قائد اعظم اپنی قبر میں کس حال میں موجود ہیں ؟انھوں نےمولانا طارق جمیل کو خواب میں کیا بتایا ؟ جانیں 

این این ایس نیوز !محمد علی جناح پیدائشی نام، محمد علی جناح بھائی، ایک نامور وکیل، سیاست دان اور بانی پاکستان تھے۔ محمد علی جناح 1913ء سے لے کر پاکستان کی آزادی 14 اگست 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ رہے، پھر قیام پاکستان کے بعد اپنی وفات تک، وہ ملک کے پہلے گورنر جنرل رہے۔ سرکاری طور پر پاکستان میں آپ کو قائدِ اعظم یعنی سب سے عظیم رہبر اور بابائے قوم یعنی قوم کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔

1940ء تک جناح کو یہ یقین ہو چلا تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک علاحدہ وطن کی جدوجہد کرنی چاہیے۔ اسی سال، مسلم لیگ نے جناح کی قیادت میں قرارداد پاکستان منظور کی جس کا مقصد نئی مملکت کی قیام کا مطالبہ تھا۔دوسری جن.گ عظیم کے دوران، آل انڈیا مسلم لیگ نے مضبوطی پکڑلی جبکہ ان ادوار میں کانگریس کے کئی رہنما قید کاٹ رہے تھے اور جنگ کے ختم ہونے کے مختصر عرصے میں ہی انتخابات کا انعقاد ہوا، جس میں جناح کی جماعت نے مسلمانوں کے لیے مختص نشستوں میں سے بڑی تعداد جیت لی۔ اس کے بعد آل انڈیا کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ متحدہ ہندوستان میں اختیارات کے توازن کے لیے کسی صیغے پر متفق نا ہو سکے نتیجتاً تمام جماعتیں اس امر پر متفق ہوگئیں کہ ہندوستان کے دو حصے کیے جائیں جن میں ایک مسلم اکثریتی علاقوں میں پاکستان جبکہ باقی ماندہ علاقوں میں بھارت کا قیام ہو۔

مولانا طارق جمیل کی قائد اعظم کیساتھ گفتگو
مولانا طارق جمیل نے اپنے ایک بیان میں قائد اعظم کا ذکر کرتے هوئے بتایا کہ انہیں آج سے چند سال پہلے خواب میں قائد اعظم کی زیارت ہوئی.

“میں نے خواب دیکھا کہ ہم گاؤں میں ہیں. میں اور جناح گھوڑا گاڑی پر بیٹھے ہیں. گھوڑا گاڑی کا ڈرائیور مسلسل گالیا.ں دے رہا ہے اور بار بار یہی کہہ رہا ہے کہ پاکستان کیوں بنایا، کیوں لوگوں کو لٹوایا، کیوں لوگوں کے گھر اجاڑے، کیوں بچے، بوڑھے مروا.ئے. یہ سن کر قائد اعظم غم زدہ ہوجاتے ہیں اور جیسی ہی گھوڑا گاڑی والے کی گالیاں ختم ہوتی ہیں تو قائد کہتے ہیں کہ میں نے تو پاکستان مسلمانوں کے لیے بنایا تھا. یہ کہہ کر قائد گاڑی سے نیچے اتر جاتے ہیں اور میں بھی انکے ساتھ ہی اتر جاتا ہوں. پھر میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اے قائد آپکا قبر میں کیا حال ہے؟ تو جواب میں کہنے لگے میں بہت آرام سے ہوں، مجھے روزانہ بہت زیادہ ایصال ثواب ہو رہا ہے تو میں بہت سکوں سے ہوں.”

Comments are closed.