اس کی بیٹی کو کینسر تھا۔میں نے دیکھا تو گھر میں بہت زیادہ سامان اکٹھا ہو گیا تھا اور رکھنے کے لیے جگہ کم پڑ گئی تھی تو میں نے اپنے چودہ سالہ بیٹے سے بولا کہ کیوں نہ ایک گیراج سیل لگائیں اور تمام فالتو، فضولیات بیچ دیں۔ کسی ایک کا بے جا سامان کسی دوسرے کا خزانہ بن سکتا ہے۔ میرے بیٹے نے کہا کہ ٹھیک ہے پاپا جیسے آپ کو ٹھیک لگے۔ اگلے دن ہم نے گیراج سیل لگا دی۔ محلے سے بہت سے لوگ آئے اور کافی سامان بک بھی گیا لیکن میرا بیٹا زیادہ تر وقت اپنے سمارٹ فون کے ساتھ ہی چپکا رہا۔ آج کل کے بچوں کو عجیب سی بیماری ہے کہ دن رات اپنے فون کی سکرین کے ساتھ ایسے چپکے رہتے ہیں کہ اللہ جانے اس میں کونسی اہم وڈیو چل رہی ہو۔ابھی ہم سامان بیچ ہی رہے تھے کہ ایک ماں بیٹی اس طرف آنکلے۔ ماں نے بتایا کہ اس کی بیٹی کی عمر صرف چار سال تھی اور ابھی کچھ دیر پہلے اس کا کینسر تشخیص ہوا ہے۔ ۔ یہ سن کر مجھے بہت دکھ ہوا کہ اس کی بیٹی کو کینسر تھا۔ میرے بیٹے نے پہلی بار اپنے فون سے نگاہ ہٹائی اور اس بچی کی طرف دیکھا۔ میرا بیٹا سب کچھ سن رہا تھا۔ اس بچی نے میرے بیٹے سے پوچھا کہ بھائی یہ چھوٹا والا بھالو کتنے کا ہے؟وہ میرے بیٹے کاشف کے پسندیدہ کھلونوں میں سے ایک تھا اور اس کے بچپن کی نشانی تھا۔ میرے بیٹے نے بولا کہ مجھے ایک دفعہ اپنی سب سے بڑی مسکراہٹ دکھاؤ۔ اس بچی کی بانچھیں کھل گئیں اور وہ ہنسنے لگی تو میرے بیٹے نے بولا: او ۔۔۔واؤ۔۔میں نے آج تک اتنی پیاری مسکراہٹ نہیں دیکھی ۔۔یہ تو اتنی پیاری تھی کہ اس کے لیے تو میں تمہیں ایک ملین ڈالر دے دوں تو یہ بھالو کیا چیز ہے۔ تو لویہ آپ کا ہوا۔بچی چھلانگیں لگا رہی تھی اور میں پہلی بار اپنے بیٹے کی اس حرکت پر بہت فخر محسوس کر رہا تھا۔ ہماری چھوٹی چھوٹی نیکیاں کبھی کبھی دوسروں کو اتنی خوشی دیتی ہیں کہ ان کا دل موہ لیتی ہیں۔ چھوٹی سی زندگی ہے اور ہر ایک پریشانی کے ایک نا تھمنے والے طوفان میں گھرا ہوا ہے، ایسے میں اپنے ارد گرد چھوٹی چھوٹی خوشیاں بانٹنے سے ہم دنیا کورہنے کے لیے ایک بہتر جگہ بنا سکتے ہیں۔ آج کل کے بچے ہر وقت فون، کمپیوٹر اور ٹی وی کی سکرینوں کو چپکے رہتے ہیں اور کبھی کبھار ایسی باتوں پر بہت غصہ آتا ہے لیکن ان کے دل بہت صاف ہوتے ہیں اور جہاں ضرورت پڑتی ہے تو یہ ہماری جینیریشن کو ایسے ایسے انمول سبق دے جاتے ہیں کہ میں اکثر حیران رہ جاتا ہوں کہ یہ اتنے عقلمند کیسے ہو جاتے ہیں۔ شاید یہ اپنی سکرینوں پر ہر وقت ان انگریزوں کو دیکھتے ہیں جو مسلمان تو نہیں لیکن ان کی تمام اقدار مسلمانوں والی ہوتی ہیں۔ ملنساری،عاجزہ، کم سے کم دکھاوہ، اس لیے ہمارے بچے ضرور سنور گئے ہیں۔

Comments are closed.