آسمان سے گرنے والے پتھر کا کیا ہوا

یہ خبر پوری دنیا میں شہ سرخی بنی تھی۔ انڈونیشیا میں گاؤں کے ایک گھر میں ایک شہابی پتھر چھت توڑ کر اندر داخل ہو گیا تھا۔ لوگ سمجھے کے اس کی مالیت لاکھوں ڈالر ہوگی اور شاید اس شخص کی زندگی ہمشیہ کے لیے بدل جائے۔

خیال تھا کہ اس کی قیمت 18 لاکھ ڈالر کے قریب ہوسکتی ہے اور اس سے یہ شخص راتوں رات ارب پتی بن سکتا ہے۔ یہ بھی سوچا گیا کہ اگر وہ ارب پتی نہ بنا تو شاید اسے سستے میں کسی امریکی خریدار کو ہی بیچ دے۔

لیکن ان میں سے کوئی بات سچ ثابت نہ ہوئی۔ یہ شہابی پتھر نہ تو لاکھوں ڈالر کا ہے اور نہ ہی اس شخص کو کسی نے دھوکہ دیا۔ تمام خواب اس طرح پورے نہیں ہوئے جیسے سب کا خیال تھا۔

گھر پر خلا سے ایک پتھر گرتا ہے۔۔۔
چلیں دوبارہ اس کہانی کو دہرا لیتے ہیں۔ یہ سچ ہے یا فرضی کہانی، سوچ کر بہت حیرت ہوتی ہے۔

انڈونیشیا میں سماٹرا کے جزیرے میں ایک گاؤں کا رہائشی جوسوا ہوتگالنگ پیشے سے تابوت ساز ہے۔

اگست میں اس دن وہ اپنے کام سے مطلب رکھ رہا تھا جب اس نے گھر میں اوپر سے اونچی آواز سنی۔ کچھ سیکنڈز بعد گھر سے کوئی چیز ٹکرائی اور کافی شور مچا۔

پہلے تو جوسوا اتنے ڈرے ہوئے تھے کہ وہ دیکھنا بھی نہیں چاہتے تھے کہ یہ کیا چیز ہے۔ پھر انھوں نے دیکھا کہ یہ نامعلوم چیز اپنی رفتار اور قوت سے دھات کی چھت توڑ کر اندر داخل ہوجاتی ہے اور زمین میں 15 سینٹی میٹر اندر دب جاتی ہے۔

وہ کھدائی کر کے اس چھوٹے پتھر کو نکال لیتے ہیں جس کا وزن دو کلو گرام ہے۔

انھوں نے بی بی سی انڈونیشیا سروس کو بتایا تھا کہ ’جب میں نے اسے اٹھایا تو یہ ابھی بھی گرم تھا۔‘

’اس وقت میں نے سوچا کہ جس چیز کو میں اٹھا رہا ہوں شاید یہ آسمان سے آیا شہابی پتھر ہے۔ کسی کے لیے اتنا بڑا پتھر گھر کی چھت پر پھینکنا ناممکن تھا۔‘

ایسا روز روز تو نہیں ہوتا کہ آسمان سے کوئی پتھر آپ کی چھت پر گِرے۔ تو جوسوا نے اپنے اس حیرت انگیز تجربے سے متعلق فیس بک پر پوسٹ کردیا۔ اس طرح یہ خبر سماترا اور انڈونیشیا سے چلتی ہوئی پوری دنیا میں پھیل گئی۔

شہاب ثاقب ایسے قدیم اور نایاب پتھر ہوتے ہیں جو خلا سے زمین پر اچانک اور اتفاقاً گِر جائیں۔

سائنس کی دنیا میں ان میں کافی دلچسپی پائی جاتی ہے۔ ان سے ایسے سوالوں کے جواب ڈھونڈے جاتے ہیں کہ یہ کہاں سے آئے، یہ کس چیز سے بنے ہوئے ہیں اور یہ ہمیں کائنات کے بارے میں کیا بتاتے ہیں۔

اس کے علاوہ بہت سے لوگ انھیں جمع کرنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔ شہاب ثاقت چار ارب سال سے زیادہ پُرانے ہوسکتے ہیں، یعنی ہماری دنیا سے بھی بڑے۔ تو اس سے یہ بات سمجھ آسکتی ہے کہ ان میں اتنی دلچسپی کیوں پائی جاتی ہے۔

انھیں جمع کرنے والے افراد جوسوا کے پتھر میں دلچسپی لینے لگے اور ان سے اسے خریدنا چاہتے تھے۔ لیکن اگست میں کورونا وائرس کی عالمی وبا مزید پھیل گئی، کاروبار بند ہوگئے اور انڈونیشیا جانے کے لیے پرواز ملنا مشکل ہوگیا۔

اس پر ممکنہ خریداروں نے امریکہ سے آئے انڈونیشیا میں اپنے ایک ساتھی جیرڈ کالنز سے رابطہ کیا جو ان کی طرح شہاب ثاقب کو جمع کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ انھوں نے جیرڈ سے مدد مانگی۔

اس طرح جیرڈ سماترا گئے اور جوسوا سے ملے۔ انھوں نے اس شہابی پتھر کا معائنہ کیا، اس کی تصدیق کی اور یہ کوشش کی کہ یہ پتھر بہتر طریقے سے رکھا جاسکے۔ مثال کے طور پر، پانی لگنے سے یہ شہاب ثاقب جلد خراب ہوسکتا تھا۔

اس امریکی شہری نے بی بی سی کو رواں ہفتے بتایا کہ ’یہ موقع بہت خوشگوار ہے کہ آپ ایک ایسا پتھر ہاتھ میں پکڑ سکیں جو ہماری کائنات کی تخلیق کے ابتدائی مراحل کی باقیات میں سے ایک ہے۔‘

’میں نے فوراً اس میں مخصوص سیاہ اندرونی حصہ، اور ہلکا خاکی بیرونی حصہ دیکھا۔‘ انھوں نے بتایا تھا کہ اس کی یہ شکل اور رنگ آسمان میں سفر کے دوران بنے ہیں۔

’اس کی ایک مخصوص خوشبو ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔‘

پھر ایک دن ایک امریکی خریدار اور جوسوا نے اس کی قیمت پر اتفاق کر لیا اور شہاب ثاقب بیچ دیا گیا، جس میں جیرڈ نے دونوں میں رابطہ کروایا۔

دونوں فریقین نے زور دیا تھا کہ خفیہ رکھی جانے والی یہ رقم صحیح ہے اور اس ڈیل میں کسی کا نقصان نہیں ہو رہا۔ تاہم یہ رقم شہ سرخیوں کے اندازوں سے کافی دور تھی۔

ممکنہ سونے کی کان
تو یہ 18 لاکھ ڈالر مالیت کا اندازہ کہا سے آیا تھا؟ یہ بیچنے والے پُرامید شخص اور لوگوں کے غلط اندازوں کا نتیجہ تھا۔

دو کلو گرام کے اس بڑے پتھر کے علاوہ جوسوا کے گھر کے قریب اس شہاب ثاقب کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بھی گِرے ملے تھے۔ ان میں سے کئی ٹکڑوں کو فروخت کیا گیا اور کچھ کو تو امریکہ میں ویب سائٹ ای بے پر بھی ڈال دیا گیا۔

انڈونیشیا، شہاب ثاقب، قیمت
0.3 گرام کے ٹکڑے کی قیمت 285 ڈالر جبکہ 33.68 گرام کے ٹکڑے کی قیمت 29120 ڈالر لگائی گئی تھی۔ اس حساب سے ایک گرام کی قیمت 860 ڈالر بنتی ہے۔ اگر اس طرح دیکھا جائے تو دو کلو گرام کے اس پتھر کی قیمت 18 لاکھ ڈالر بن جاتی ہے۔

ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی میں سکول آف ارتھ اینڈ سپیس ایکسپلوریشن میں ریسرچ پروفیسر لارینس گاروی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’جب میں نے اس رقم کو دیکھا تو مجھے ہنسی آئی۔‘

اس شعبے میں بین الاقوامی ماہر ہونے کی حیثیت سے انھوں نے سماترا میں گِرنے والے اس شہابی پتھر کا معائنہ کیا اور اس کی قسم کو دیکھ کر اسے باقاعدہ ایک فہرست میں شامل کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے پہلے بھی کئی بار ایسی کہانیاں دیکھی ہیں۔ کسی کو شہابی پتھر ملتا ہے اور وہ ای بے پر اس کے خریدار ڈھونڈتا ہے اور سوچتا ہے کہ اس کی قیمت لاکھوں ڈالر ہوگی کیونکہ اس کی کم مقدار بھی بڑی قیمت پر فروخت ہوئی ہوتی ہے۔‘

’خلا سے آئی مٹی کی ایک گیند‘

لیکن اس کا یہ طریقہ نہیں۔
پروفیسر گاروی کے مطابق ’لوگ حیرت میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ یہ چیز دنیا سے بھی پُرانے ہے اور یہ خلا سے گِری ہے۔‘

’تو ممکن ہے لوگ اس کے چھوٹے ٹکڑے کے لیے بھی سینکڑوں یا ہزاروں ڈالر دینے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن کوئی بھی اس بڑے پتھر کے عوض لاکھوں ڈالر نہیں دے گا۔‘

در حقیقت جب اس چیز کا حجم زیادہ ہو تو اس کی قیمت نیچے چلی جاتی ہے۔

ماورائے زمین مٹی کی گیند، شہابی پتھر
وہ یہ تسلیم نہیں کرتے کہ کوئی بھی ای بے پر دی ہوئی قیمت پر ہی یہ چیز خرید سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہوسکتا ہے کہ اس سے آدھی قیمت پر یہ چیز خرید لی جائے۔

تو اگر اس شہابی پتھر کی ’مارکیٹ ویلیو‘ یا قیمت کا اندازہ لگانا ناممکن ہے تو سماترا کے اس پتھر کی اصل قیمت کیا ہوگی؟

پروفیسر گاروی کے مطابق اس کا 70 سے 80 فیصد حصہ مٹی کا بنا ہے۔ ’بنیادی طور پر یہ خلا سے زمین آنے والی مٹی کی ایک گیند ہے۔‘

’اس میں اکثر حصے آئرن، آکسیجن، میگنیشیئم، ایلومینیئم اور کیلشیئم کے ہوتے ہیں۔ ان کی قیمت شاید ایک ڈالر ہو۔ یا کھلے دل سے دو ڈالر۔‘

ان کے مطابق شاید یہ زمین کے ماحول سے ایک میٹر کی دوری پر ہوگا جب یہ اس میں داخل ہوا اور اندر آنے سے ٹوٹ پھوٹ گیا۔ صرف اس کے کچھ حصے زمین تک پہنچے اور ان میں سے ایک جوسوا کے گھر پر آ گِرا۔

ابتدائی زندگی کی تخلیق کا ذریعہ
شہاب ثاقب کے بارے میں ایک چیز واضح ہے کہ سائنس کی بنیاد پر ان کی قدر و قیمت بہت زیادہ بنتی ہے۔

سماترا میں ملنے والے پتھر میں کاربنوشس کونڈرائٹ نامی مرکب پایا جاتا ہے۔ ارتھ آبزرویٹری سنگاپور کے جیسن سکاٹ ہیرن کے مطابق ’یہ ابتدائی سولر سسٹم کے باقیات میں سے ہے اور یہ دنیا بننے سے قبل ان واقعات پر روشنی ڈال سکتا ہے جو اس کے قیام کی وجہ بنے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ان میں ایسے نامیاتی مرکبات ہوتے ہیں جو زمین کے قیام کے وقت سے اس سے ٹکرا رہے ہیں۔ ان کے مطابق شاید یہی ابتدائی زندگی کی تخلیق کا ذریعہ بنے ہوں۔

ان کے مطابق ان میں شہاب ثاقب کی کسی بھی قسم سے زیادہ خلائی امینو ایسڈ ہوتے ہیں اور ایک عام مفروضے کے مطابق انہی سے ابتدائی زندگی کا قیام ممکن ہوا۔

اس کا مطلب جوسوا کو ملنے والا پتھر اور ایسے کئی شہاب ثاقب زمین پر ابتدائی زندگی کی تخلیق پر خوج سے متعلق سائنسدانوں کی مدد کر سکتے ہیں۔

اس سائنسی اہمیت کو شاید لاکھوں ڈالر میں ناپا نہ جاسکے۔ لیکن یہی بنیادی وجہ ہے کہ لوگ شہابی پتھروں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

بشکریہ: BBC News

Comments are closed.