مرنے کے قریب شیطان انسان کے کان میں کیا کہتا ہے

این این ایس نیوز :موت ایک ایسی تکلیف ہے جس کا مقابلہ کوئئی بھی تکلیف نہیں کر سکتی ۔ ایک دفعہ موسی علیہ السلام ایک جگہ جا رہے تھے کہ راستے میں ایک قبر نظر آئی ۔ انہوں نے اللہ سے سوال کیا کہ میرے لئے اس مردہ کو زندہ کر دے ۔ اللہ نے ان کو فرمایا کہ اللہ کا نام لے کر اس مردہ کو پکارو۔ انہوں نے ایسا ہی کیا تو وہ مردہ اپنے قبر

سے نکل آیا اور اس کے بال سفید ہو چکے تھے ۔ موسی علیہ السلام نے ان سے پوچھا کہ آپ کون ہو ۔ اس نے کہا کہ میں تو حضرت شیث کی اولاد میں سے ہوں اور مجھے مرے ہوئے ہزار سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے ۔ تو آپ سے پوچھا کہ بتاوتمہارے بال کیوں سفید ہوئے ہیں تو اس نے کہا کہ جب آپ نے مجھے پکارا تو میں سمجھا قیامت کی گھڑی شاید آچکی ہے اس لئے خوف سے میرے بال سفید ہوگئے ہیں ۔ آپ نے ان سے پوچھا اچھا بتاؤ کہ موت کے وقت کتنی تکلیف ہوتی ہے تو اس نے کہا کہ جناب مجھے ابھی بھی موت کے وقت نکلنے کی تکلیف محسوس ہو رہی ہے ۔

اگر انسان نیک ہوتا ہے تو اس کا دماغ اس کی زبان کو کلمہ اے شہادت کی ہدایت دیتا ہے اور اگر انسان کافر مشرک بددين یا دنیا پرست ہوتا ہے تو اس کا دماغ كنفیوژن اور ایک عجیب ہیبت کا شکار ہو کر شیطان کے مشورے کی پیروی ہی کرتا ہے اور انتہائی مشکل سے کچھ لپھ ذ زبان سے ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے ۔

آخر میں دماغ کی روح بھی کھینچ لی جاتی ہے آنکھوں روح کو لے جاتے ہوئے دیکھتی ہیں اس آنکھوں کی پتلیاں اوپر چڑھ جاتی ہیں یا جس سمت فرشتہ روح كبذ کرکے جاتا ہے اس طرف ہو جاتی ہیں ۔اس کے بعد انسان کی زندگی کا وہ سفر شروع ہوتا ہے جس میں روح تکلیفوں کے تہہ خانوں سے لے کر آرام کے محلات کی آہٹ محسوس کرنے لگتی ہے

Sharing is caring!

Comments are closed.