گوشت سے کہیں زیادہ طاقت ور ، چکنائی سے پاک دالیں

این این ایس نیوز!دالوں میں گوشت سے زیادہ لحمیات ہوتی ہیں ، ان کا کوئی نقصان بھی نہیںجی ہاں ، گوشت کے برعکس دالوں کی خاصیت یہ ہے کہ ان میں چکنائی بہت کم ہوتی ہے۔ان ننھے ننھے دانوں میں حیاتین کا خزانہ بھرا ہوتا ہے۔دالوں میں گوشت اور خون بنانے والے اجزا کثیر مقدار میں ہوتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ  بامقابلہ دیگر اناج دالوںمیں نمکیات اور دوسرے ضروری مادے زیادہ ہوتے ہیں جبکہ مختلف تیزاب نسبتاً کم۔

دالوں کی کئی اقسام ہیں اور ہر دال کا الگ ذائقہ اور خاصیت ہے۔ مونگ‘ ماش‘ چنا‘ مسور‘لوبیا‘ سویا بین وغیرہ ہر ایک منفردمزہ اور افادیت رکھتی ہے۔ دالوں کے خواص اور غذائی اجزا کا تعارف پیش خدمت ہے.

دال مونگ
اسے شاہی دال بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو بہت پسند تھی۔ بیماروں کے لیے عمدہ غذا ہے۔ اس میں نشاستہ‘ وٹامن اے‘ بی اور ڈی اور روغنی مادوں کے علاوہ کیلشیم‘ پوٹاشیم اور گلوکوز جیسے مفید اجزا بھی ملتے ہیں۔ معتدل ہے‘ معدہ اسے تین گھنٹوں میں ہضم کر لیتا ہے۔ غذائیت سے بھرپور ہے کہ ایک وقت میں مونگ کا سالن کھانا کافی ہے۔ دماغی کام کرنے والوں اور کمزور مرد و خواتین اور طلبا کے لیے عمدہ غذا ہے۔ معدے کی گرمی اور تیزابیت دور کرتی ہے۔

بار بار نزلہ ہونے یا گلا آنے کی صورت میں مونگ اور پالک پکا کر کھائیے‘ افاقہ ہو گا۔ ہر قسم کے بخار میں اس کا شوربہ موزوں ہے۔ گرم علاقوں میں رہنے والوں کے لیے طاقت بخش سرد غذا ہے۔ مونگ پکاتے ہوئے اس کا ذائقہ بڑھانے کے لیے گھی‘ کالی مرچ ‘ نمک اور زیرے کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

بعض افراد نقلی بھوک کا شکار ہو جاتے ہیں یعنی ہر وقت انھیں بھوک کا احساس رہتا ہے۔ وہ مونگ اور سیاہ چنے ۱۰۰‘ ۱۰۰ ؍ گرام لے کر رات کو دو گلاس پانی میں بھگو دیں۔ صبح چار پانچ جوش دلا کر نتھرے پانی میں شکر‘ مصری یا شہد ملائیے اور پی جائیے‘ صحت ملے گی۔مونگ کے آٹے کا ابٹن جلد کو نرم و ملائم اور چمکدار بناتا ہے۔

دال مسور
لکھنؤ اور دلّی کے باورچی لذیذ دال پکانے میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ ایک پیسے کی دال ہوتی‘ تو مسالوں پر بیسیوں روپے خرچ ہو جاتے۔ ایک رئیس نے مسور کی دال پکوائی‘ تو کھا کر اس کا جی خوش ہو گیا۔ اس نے باورچی کو بلا کر انعام دیا۔ باتوں باتوں میں خرچ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ ایک پیسے کی دال پکانے میں چھبیس روپے کے مسالہ جات پڑے ہیں۔ اب رئیس فضول خرچی پر آزردہ خاطر ہوا۔ باورچی یہ دیکھ کر ’’یہ منہ اور مسور کی دال‘‘ کہتا ہوا رخصت ہو گیا۔

دال مسور کو سلطانی دال بھی کہا جاتا ہے۔ غذائیت سے بھرپور اس دال میں چکنائی نہیں ہوتی اور یہ کارآمد معدنیات اور حیاتین کا مجموعہ ہے۔ یہ فاسفورس اور فولاد کا بھی اہم ذریعہ ہے جو نہ صرف امراضِ قلب کے خلاف مدافعت پیدا کرتا بلکہ پیدائشی خرابیاں بھی روکتا ہے۔ یہ دال ہمیں لحمیات‘ کیلشیم‘ پوٹاشیم اور وٹامن ڈی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول کی سطح بھی کم رکھتی ہے۔ فوائد میں دیگر دالوں سے بڑھ کر ہے۔ مزاج گرم اور خشک ہے۔ سینے اور پھیپھڑے کے امراض میں اس کا پتلا شوربا مفید ہے۔ نکسیر کے مریضوں کو پتلے شوربے کے ساتھ خشکہ چاول بطورِ علاج کھلائیے۔
یاد رہے کہ مسور کی دال وٹامن اے کی دشمن ہے‘ اسی لیے اس کا زیادہ استعمال بصارت میں کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ قدرے قابض بھی ہوتی ہے لہٰذا قبض اور بواسیر کے مریض اجتناب کریں‘ تو بہتر ہے۔

دال ماش
یہ اُرد بھی کہلاتی ہے۔ اجزائے ملحمہ کا مقوی مجموعہ ہے۔ مزاج گرم تر ہے۔ بادی اور دیر ہضم ہے اور بلغم پیدا کرتی ہے۔ تاہم خون‘ گوشت اور چربی بڑھانے میں کام آتی ہے۔ دودھ پلانے والی عورتوں کے لیے بے حد مفید ہے۔ کمزور مرد حضرات کے لیے بھی طاقت و توانائی کا خزانہ ہے۔ اس کی کھیر مرد و عورت دونوں کے لیے یکساں مفید ہے۔ دو چمچ ماش کی دال آدھا لیٹر دودھ میں اتنا پکائیے کہ کھیر بن جائے‘ پھر چینی یا مصری ملا کر کھائیے۔
خوبیوں کے ساتھ ساتھ ثقیل اور قابض ہے۔ موٹاپا پیدا کرتی ہے کھانسی اور دمے میں مضر ہے۔ امراض جگر‘ بدہضمی اور قبض کے مریض بھی اجتناب کریں۔ ہینگ‘ ادرک اور سونٹھ اس کے مضر اثرات کم کرتے ہیں۔

دال ارہر
اس کا مزاج گرم اور خشک ہے۔ جسم کو طاقت بخشتی اور بلغم دور کرتی ہے۔ ذائقہ قدرے کسیلا ہوتا ہے‘ کھٹائی ڈال کر پکانے سے خوش ذائقہ ہو جاتی ہے۔ دھنیا اور ہینگ بھی اس کی لذت بڑھاتے ہیں۔ پیشاب آور ہے۔چیچک اور موتی جھرا (کاکڑا لاکڑا) رفع کرنے میں مدد دیتی ہے۔ بعض اوقات ان امراض میں دانے ظاہر نہیں ہوتے اور زیادہ تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ ایسی حالت میں ارہر کی دال ابال کر اس کا پانی پلائیے۔

دال چنا
غذائیت کے اعتبار سے نمایاں مقام رکھنے والی یہ دال مزاج اور تاثیر کے اعتبار سے گرم و خشک ہے۔ نشاستہ اور  روغنیات سے مالا مال ہونے کے علاوہ پوٹاشیم‘ کیلشیم‘ فاسفورس‘ آئیوڈین کی کثیر مقدار رکھتی ہے۔ ایک پائو چنے کی دال میں آدھ پائو گوشت برابر غذائیت ہوتی ہے۔آدھ پائو چنے کی دال اور دو چپاتیاں مکمل غذا ہے‘ اسی لیے اکثر اجتماعات اور عرسوں وغیرہ کے موقع پر اہتمام سے پکائی جاتی ہے۔دماغی کمزوری دور کرنے اور نزلہ زکام سے چھٹکارا پانے کے لیے دال چنا دو چمچ رات کو ایک پیالی میں بھگو دیں۔ صبح یہ آمیزہ سات عدد بادام اور تین عدد چھوٹی الائچی کے ساتھ مزید ایک پیالی دودھ میں ڈالیے اور سردائی کی طرح رگڑ کر پی لیجیے۔ یہی سردائی نکسیر کا بھی مؤثر علاج ہے۔

چنے
چنے کی دو اقسام ہیں: سفید اور سیاہ۔ افادیت کے اعتبار سے کالے چنے مقدم ہیں۔ بھنے سیاہ چنے مکمل غذا کا درجہ رکھتے ہیں۔ مشہور فاتح سلطان محمود غزنوی نے انہیں سپاہیوں کے لیے عمدہ غذا قرار دیا تھا۔ یہ گیہوں سے دوسرے درجے پر ہے۔ اس کا ہر روپ مثلاً آٹا یا بیسن لاجواب ہے۔ چنا بدن کو غذائیت ہی نہیں دیتا بلکہ متعدد طبی خواص بھی رکھتا ہے۔ اس کا شوربہ طاقت و توانائی رکھتاہے۔ ایک پیالی پانی میں مٹھی بھر چنے رات کو بھگو دیں۔ صبح پانی پی لیں اور چنے گرم توے پر ذرا بھون کر کھا ئیے۔ یوں جسم میں خون صالح جنم لے گا‘ توانائی بڑھے گی نیز موٹاپا کم ہو گا۔ بیسن میں ہلدی‘ سرسوں کا تیل اور تھوڑا سا پانی ملا کر چہرے اور بدن پر ملیے‘ نہ صرف رنگت نکھرے گی بلکہ چہرہ پر کشش بھی ہو جائے گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *