کنواں کھودتے ہوئےکیا نکلا سب کی دوڑیں لگ گئی

این این ایس نیوز :چند دن پہلے میں‌ کراچی کی طرف رواہ دواں تھا کہ راستے میں‌گاڑی نے دھوکا دے ڈالا . خراب گاڑی کو کسی طرح‌ورکشاپ تک لے کر گیا . گاڑی مکینک کے حوالے کر ساتھ والے ہوٹل میں‌چائے کے لئے بیٹھ گیا .

ارد گرد کا جائزہ لیا تو ایک بڑی عمر کے بابا نظر آئے جو کہ حقہ پی رہے تھے . تھجکاوٹ‌تھی تو سوچا کہ میں‌تھوڑا سا حقہ پی لوں کہ تھکاوٹ کچھ کم ہو . بابا کے پاس جا کر بیٹھا اور پوچھا کہ اگر اجازت ہو تو میں‌بھی ایک دو کش لگاؤ. بابا رنگین مزاج تھے بڑے پیار سے کہا بچے ایک کیا جنتا دل کریں‌کش لگاؤ. خیر حقہ کےساتھ گپ شپ لگی تو اس دوران بابا جی ایک عجیب کہانی سنائی . بابا جی نے کہانی سناتے ہوا کہا . بیٹا میرے والد کہتے تھے کہ یہاں‌جو چوہدری ہے انہوں‌نے ایک دفعہ باہر سے مزدور بلوائے کنواں کھودن ے کے لئے کیونکہ فصلوں‌ کو پانی کی ضرورت تھی . تو ایک دن کھدائی کرتے ہوئے ایک مزدور کنواں‌میں‌گر گیا لیکن لوگ اس بات پر حیران ہوئے کہ کنویں‌میں‌اس مزدور کی لاش نہیں‌مل رہی تھی . خیر کنویں‌کو بند کر دیا گیا تا کہ مزید نقصان نہ ہو . چوہدری

صاحب اس کے کچھ سال بعد خود بھی مر گئے پھر ان کی اولاد بڑھی ہوئی اور جب انہوں‌نے کھیتوں‌کے لئے ٹیوب ویل بنانی چاہی تو قدرت سے اسی جگہ کا انتخاب کیا جہاں‌یہ واقعہ پیش آیا تھا . جب کنواں‌کھودتے ہوئے مزدور نیچھے گئے تو انہیں‌ایک دھوتی ملی . انہوں‌نے مزید کھدائی کی تو انہیں‌ایک جگہ پر سراخ‌نظر آیا جب اس کو تھوڑا بڑا کیا تو آدمی چیختے ہوئے باہر آیا اور کہا کہ نیچے کوئی ہے . جب دیکھا تو ایک بابا جی لیٹے ہوئے ہیں‌جن کی دآڑھی بالکل سفید ہے حتی کہ بھنویں‌بھی سفید ہیں‌خیر کسی طرح سے ان کو نکالا گیا . کچھ دن تک تو وہ کچھ بول ہی نہیں‌رہے تھے کچھ ہفتہ بد جب انہوں‌نے بولنا شروع کیا تو پتا چلا کہ یہ وہی مزدور ہے . جس کی تصدیق علاقہ کے لوگوں‌نے بھی کی . اس بابا جی سے جب پوچھا گیا تو بابا نے کہا کہ جب میں‌گرا تو میں‌نے بہت آوازیں‌دی لیکن کسئ نے بھی شاید آواز نہ سنی اس کے بعد میں نے دیکھا کہ روز ایک گائے میرے پاس آتی ہے اور اس کا دودھ میں‌استعمال کرتا ہوں یہاں‌تک کے آپ لوگوں نے مجھے زندہ نکال لیا . یہ بابا جی 10 سال مزید زندہ رہے اور پھر طبعی موت سے مر گئے . بابا جی قصہ ختم کیا تو میری گاڑی تب تک ٹھیک ہو چکی تھی میں‌سوچتے ہوئے وہاں‌سے اٹھا کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چھکے .

Sharing is caring!

Comments are closed.