کزن شادی کے نقصانات

این این ایس نیوز!قریبی رشتوں کے ساتھ جنسی تعلق کو انسانی فطرت قبول نہیں کرتی اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی معاشرے میں قریبی رشتوں کے ساتھ شادی کا تعلق استوار کرنے کا عام رواج نہیں پایاجاتا ۔ دین اسلام نے تو صدیوں قبل ہی شرعی احکام کی صورت میں یہ بات واضح کردی، لیکن جدید سائنس اس معاملے کی تحقیق کرتے ہوئے بات کی تہہ تک اب پہنچی ہے۔

دی میٹرو کی رپورٹ کے مطابق کیمبرج یونیورسٹی اور کوپن ہیگن یونیورسٹی کی ایک مشترکہ تحقیق یہ جاننے کیلئے کی گئی کہ انسان اپنے قریبی ترین رشتہ داروں کی جانب جنسی طور پر مائل کیوں نہیں ہوتا، اور اس رویے کے نسل انسانی کیلئے کیا فوائد ہیں۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ یہ رویہ صرف آج کے انسان میں نہیں پایا جاتا بلکہ آج سے ہزاروں سال قبل کے انسان میں بھی یہ رویہ پایا جاتا تھا۔ سائنسی جریدے ”سائنس“ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 34 ہزار سال قبل کے انسان پر کی جانے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس دور کے لوگ بھی قریبی رشتہ داروں کے ساتھ جنسی مراسم استوار نہیں کرتے تھے۔ اس سے پہلے نی اینڈرتھل انسان کے بارے میں ضرور یہ کہا جاتا ہے کہ اس میں قریبی رشتہ داروں کے ساتھ جنسی تعلق کا رویہ پایا جاتا تھا، لیکن پھر یہی رویہ ان کی نسل کے خاتمے کی اہم ترین وجوہات میں سے ایک بن گیا۔

سائنسدانوں نے اس تحقیق کے دوران روس سے دریافت ہونے والے 34 ہزار سال پرانے انسانی ڈھانچوں کا جینیاتی تجزیہ کیا جس سے یہ نتائج اخذ کئے گئے ہیں کہ اس دور کا انسان بھی جینیاتی بگاڑ سے بچنے کے لئے قریبی رشتوں کے ساتھ جنسی تعلق استوار نہیں کرتا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دور میں جوڑوں کی تدفین عام طور پر ایک دوسرے کے قریب کی جاتی تھی۔ ماہرین نے جوڑوں کی صورت میں دفن کئے گئے مردوں اور عورتوں کے جینز کا مطالعہ کرکے معلوم کیا ہے کہ ان میں سے ہر جوڑے کا جینیاتی لحاظ سے قریبی تعلق نہیں تھا۔ وہ کم از کم بھی ایک دوسرے کے سیکنڈ کزن تھے۔

تحقیق کی سربراہی کرنے والے سائنسدان پروفیسر ایس کے ویلرسلیپ کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ پتھر کے زمانے کا انسان بھی اس حقیقت کو سمجھتا تھا کہ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ جنسی تعلق نسلی جنسی بگاڑ کا سبب بنتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایسی موروثی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں جو نسل انسانی کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہیں، لہٰذا اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی تھی۔ اس دور کے لوگ عام طور پر 20 سے 25 افراد کے گروپ کی صورت میں رہا کرتے تھے اور ایک گروپ کے افراد آپس میں جنسی تعلق استوار کرنے کی بجائے کسی دوسرے گروپ کے افراد کی تلاش کیا کرتے تھے۔
اس کے برعکس تقریباً 50 ہزار قدیم دور کے نی اینڈر تھل انسان کے جینیاتی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ان لوگوں میں قریبی رشتوں کے ساتھ جنسی تعلق کا رواج پایا جاتا تھا۔ ان کے اسی رویے نے ان کی نسل میں خطرناک جینیاتی بگاڑ پیدا کردئیے جو بالآخر دنیا سے ان کے خاتمے کا سبب بنے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *