شادی کا جھانسہ دے کر نوجوان کو کتنا عرصہ قید میں رکھا جانیں

کراچی (این این ایس نیوز) سندھ ہائیکورٹ نے پولیس والوں کی جانب سے نوجوان کو شادی کا جھانسہ دے کر قید کیے جانے کے معاملے پر متاثرہ کو معاوضہ دینے کا حکم دے دیا۔

گھوٹکی پولیس کی جانب سے ایک نوجوان ’عبداللہ‘ کو یہ جھانسہ دیا گیا کہ وہ چند ہفتوں کیلئے محراب شر نامی عادی مجرم کی جگہ چند ہفتوں کیلئے جیل چلا جائے تو اس کی شادی محراب شر کی بیٹی سے کرادی جائے گی۔ پولیس نے نوجوان عبداللہ کو محراب شر کے طور پر عدالت میں بھی پیش کیا اور اسے تین سال تک قید کیے رکھا۔

عدالت کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد پولیس اہلکاروں کے جھانسے میں آکر تین سال جیل میں قید کاٹنے والے شخص کو رہائی نصیب ہوئی۔ منگل کے روز سندھ ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ متاثرہ شخص کو معاوضہ دیا جائے۔ عدالت نے اے آئی جی لیگل کو حکم دیا ہے کہ اعلیٰ افسران سے مشاورت کرکے آئندہ سماعت پر آگاہ کیا جائے کہ متاثرہ شخص کو کتنا معاوضہ دیا جائے گا۔

Comments are closed.