سعودی خاتون کا انوکھا کام

این این ایس نیوز! موجودہ دور میں ہر تعلیم یافتہ مرد و خاتون کا یہی خواب ہوتا ہے کہ اُسے اس کی تعلیمی صلاحیت کے مطابق ایسی ملازمت مِلے، جس کے باعث اُس کا سماجی مرتبہ بڑھے اور معاشی حیثیت مضبوط تر ہو۔ اسی وجہ سے اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بہتر ملازمت کی تلاش میں اپنی زندگی کے کئی قیمتی سال ضائع کر دیتے ہیں اور اپنی انا میں رہتے ہوئے بے روزگاری کا عذاب جھیلتے ہیں۔

ان لوگوں کے خیال میں معمولی ملازمت یا عام ڈھنگ کا کاروبار کرنا ان کی تذلیل کا باعث بنے گا۔ تاہم ایک سعودی اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون اس سوچ کی سخت مخالف ہے۔ فوزیہ الزہرانی اس وقت میڈیا کی خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے۔ اس سعودی خاتون نے بزنس مینجمنٹ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔

یہاں تک کہ وہ الباحہ یونیورسٹی میں لیکچرار کے عہدے پر بھی فائز رہی، تاہم پھر اس نے یہ ملازمت چھوڑ کر اپنا قہوہ خانہ قائم کر لیا۔اُردو نیوز کے مطابق فوزیہ الظہرانی نے سعودی مملکت میں اپنا قہوہ اور مٹھائی بیچنے کا چھوٹا سا کاروبار شروع کر رکھا ہے جس کے لیے اس نے رقم کسی سے بطور قرض لی تھی۔ فوزیہ الزہرانی نے بتایا ”میں 2015 میں امریکہ سے واپس آئی تھی۔وہاں میں نے میڈیکل سینٹرز اور تجارتی مراکز میں کام کیا تھا۔ تاہم میرا مقصد امریکہ میں کاروبار کرنا یا پیسہ کمانا نہیں بلکہ تجربات حاصل کرنا تھا۔

میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ کوئی ایسا اچھوتا کام کروں جس سے معاشرے کی خدمت ہو اور حلال روزی میرے گھر میں آئے۔ اسی دوران میں نے قہوہ تیار کرنے او رطرح طرح کی مٹھائیاں بنانے پر توجہ دی۔میں نے قہوے اور مٹھائیوں کی ایسی دُکان تیار کی ہے جسے آپ جدید و قدیم کا حسین امتزاج قرار دے سکتے ہیں۔ مجھے کام سے دیوانگی کی حد تک پیار ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی نے مجھے رضاکارانہ خدمات پر’ گولڈ کی ‘کے اعزاز سے نوازا گیا۔

اپنے گھر والوں کی شکر گزار ہوں جنہوں نے میری تعلیم و تربیت میں کبھی کوئی کوتاہی نہیں چھوڑی۔ شاید وہ مجھے یونیورسٹی میں کامیاب دیکھنا چاہتے تھے مگر میں نے نجی کاروبار کو ترجیح دی۔ مجھے یقین ہے کہ میرے اس کاروبار سے نہ صرف مجھے بلکہ میرے خاندان اور وطن کو بھی فائدہ ہوگا۔ ہموطن لڑکیاں آگے آئیں میں نے ان کی مدد کروں گی۔“فوزیہ کا کہنا تھا کہ قہوے میں خوبصورت اضافہ کوئی عمدہ اور منفرد ذوق رکھنے وال شخص ہی کر سکتا ہے۔

Comments are closed.