مچهلی کی اسکن کھانے کے کچھ ذبردست فائدے

این این ایس نیوز:مچھلی کا گوشت جانوروں سے حاصل ہونے والی پروٹین کا سب سے بہترین ذریعہ ہے جسے انسان ہزاروں سالوں سے بطور خوراک استعمال کر رہا ہے اور ایک اندازے کے مُطابق پاکستان سمیت دُنیا بھر میں 150 ملین ٹن مچھلی ہر سال کھائی جاتی ہے۔

اور کوئی شک نہیں کہ مزیدار اور غذائی اجزا سے بھر پُور یہ خوراک ہماری صحت پر بہت سے اچھے اثرات مرتب کرتی ہے مگر کیا مچھلی کی یہ خصوصیات مچھلی کی سکن میں بھی موجود ہوتی ہیں؟۔

اس آرٹیکل میں ہم جانیں گے کہ کیا مچھلی کی سکن کھانا بھی مُفید ہے اور اسے کھانے کا کوئی نقصان تو نہیں۔

کیا مچھلی کی سکن کھائی جا سکتی ہے
بہت سے لوگ مچھلی کھانا تو پسند کر تے ہیں مگر مچھلی کے گوشت سے سکن اس لیے اُتار دیتے ہیں کیونکہ اُن کے نزدیک اسے کھانا ٹھیک نہیں ہے مگر درحقیقت ایسی کوئی بات نہیں۔

مچھلی کو اگر اچھی طرح صاف کیا گیا ہو اور اس کی جلد کے اوپر سے سکیلز کو مکمل طور پر اُتارا گیا ہو تو مچھلی کی سکن بھی گوشت کے ساتھ کھانا گوشت کی غذائی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔

کُچھ مچھلیاں ایسی ہیں جن میں فاسد مادے جیسے مرکری وغیرہ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور یہ مقدار اُن کی جلد میں بھی موجود ہوتی ہے اس لیے ایسی مچھلی کا انتخاب کر نا زیادہ ضروری ہے جس میں یہ فاسد مادے کم ہوں خاص طور پر شنگاری، رہو، ٹیونا، چڑا مچھلی، سیلمن وغیرہ ایسی مچھلیاں ہیں جن میں ان مادوں کی مقدار کم ہے۔

سکن کی غذائی صلاحیت اور صحت کے لیے فائدے
کسی فش کی سکن میں کتنی غذائی صلاحیت ہے یہ اس مچھلی کی نسل اور سائز پر منحصر ہوتا ہے اور مچھلی کی سکن عام طور پر درجہ ذیل نیوٹرنٹس جن میں پروٹین، اومیگا تھری، وٹامن ڈی، ای، ایوڈین، سلینیم، ٹاورین جیسے صحت کے لیے مُفید اجزا شامل ہوتے ہیں جو ہماری صحت کو کئی طرح فائدہ دیتے ہیں۔

پروٹین
مچھلی کا گوشت اور جلد دونوں ہی پروٹین حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں اور یہ پروٹین ہمارے مسلز کو بنانے کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔

پروٹین مسلز کے علاوہ بہت سی بیماریوں سے بھی بچانے کا باعث بنتی ہے جس میں نشوونما میں کمی، آئرن کی کمی اور جسم میں سوزش جیسی بیماریاں سر فہرست ہیں۔

اومیگا تھری فیٹی ایسڈ
چربی والی مچھلی سے حاصل ہونے والا یہ فیٹی ایسڈ مچھلی کی سکن میں بھی پایا جاتا ہے اور ہماری صحت کو بہت سی بیماریوں سے بچاتا ہے خاص طور پر دل کو لاحق ہونے والی بیماریاں، خون لیجانے والی شریانوں کی بندش اور دماغ کی بیماریوں میں انتہائی مُفید چیز ہے۔

ہماری جلد کو بہتر بناتی ہے
مچھلی کی جلد میں موجود کلوجن اور وٹامن ای ہماری جلد کو تروتازہ رکھنے اور ان پر عُمر کیساتھ پڑنے والے اثرات کو روکنے میں انتہائی اہم غذائی اجزا ہیں اور اگر مچھلی کے گوشت سے سکن کو اُتار دیا جائے تو مچھلی کی بہت سی غذائی صلاحیت ضائع ہوجاتی ہے۔

اسے کیسے پکایا اور کھایا جائے
پانی کی اس مخلوق کے گوشت کو اپنے پسندیدہ طریقے سے جلد کیساتھ ہی پکائیں اور جیسے چاہے کھائیں، غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آدمی کو 113 گرام مچھلی ہفتے میں 2 سے تین دفعہ لازمی کھانی چاہیے۔

 

Sharing is caring!

Comments are closed.