آخر یہ لنڈے کے کپڑے آتے کہا سے ہیں‌

این این ایس نیوز!لاہورریلوےاسٹیشن برطانوی حکومت نےتعمیرکیا۔اس اسٹیشن کی تعمیرکاٹھیکامیاں محمد سلطان چغتائی کوعطاکیاگیا۔جوشاہی مغل ِسلطنت کےسابقہ شہزادےبھی تھے۔میاں محمدسلطان چغتائی ہی وہ شخصیت ہیں جنھوں نےلاہور ریلوے اسٹیشن کےعقب میں واقع لاہور لنڈابازارکی بنیادرکھی۔لاہورلنڈابازارشہر کا سب سےپرانابازارہے۔جوقیام پاکستان سے پہلےہی قائم ہوچکاتھا۔اس لنڈابازارمیں پہلے ملٹری کےپرانےکپڑے فروخت ہوتےتھے۔بعدمیں یہاں لندن سےمال آناشروع ہوگیا۔جس میں صرف پینٹ شرٹ وغیرہ ہی آتی تھیں۔تاہم بعد میں لوگوں کی ضروریات کے پیش نظرجوتےکپڑے،بیگ قالین اوردیگراشیاء بھی آنا شروع ہوگئیں۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے لنڈابازاروں تک یہ مال کہاں سےاور کیسے پہنچتاہے؟لنڈابازارمیں پرانے کپڑے اوردوسرا سامان پہنچنے کی روداد بھی بہت لمبی ہے۔

رقی یافتہ ممالک میں فیشن بہت تیزی سے بدلتاہے۔اوروہاں کےلوگ بالخصوص خواتین ملبوسات کی خریداری میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔وہاں کپڑوں کی دھلائی بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔جہاں کپڑاذراپراناہوا،استعمال کرنےوالےنےپھینکااوربازارسےجاکرنیاخریدلیا۔جب گھرمیں چندفالتوکپڑے جمع ہوگئےلوگوں نےانہیں چرچ میں پہنچایا،یارفاہی اداروں کودیدیا۔برطانیہ،امریکا اور دیگر مغربی ملکوں میں ہر سال خصوصاً کرسمس کے موقع پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے استعمال شدہ کپڑے خیراتی مقاصد کے لیے رفاہی تنظیموں کو عطیہ کردیتی ہے۔ان لوگوں کو یقین ہوتا ہے کہ ان کے استعمال شدہ کپڑے ان کے ملک کے ضرورت مندوں کے کام آجائیں گے یا ایشیا اور افریقہ کے غریب لوگوں کو مفت فراہم کیے جائیں گےمال کےخریدار ان کی گریڈنگ کرکےقیمت کا تعین کرتے ہیں۔

اورپھر اسکی فیومیگیشن کرکےمختلف وزن کےبنڈل بنواکربرآمد کردیتےہیں۔کہاجاتاہے کہ لنڈابازارکےکپڑوں سےایک خاص قسم کی بو آتی ہے،وہ بو اسی فیومیگیشن کی ہوتی ہے۔یہ سارا مال کراچی پورٹ پر آتاہے۔جہاں پر مال کے ساتھFumigation Certificate واضح طورلگایاجاتاہے۔اس کے بغیر مال کو آنے جانے نہیں دیا جاتا۔اس سرٹیفکیٹ کا مطلب ہوتاہے کہ ما ل صاف ستھرا ہے۔لنڈا بازار میں یہ سارا مال کوریا، جاپان، کینیڈا،امریکہ، جرمنی،فرانس ، برطانیہ، ہالینڈ بلکہ پورے یورپ سے آتاہے۔پاکستان پہنچنے کےبعد یہ مال تاجروں کے گوداموں میں پہنچادیاجاتاہے۔ان مارکیٹوں سےچھوٹے تاجر مال خرید کر نہ صرف پاکستان کےتمام شہروں میں پہنچادیتےہیں

Sharing is caring!

Comments are closed.