استاد نصرت فتح علی خان مرحوم کی اکلوتی صاحبزادی ندا نصرت ان دنوں کہاں ہیں۔بی بی سی

این این ایس نیوز! استاد نصرت فتح علی خان کی اکلوتی اولاد ان کی بیٹی ندا نصرت ہیں جو اب کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ندا نصرت نے اپنے والد کی یادوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ‘میں اس وقت تیرہ چودہ برس کی تھی جب ان کا انتقال ہوا، میرا ان کے

ساتھ زیادہ وقت تو نہیں گزرا لیکن بجپن میں ہوش سنبھالنے کے بعد چھ سات برس کے عرصے کی یادیں ایسی جو میری زندگی کا حاصل ہے۔’نامور صحافی عماد خالق بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک لیجنڈری فنکار کی بیٹی کہلانے میں بہت فخر محسوس کرتی ہیں۔’ان کے جیسا فنکار اور والد شاید ہی کوئی ہو گا۔ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ عالمی افق پر چمکنے والے فنکار کی بیٹی ہونے کا اعزاز ملا۔’وہ کہتی ہیں کہ ‘اکثر بہت سے لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں اتنے عرصے بعد کیوں منظر عام پر آئی ہوں، لوگوں کو میرے بارے میں علم ہی نہیں ہے تو میں کہتی ہوں کہ میرے والد ایک عام انسان نہیں تھے میں آج بھی 16 اگست کے دکھ میں جی رہی ہوں، میں آج تک اس سے باہر نہیں نکل پائی۔’استاد نصرت کے ساتھ بتائے وقت کی یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ‘ان کو اپنے کام سے عشق تھا، ان کے پاس زیادہ وقت نہیں ہوتا تھا لیکن جب بھی وہ گھر پر کوئی طرز بنا رہے ہوتے یا ریاض کرتے تو میں ان کے کمرے کے پردے کے پیچھے سے انھیں چھپ چھپ کر سنتی اور دیکھتی۔’وہ کہتی ہیں کہ’ ہمارے گھر میں ایک ایسا حصہ تھا جہاں بچوں اور خواتین کو جانے کی اجازت نہیں تھی، انھیں اس بات کا علم ہوتا کہ میں پردے کے پیچھے چھپی ہوئی ہوں، وہ مجھے دیکھتے تو میں وہاں سے بھاگ جاتی۔’ندا نصرت بطور والد ان کی محبت کا ذکر کرتے ہوئے یاد کرتیں ہیں کہ ‘ مجھے بچپن میں قلم اور کلر

پنسلز کا بہت شوق تھا تو وہ دنیا میں جہاں بھی جاتے وہاں سے میرے لیے بہت سے مہنگے اور مخلتف پین اور کلرپنسلز لاتے۔ ڈھیروں کلرنگ بکس لاتے، ان کے سامان میں سے آدھا سامان میری چیزوں کا ہوتا۔’وہ ایک یاد کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ‘کام کی مصروفیت کے باعث وہ فیملی کو زیادہ وقت نہ دے پاتے اور اس کا انھیں بہت شدت سے احساس تھا۔’ایک دفعہ بیرون ملک سے شو کے بعد واپس گھر آئے تو آتے ہی مجھے اپنی گود میں لیتے ہوئے کہا اب میں اپنی بیٹی کے ساتھ وقت گزاروں گا، میں نے ان سے پوچھا بابا اب آپ کتنے دنوں کے لیے میرے ساتھ رہیں گے تو انھوں نے اس بات پر زارو قطار رونا شروع کر دیا۔’ندا نصرت کے مطابق وہ بہت حساس طبعیت کے مالک تھے۔ندا نصرت کا کہنا تھا کہ جب ہم دونوں باپ بیٹی ایک ساتھ ہوتے تو وہ بھول جاتے کے ارد گرد کی دنیا میں کہا ہے، وہ تمام توجہ مجھے دیتے۔’شاید انھیں دنیا سے جلدی چلے جانے کا علم تھا، وہ ہر کام جلدی کرنا چاہتے تھے جب والدہ پوچھتی کہ آپ کو خدا نے اتنی شہرت دی ہے آپ کو جلدی کیوں ہے تو بابا کہتے کہ ابھی تم لوگوں کو نہیں سمجھا سکتا۔’ندا نصرت کا کہنا ہے کہ ‘جب بھی کبھی ان کے ساتھ بیرون ملک کسی شو پر جانے کا موقع ملتا تو وہ مجھے سٹیج کے بالکل سامنے بیٹھاتے اور شو کے دوران مجھے دیکھ دیکھ کر ان کی آنکھوں میں چمک آتی۔

بریک کے دوران بھی مجھے سٹیج پر بلا کر پوچھتے رہتے۔’بچپن کے ایک واقعہ کے متعلق ندا نصرت نے بتایا کہ ‘میری عمر اس وقت قریباً چھ برس تھی اور لندن میں ایک شو کے لیے میں ان کے ساتھ تھی، گھر سے جلدی نکلنے کے باعث میں اپنی چوسنی بھول گئی اور جب شو کے لیے ہال میں پہنچے تو میں نے رونا شروع کر دیا، جس پر بابا سخت پریشان ہو گئے۔’وہ مجھے پریشان نہیں دیکھ سکتے تھے، دوسری طرف شو آرگنائزرز انھیں شو شروع کرنے کا کہہ رہے تھے کہ تاخیر ہو رہی ہے، انھوں نہ کہا جب تک میری بیٹی چپ نہیں ہو گی میں شو شروع نہیں کر سکتا۔’لہذا ایک بندے کو واپس گھر بھیج کر میری چوسنی منگوائی گئی اور جب میں چپ ہوئی تو انھوں نے تاخیر سے شو شروع کیا۔ دوران شو بھی وہ بریک میں میرے پاس آ کر مجھے پیار کرتے رہے۔وہ کہتی ہیں کہ جب بھی ان کی کوئی البم ریلیز ہو کر آتی تو اس کی پہلی کاپی وہ مجھے دیتے اور اگلے دن مارکیٹ میں ریلیز کرتے، میں ان کی تمام البمز کو اپنے سراہنے تلے رکھ کر سوتے تھی۔ندا کا اس سوال پر کہ کیا کبھی نصرت نے انھیں گانے کے لیے کہا تو ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے گھرانے کی روایات ہے کہ خواتین نہیں گاتیں لیکن کبھی جب وہ گھر پر ہوتے اور ریاض کے دوران مجھے بلا لیتے اور کہتے میرے ساتھ ساتھ گاؤ تو میں ان کے ساتھ کچھ گنگنا لیتی تھی۔’وہ بتاتی ہے کہ ‘میں نے پیشہ ورارانہ طور پر کبھی نہیں گایا لیکن آج بھی گھریلو تقاریب میں کچھ گنگنا لیتی ہوں۔’نصرت کی بیٹی کا کہنا تھا کہ ‘بچپن میں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوفزدہ ہو جاتی اور اگر وہ پاس ہوتے تو ان کے پیچھے چھپ جاتی۔’وہ ہمیشہ مجھے کہتے تم میری بیٹی نہیں بیٹا ہو، کبھی کسی چیز سے گھبرانہ نہیں اور ہمیشہ ہر چیز کا بہادری سے سامنا کرنا۔’’مجھے اور میری والدہ کو یہ دُکھ رہا اور ہمیشہ رہے گا کہ کاش ہم بھی لندن میں ان کے آخری دورے پر ان کے ساتھ چلے جاتے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.