کالج کی لڑکی

لکھنئو (مانیٹرنگ ڈیسک)کسی بھی انسان کی عادات و خصائل کے بارے میں جن لوگوں کو سب سے زیادہ معلومات ہوتی ہیں۔ وہ اس کے خاندان کے افراد یا قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں۔ لیکن بسا اوقات گھر کے ملازمین کو بھی ایک لمبا عرصہ کسی گھر میں گزارنے کےبعد گھر کے افراد اور ان کی عادات کا بخوبی اندازہ ہوجاتاہے ۔ اور بعض چیزیں تو ایسی ہوتی ہیں جن

کا ملازمین کو اندازہ ہوجائے تو وہ ایک طرح سے مالک کسی ملازم یا ملازمہ کے سامنے بلیک میل بھی ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر لکھنئو میں بھی ایک جواں سالہ لڑکی کو اپنی ملازمہ کی وجہ سے بلیک میلنگ کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ گیا ۔سوشل میڈیا کے ایک صارف پون چیٹرجی نے بتایا کہ اس کا ایک دوست حضرت گنج مارکیٹ میں کاسمیٹکس کی دوکان چلا تا ہے۔ وہ نوجوان ہے اور اسے بنائو سنگھار میں اور لڑکیوں سے دوستیاں کرنے میں بڑی دلچسپی ہے۔ اور اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کو خود اس نے ہی مجھے سنایا ہے اس کے پاس کالج کی ایک لڑکی اپنی ملازمہ کے ساتھ آیا کرتی تھی۔ اور دوکان پر آتے ہی وہ لڑکی اپنی ملازمہ کو کچھ چیزیں لانے کے بہانے دوسری جگہوںپر بھیج دیا کرتی تھی۔ اور پھروہ ملازمہ تقریباً ایک آدھ گھنٹے کی مٹر گشت کے بعد واپس اس دوکان پر آتی ۔اس اثنا میں وہ لڑکا اس لڑکی کو دوکان کے ملحقہ کمرے میں لے جاتا اور دونوں پیار کی پینگیں پڑھانے لگ جاتے ۔ ایسا لگ بھگ چھ یا سات مرتبہ ہوا۔ جس کے بعد ملازمہ جس

کی عمر 15یا 16سال ہو گی کو شک ہو گیا۔ آخری بار بھی ایسا ہی ہوا۔ لڑکی نے دوکان پر آکر ملازمہ کو چھوٹی چھوٹی درجن بھر چیزوں کی لسٹ تھما دی اور اسے پیسے بھی دیے ۔اب یہ معلوم نہیں کہ ملازمہ کو کسی نے لڑکی کی ریکی کرنے کا کہا یا پھر خود اس کا دل کیا کہ اپنی مالکن کو رنگے ہاتھوں پکڑ لے۔وہ چیزیں لانے کی بجائےچند ہی منٹ میں گھوم کر واپس دوکان پر آگئی ۔ اس نے دیکھا کہ دوکاندااور وہ لڑکا دوکان پر نہیں ہیں تو وہ دبے پیروں اندر آئی اور جھٹ سے دوکان کے اندر موجود ایک دروازہ کھول دیا ۔ جہاں نیم روشنی میں اس کی جواں سالہ مالکن اس دوکان والے بابوکے ساتھ تقریباً برہنہ حالت میں لگ لپٹ رہی تھی ۔ اور وہ لڑکا لڑکی کے شرمناک چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا۔ دونوںنے ایک دم سے دروازہ کھلا دیکھا تو ان کا رنگ فق ہو گیا۔ ملازمہ نے صرف اتنا دیکھا اور دروازہ بند کر کے پیچھے ہٹ گئی۔ دونوں اپنی حالت درست کرکے باہر آئے تو ملازمہ نے بہانہ بنایا کہ چیزوں کی خریدار ی کےلئے اس نے جو لسٹ لی تھی وہ بے دھیانی میں کہیں گم کر دی۔اس واقعے کے بعد دوبارہ وہ لڑکی کبھی دوکان پر نہیں آئی۔ البتہ ایک روز کچھ لڑکے دوکان پر آئے ۔ اور دوکاندار پر لڑکیوں کو چھیڑنے کاالزام لگا کر میرے دوست کو مار پیٹ کر چلے گئے ۔ اور سامان کی بھی توڑ پھوڑ کی ۔کیاملازمہ نے جاتے ہی مالکن کی شکایت کی تھی؟ کیا ملازمہ نے اسے بلیک میل کیا تھا؟ ان سوالو ںکی تاحال کوئی وجہ سامنے نہیں آسکی

..

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.