پاکستان میں ڈالر اتنی تیزی سے کیوں بڑھ رہا ہے بہت اہم ترین وجہ سامنے آگئ ڈالر اور دوسری کرنسیوں کے تازہ ریٹ جانیں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) انٹربینک میں ڈالر17 پیسے مہنگا ہوگیا۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق تازہ اضافے کے بعد ڈالر160 روپے 73 پیسے سے بڑھ کر 160 روپے 90 پیسے کا ہو گیا۔واضح رہے کہ پاکستان میں ڈالر کی قیمت تنزلی کے بعدایک بار پھر تیزی کیساتھ بڑھنا شروع ہو چکی ہے۔

ادائیگیوں اوردرآمدی شعبوں کی طلب بڑھنے سے گزشتہ ہفتے ڈالر کی قیمت رک گئی تھی۔زرمبادلہ کی مارکیٹوں میں گزشتہ ہفتے امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ تنزلی کا شکار رہا۔ انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 3 ہفتوں کی بلند ترین سطح پہنچ گئی ہے۔گزشتہ کاروباری ہفتے کے دوران ڈالر کی قیمت میں انٹر بینک میں 160جبکہ کے اوپن مارکیٹ میں 161ہو گئی ہے۔ ماہرین کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ کرونا ویکسینز کے کامیاب تجربوں اور عالمی مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں میں بحالی کا اشارہ ملنے کے بعد ڈالر کی مانگ میں اضافہ دیکھنے کو آرہا ہے۔ حکومت کی جانب سے کوویڈ ادویات کی درآمدات کو امپورٹ ڈیوٹی فری کرنے کے اعلان سے مستقبل میں ڈالر کی قدر بڑھنے کی افواہیں بھی زیرگردش رہیں۔گزشتہ ہفتے امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ، یورو کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو آیا ہے۔ انٹربینک میں ڈالر کی قدر 2.56 روپے بڑھ کر 160روپے 72پیسے پر بند ہوئی جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی

قدر2اعشاریہ 90پیسے کے اضافے سے161 روپے پر بند ہوئی۔انٹربینک مارکیٹ میں یوروکرنسی کی قدر بڑھ کر 190.79 روپے پرآگئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں یوروکرنسی کی قدر 6 روپے بڑھ کر 191 روپے ہوگئی۔ انٹربینک میں برطانوی پاونڈ کی قدر5.11 روپے بڑھ کر 213.21 روپے ہوگئی جب کہ اوپن مارکیٹ میں برطانوی پاو?نڈ کی قدر 6 روپے بڑھ کر 213 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

پاکستانی روپے کو رگڑا لگنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ڈالر روز بروز تگڑا ہوتا جا رہا ہے۔ روپے کی بے قدری کی وجوہات کیا ہیں اور کیوں ڈالر کی قدر آسمان کو چھو رہی ہے؟ ذہنو میں ابھر ہوئے سوالات۔ اصل وجوہات کا پتہ چل گیا۔

ڈالر رے ڈالر تیری کون سی کل سیدھی؟ آخر پاکستان میں ڈالر کیوں بیش قیمت ہوا جا رہا ہے؟ روپیہ کیوں اپنی قدر کھوتا جا رہا ہے؟ یہ ہیں وہ سوال جو آج کل ہر ذہن میں ابھر رہے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ڈالر مہنگا نہیں ہو رہا بلکہ روپیہ ناتواں ہو رہا ہے۔ ماہرین معاشیات کی رائے میں اس کی وجہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی غلط معاشی پالیسیاں اور نگران حکومت کا انکو ٹھیک نہ کرنا ہے۔

عالمی مارکیت میں لین دین عموما ڈالرز میں ہوتا ہے۔ اگر برآمدات کم ہوں اور درآمدات زیادہ تو برآمدات کے عوض کم ڈالرز وصول ہوتے ہیں جبکہ درآمدات کی مد میں زیادہ ڈالرز خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ یوں ملک میں ڈالرز کی کمی ہو جاتی ہے جس کے باعث یہ مہنگا ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر ملک میں مہنگائی زیادہ ہو تو اس کا مطلب ہے زیادہ پیسے خرچ کر کے کم چیزیں آتی ہیں۔ یعنی ملکی کرنسی اپنی قدر کھو رہی ہے۔ یوں ڈالر مہنگا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر مناسب سطح پر نہ ہوں تو روپے کی قدر مستحکم نہیں رہتی۔

وطن عزیز کے عوام کے ساتھ بھی یہی ہاتھ ہوا ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے غلط معاشی اقدامات نے روپے کی قدر کو متاثر کیا ہے۔ اگر درست مالی پالیسیاں بنائی جاتیں اور روپے کو مستحکم کرنے کے اقدامات کیے جاتے تو آج روپیہ اتنا لاغر نہ ہوتا۔ اسحاق ڈار کے بعد نہ تو مفتاح اسماعیل اور نہ ہی نگران وزیر خزانہ نے اس طرف توجہ دی۔ بس یہ کیا کہ ڈالر کو بے لگام چھوڑ دیا اور روپے کی بے قدری کو روکنے کے لئے عملی اقدامات نہ کیے۔

Comments are closed.