دعاؤں کی قبولیت کا وظیفہ

این این ایس نیوز!آیت کریمہ” لاالہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین” خود دعاؤں کی قبولیت کا وظیفہ ہے ، ان الفاظ کے ساتھ دعاؤں کا قبول ہونا حدیث سے ثابت ہےرسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ:
ذوالنون ( یعنی یونس علیہ السلام ) کی وہ دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ کے اندر مانگی تھی (یعنی لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ) جو مسلمان اپنے کسی بھی مقصد کے لیے ان کلمات کے

اکثر لوگ دعا کرتے اور اسکے قبول نہ ہونے پر پریشان بھی ہوتے ہیں حالانکہ کسی کی دعا رد نہیں ہوتی ۔اسکی قبولیت کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے ۔سورہ البقرہ میں اللہ تعالٰی کا فرمان ہے”جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہیے وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔“ احادیث مبارکہ میں دعا کی قبولیت کے کئی اوقات کا ذکر کیا گیا ہے کہ مسلمان ان اوقات میں دعا کریں تو قبول ہوتی ہے ،ان میں سے چند اوقات کا یہاں ذکر کررہا ہوں۔حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ انسان اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس لئے (سجدے میں ) دعاء کثرت سے کیا کرو۔

حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں۔ ایک اذان کے وقت ،دوسرے بارش کے وقت۔
حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا رد نہیں کی جاتی۔ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہﷺ ! پھر ہم اس وقت کیا دعا کریں؟ آپ ﷺنے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی عافیت مانگا کرو۔

حضرت ابوہریرہ ہے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو جائے گی تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ جب امام غیر المغضوب علیھم و لا الضالین کہے تو تم آمین کہو اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا۔

حضرت ابوامامہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺسے پوچھا گیا کہ کونسی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔ آپ ﷺنے فرمایاکہ رات کے آخری حصے میں اور فرض نمازوں کے بعد مانگی جانے والی (دعا)۔

حضرت عمران بن حصین ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص قرآن پڑھے اسے چاہئے کہ اللہ سے سوال کرے اس لئے کہ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن پڑھ کر لوگوں سے سوال کریں گے۔

ابوہریرہ ؓروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے جمعہ کے دن کا تذکرہ کیا، تو آپ ﷺنے فرمایا کہ اس دن میں ایک ساعت ایسی ہے کہ کوئی مسلمان بندہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے اور اس ساعت میں جو چیز بھی اللہ سے مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عطا کرتا ہے، اور اپنے ہاتھوں سے اس ساعت کی کمی کی طرف اشارہ کیا،یعنی وہ وقت بہت چھوٹا ہوتا ہے ۔روایت ہے کہ سحر و افطار کے دو وقتوں میں کی جانے والی دعا قبول ہوتی ہے۔

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ رات میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ اس وقت جو مسلمان بندہ بھی اللہ تعالیٰ سے جو بھی بھلائی مانگے گا اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرمائیں گے۔

وفاقی حکومت نے روس سے مزید2 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دیدی
حضرت جابر ؓسے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جائے وہ پوری ہوتی ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *