گھڑی کی سوئی ہمیشہ ایک خاص سمت میں‌کیوں‌چلتی ہے

این این ایس نیوز:کبھی آپ نے سوچا کہ گھڑی ہمیشہ ایک خاص سمت کی طرف ہی کیوں‌حرکت کرتی ہے یعنی بائیں‌سے دائیں‌جانب گھڑی کی سوئی کیوں‌گھومتی ہے کبھی اس کی وجویات پر غور کیا ہے اس طرح گھومنے کو کلاک وائس پوزیشن بھی کہتے ہیں‌دراصل اس کے پیچھے صدیوں‌کی مشق ہے ۔انسانی تاریخجو بھی بڑی تہذیب گزری وہ شمالی کرہ ارض کی جانب تھی جہاں لوگ وقت کی تعیین کے لئے سورج کا سہار لیا کرتے تھے۔مصری اور بابل کی تہذیبوں میں (تقریباً3500قبل مسیح) وقت کو جانچنے

کے لئے زمین میں‌ایک چھڑی گاڑ دی جاتی جب سورج کی روشنی اس پر پڑتی تو سایہ میں‌حرکت محسوس ہوتی جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑی ہوتی جاتی اور اس کا رخ بدلتا جاتا . یہی سے انسان کے دماغ میں یہ تصویر بیٹھ گئی جس کو بعد میں‌آنے والوں‌نے اپنایا ۔ اگر کرہ جنوبی میں دیکھیں تو یہی سایہ ”انٹی کلاک وائز“ چلے گالیکن جنوب میں کوئی بڑی تہذیب نہ بن سکی لہذا گھڑی کی اس سمت کے اصول کو اپنایا گیا۔تقریباً1500قبل مسیح میں ایک طریقہ sundialsکے نام سے انسانوں کے

استعمال میں آچکا تھا اور قرون وسطیٰ میں بھی یہ بہت مقبول رہا،اس طریقے میں ایک آلے کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا وہ سورج ڈھلنے کے ساتھ وقت بتاتا۔یورپمیں زمانہ قدیم کے کلاک اس sundialsکے اصول کو فالو کرتے ہوئے بنائے گئے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.