ماں کے ساتھ مزدوری کرنے والی چوکیدار کی بیٹی دنیا کے سب سے امیر ملک کی پہلی مسلمان خاتون صدر بن گئیں ہمت وحوصلے کی داستان جانیں

این این ایس نیوز! حلیمہ یعقوب 23 اگست 1954 کو پیدا ہوئیں۔حلیمہ یعقوب 2011 میں سنگا پور کی سیاست کے میدان میں داخل ہوئیں۔ صرف دو سال کے عرصے میں یعنی 2013 میں ہی وہ سنگا پور اسمبلی کی پہلی خاتون سپیکر بن گئیں۔وہ جنوری 2013ء سے اگست 2017ء تک سنگاپور کی پارلیمنٹ کی نویں سپیکر کے عہدہ پر بھی فائز رہیں۔ سیاست میں آنے سے پہلے 30سال تک حلیمہ یعقوب ٹریڈ یونین سے وابستہ رہیں۔

سنگا پور کی 52سالہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا کہ 14ستمبر 2017 کو ایک خاتون ملک کی صدر بنی ہیں۔سنگا پور کی پہلی خاتون صدر کا تعلق کسی سیاسی  خاندان سے نہیں ہے بلکہ وہ تو ایک چوکیدار کی بیٹی ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی میں بھی بہت محنت کی ہے۔جب حلیمہ یعقوب 8 سال کی تھیں تو اُن کے والد کا  انتقال ہوگیا جس کے بعد حلیمہ کی ماں نے بچوں کی پرورش کے لیے کھانے کا ایک اسٹال لگا لیا۔اس سٹال پر حلیمہ اپنی ماں کے ساتھ صبح سے رات تک کام کرتیں تھیں، وہ گاہکوں کو کھانا دیتی اور صفائی کرتیں۔مسلسل محنت کے بعد حلیمہ یعقوب اب سنگا پور کی پہلی خاتون صدر بن چکیں ہیں۔ اُن کے صدر بننے پر سنگا پور کے وزیر اعظم ،لی سن لونگ، نے اُنہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ  حلیمہ یعقوب کی کہانی سنگاپور کی کہانی ہے کہ ہم بطور قوم کس طرح کامیابی کی اس منزل تک پہنچے ہیں۔

وزیر اعظم  صدر کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ نے  اپنی زندگی میں مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ آپ کی زندگی کے ابتدائی سال محرومی اور مشکلات  کے ہیں لیکن آپ نے تعلیم حاصل کر کے ، محنت اور ملازمت کر کے اپنےخاندان کی کفالت کی۔ آپ کامیابی حاصل کرنے کے باوجود اپنے بچپن کی غربت کو نہیں بھولیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آپ کو  عہدہ صدارت تک جس چیز نے پہنچایا ہے  وہ عوام کے لیے  آپ کی سخت محنت، فرائض منصبی کا بھرپور احساس اور عوامی خدمات کا   شاندار ریکارڈ ہے۔حلیمہ کی شادی  محمد عبد اللہ الحبشی سے ہوئی تھی جوآج کل ریٹائرزندگی گزار رہے ہیں۔ دونوں کے پانچ بچے ہیں اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ 5 کمروں کے ایک فلیٹ میں رہتے ہیں۔ حلیمہ یعقوب کا کہنا ہے کہ صدر بننے کے بعد بھی وہ ایوان صدر کی بجائے اپنے فلیٹ میں ہی رہیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *