پرسرار بیماری کی وجہ سے عورت کے دانتوں میں بال اگ آئے کیوں کہ ایسا کام اکثر لوگ کرتے

این این ایس نیوز! آپ نے بہت عجیب بیماریوں کے بارے میں سنا ہوگا لیکں ایک طبی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں  ایک  اطالوی عورت  کے عجیب و غریب کیس  بیان کیا گیا ہے، جن کے منہ کے اندر  مسوڑوں پر پلکو ں کی طرح کے  بال اُگ آتے ہیں۔خاتون، جن کا نام نہیں بتایا گیا، نے دس سال  تک مختلف ڈاکٹروں کے  پاس چکر لگایا اور انہیں بتایا کہ اُن کے دانتوں میں بال اُگ آتے ہیں۔وہ پہلی بار 19 سال کی عمر میں ڈاکٹروں کے پاس گئیں۔

طبی تاریخ میں اس طرح کی بیماری کے چند واقعات ہی ملتےہیں۔خاتون کے ٹسٹ کیے گئے تو معلوم ہوا کہ  اُن کے رحم میں رسولی ہے۔ بعد میں انہیں polycystic ovary syndrome بھی تشخیص کیا گیا۔ پی سی او ایس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اُن میں نارمل سے زیادہ ٹیسٹرون پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے ذیلی اثرات میں hiruitism کی بیماری بھی ہو جاتی ہے، جس سے بالوں کی بڑھوتری زیادہ ہوتی ہے

طبی تاریخ میں اس طرح کی بیماری کے چند واقعات ہی ملتےہیں۔خاتون کے ٹسٹ کیے گئے تو معلوم ہوا کہ  اُن کے رحم میں رسولی ہے۔ بعد میں انہیں polycystic ovary syndrome بھی تشخیص کیا گیا۔ پی سی او ایس میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اُن میں نارمل سے زیادہ ٹیسٹرون پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے ذیلی اثرات میں hiruitism کی بیماری بھی ہو جاتی ہے، جس سے بالوں کی بڑھوتری زیادہ ہوتی ہے۔

خاتون کا علاج کرنے والے اطالوی ڈاکٹروں نے اُن کی بیماری کے بارے میں 2009 میں ایک مقالہ شائع کیا تھا۔ خواتین میں بالوں کی غیر معمولی بڑھوتری کے کیس پہلے بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ خواتین کے چہرے، چھاتیوں اور کمر پر غیر معمولی بال اگتے رہتے ہیں لیکن منہ میں بال اگنے کے کیس انتہائی نایاب ہیں۔
اپنے مقابلے میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ انہوں نے خاتون کے  منہ سے بال نکال دئیے جس کے بعد یہ کچھ سالوں تک دوبارہ نہیں اگے۔

تاہم 6 سال کے بعد 25 سال کی عمر میں یہ خاتون پھر اسی شکایت کے ساتھ ڈاکٹروں کے پاس آئیں۔ اب ان کی علامات پہلے سے بھی بدتر ہو چکی تھیں۔ اب اُن کی گردن اور ٹھوڑی پر بھی بھورے بال تھے۔ خاتون نے بتایا کہ انہوں نے کچھ وجوہات، جو مقالے میں نہیں بتائی گئیں، کی بنا پر پی سی او ایس کی ادویات لینا بند کر دی تھیں، جس سے ڈاکٹروں کو اندازہ ہوا کہ polycystic ovary syndrome ہی بالوں کی غیر معمولی بڑھوتری کی وجہ ہے۔

خاتون کو ماہر در افرازیات (endocrinologist) کے پاس بھیج دیا۔ خاتون کو تین مہینے بعد واپس آنا تھا لیکن وہ ایک سال بعد آئیں۔اب اُن کے نیچے اور اوپر کے   مسوڑوں پر بھی بال اُگ چکے تھے۔مقالے کی مصنفہ اور اُن کے ساتھیوں  کے مطابق خاتون نےا یک بار پھر پی سی او ایس کی ادویات لینا بند کر دیں تھی، جس کے بعد اُن کی بیماری مزید بڑھ گئی۔مقالے کی مصنفہ کے مطابق حیاتیاتی طور پر منہ میں بال اگنا ممکن ہے کیونکہ رحم میں منہ کے ٹشوز انہی قسم کے خلیات سے بنتے ہیں، جن سے ہماری جلد بنتی ہے اسی لیے نظریاتی طو ر پر ہمارے منہ کے اندر بھی بال اگ سکتے ہیں۔

Comments are closed.