سردیوں میں گرم دودھ جلیبی کے فائدے

این این ایس نیوز! جلیبی کی حیثیت پاکستان کی قومی مٹھائی کی سی ہے یہ سال کے بارہ مہینے بنائی جاتی ہے اور اس کو کھانے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہی ہو رہا ہے ، چینی کے شیرے میں ڈوبی بل کھاتی جلیبی جب حلوائی کی کڑھائی سے باہر نکلتی ہے تو اس کی لذت کے بارے میں سوچ کر دیکھنے والے کے منہ میں پانی بھر آتا ہے-

سردی کے موسم میں یہی جلیبی جب گرم گرم دودھ میں ڈبو کر کھائی جاتی ہے تو اس کی حیثیت صرف ایک مثھائی کی نہیں رہتی ہے بلکہ یہ یونانی حکما کے مطابق ایک طاقت فراہم کرنےوالے کشتے میں تبدیل ہو جاتی ہے اور بیش بہا طبی فوائد کی حامل غذا بن جاتی ہے دودھ جلیبی کو کھانے کے اہم طبی فوائد کچذ اس طرح سے ہوتے ہیں- 1: سردی سے بچاتی ہے دودھ اور جلیبی کا ملاپ کیلشیم، پروٹین اور کاربوہائيڈریٹ سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ جسم کو فوری توانائی فراہم کرتی ہے اور جسم میں گرمی مہیا کرتی ہے جو کہ سردی کے اثرات کا خاتمہ کرتی ہے اور جسم کو سردی سے مقابلہ کرنے کی طاقت فراہم کرتی ہے- 2: جسم کے درد کو دور کرتی ہے سردی کے موسم میں ہڈیوں میں درد ہونا ایکعام سی بات ہوتی ہے خاص طور پر جوڑوں کے درد کے مریض اس موسم میں ان دردوں سے بہت پریشان نظر آتے ہیں- ایسے مریض دن میں ایک بار دودھ جلیبی کا استعمال کریں اس سے ان کی ہڈيوں کی سوزش میں نہ صرف کمی واقع ہو گی بلکہ دودھ جلیبی کی گرمی سے دردوں میں بھی آرام ملے گا- 3: پٹھوں کے کھنچاؤ کو ختم کرتی ہے انسانی جسم میں پٹھے جسم کو نہ صرف حرکت دینے میں استعمال ہوتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تمام اہم افعال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں- مگر سردی کے موسم میں ان میں سوزش اور سختی کے باعث شدید درد کی شکایت ہو سکتی ہے اس صورت میں دودھ جلیبی کا ایک پیالہ نہ صرف ان پٹھوں کی سوزش کا خاتمہ کرتا ہے بلکہ ان میں گرمی فراہم کر کے ان کی نقل و حرکت میں آسانی پیدا کرتا ہے-: نزلہ زکام میں افاقہ ناک کا بند ہو جانا یا پھر نزلہ کا بہنا بخار اور سردرد کا سبب بن سکتا ہے

اس صورت میں گرم چیزوں کا استعمال نہ صرف اس کیفیت کا خاتمہ کرتا ہے بلکہ دودھ جلیبی کا روزانہ استعمال اس سے محفوظ رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے- 5: ڈپریشن سے نجات جلیبی کی مٹھاس انسان کے خوش ہونے والے ڈوپامائن کے افراز کا سبب بنتی ہے جس سے انسان کا موڈ بہتر ہوتا ہے اور اس کے استعمال سے وہ خوشی محسوس کرتا ہے اور اس کو ڈپریشن سے بھی نجات ملتی ہے

Comments are closed.