بیٹی کی قیمتی ہوتی ہے

این این ایس نیوز!بابا جی کا جنازہ تیا ر تھا اس کے چاروں بچے انتہائی غمگین تھے . جب جنازہ اٹھایا جانے لگا تو اتنے میں ایک شخص آگے آیا اور جنازے کی چارپائی پکڑ لی . لوگوں‌نے کہا او اللہ کے بندے یہ کیا حرکت ہے ! . وہ اڈھیڑ عمر شخص بولا : یہ جنازہ تب تک نہیں‌اٹھے گا جب تک میرا حق نہ دیا جائے . لوگ پریشان کون سا حق بھائی . اس شخص نے میرے 12 لاکھ روپے دینے ہیں‌اس لئے جو اس کے ورثاء‌ہے وہ آگے آئیں‌اور میرا حق ادا کریں . پہلے مجھے پیسے دو پھر اس کو دفن کرنے دوں گا۔

اب تمام لوگ کھڑے تماشا دیکھ رہے ہیں، بیٹوں نے کہا کہ مرنے والے نے ہمیں تو کوئئ ایسی بات نہیں کی کہ وہ مقروض ہے، اس لیے ہم نہیں دے سکتے، متوفی کے بھائیوں نے کہا کہ جب بیٹے ذمہ دار نہیں تو ہم کیوں دیں۔
اب سارے کھڑے ہیں اور اس نے چارپائی پکڑی ہوئی ہے۔ جب کافی دیر گزر گئی تو بات گھر کی عورتون تک بھی پہنچ گئی۔
مرنے والے کی اکلوتی بیٹی نے جب بات سنی تو فورا اپنا سارا زیور اتارا اور اپنی ساری نقد دقم جمع کر کے اس آدمی کے لیے بھجوا دی اور کہا کہ اللہ کے لیے یہ رقم اور زیود بیچ کے اس کی رقم رکھو اور میرے ابو جان کا جنازہ نہ روکو۔ میں مرنے سے پہلے سارا قرض ادا کر دوں گی۔ اور باقی رقم کا جلد بندوبست کر دوں گی۔

اب وہ چارپائی پکڑنے والا شخص کھڑا ہوا اور سارے مجمع کو مخاطب ہو کے بولا۔۔ اصل بات یہ ہے کہ میں نے مرنے والے سے 15 لاکھ لینا نہیں بلکiہ اسکا دینا ہے اور اس کے کسی وارث کو میں جانتا نہ تھا تو میں نے یہ کھیل کیا۔ اب مجھے پتہ چل چکا ہے کہ اس کی وارث ایک بیٹی ہے اور اسکا کوئی بیٹا یا بھائی نہیں ہے۔
اب بھائی منہ اٹھا کے اسے دیکھ رہے ہیں اور بیٹے بھی۔

اگر چہ یہ ایک کہانی ہے لیکن حقیقت بھی یہی ہے کہ ماں‌باپ سے وفادار صرف بیٹی ہوتی ہے چاہئے وہ گھر ہو یا پرائے گھر وہی ایک ذات ہے جو بلا تفریق بھائیوں‌اور والدین کی خوشی میں‌خوش اور ان کے غم میں‌کھڑتی رہتی ہے . اس لئے اللہ کی رحمت کی قدر کریں

Sharing is caring!

Comments are closed.