ریکھا کی زندگی کی اصل کہانی

اسلام آباد (این این ایس نیوز)اداکارہ ریکھا کو ہندوستانی سنیما کی بہترین اداکاراؤں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ اب تک یہ 700 سے زائد فلموں اور چھوٹے سٹیج ڈراموں میں کام کر چکی ہیں۔اداکارہ ریکھا کی زندگی کے کچھ راز: بھارتی اداکارہ ریکھا نے محض 3 سال کی عمر میں فلمی دنیا میں قدم رکھا تھا ،ریکھا کی شادیوں سے متعلق اکثر اسکینڈلز آتے رہے ہیں مگر ایک انٹرویو میں ریکھا نے بتایا کہ:

یری پہلی شادی 1990 میں مکیش اگروال سے ہوئی تھی اور وہ ایک سال کے بعد ہی مر گئے تھے انہوں نے خودکشی کی تھی جس کےبعد لوگوں نے مجھے لعن تعن دی کہ میری وجہ سے انہوں نے ایسا کیا جب کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں تھی۔ زندگی کے ایک تلخ راز سے متعلق بتائے ہوئے اداکارہ کا کہنا تھا کہ: مجھے اداکار ونود مہرا کی ماں نے چپل سے مارنے کی کوشش کی تھی جبکہ میری کوئیغلطی نہیں تھی، ونود مہرا نے مجھ سے محبت کی پھر شادی کی خبریں اتنی عام ہوئیں کہ مجھے ان کی والدہ نے مارنا پیٹنا شروع کردیا تھا، ہمیشہ سے مجھے دھوکے ملتے آئے ہیں، میں نے زندگی کو چٹان کی طرح لڑ کر گزارا ہے۔بے شمار فلمی ایوارڈز کے ساتھ ساتھ ریکھا کو 2010 میں اعلیٰ ترین شہری اعزاز پدم شری سے نوازا۔ گزشتہ 33 سال سے وہ ہر موقع پر ایک دوسرے سے آنکھیں چراتے ہوئے ملے

لیکن 14 جنوری کو ممبئی میں ا سکرین ایورڈس تقریب کے دوران یہ ’سلسلہ‘ ٹوٹ گیا۔ امیتابھ اور ریکھا اتنے طویل عرصہ بعد پہلی مرتبہ گرمجوشی سے ملتے ہوئے نظر آئے کہ ذرائع ابلاغ خبرجاری کرنے پر مجبور ہو گئے۔ کہتے ہیں کہ’ ہیلو‘ ہوئی ادھر امیتابھ مسکراے تو ادھر ریکھا نے بھی شرماتے ہوئے جوابی تبسم رسید کیا۔ امیتابھ کے ساتھ موجود جیہ نے بھی ریکھا کے ہاتھ پکڑ لیے۔ یہ منظر ہے ممبئی میں منگل کی رات کا جب اسکرین ایورڈس کے دوران میں بچن کنبہ اور ریکھامیں قربت محسوس کی گئی جو سابقہ ملاقاتوں سے قطعیمختلف تھا۔ امیتابھ ابھی تک ریکھا کو دیکھتے ہی آنکھیں چرا لیا کرتے تھے لیکن اس بار ملاقات میں گرمجوشی تھی‘ امیتابھ ابھی تک ریکھا کو دیکھتے ہی آنکھیں چرا لیا کرتے تھے لیکن اس بار ملاقات میں گرمجوشی تھی‘ امیتابھ نے ہیلو کیا تو ریکھا نے بھی جواب کچھ ایسے ہی کہا۔ جیہ اورریکھا کو گزشتہ کچھ برسوں کے دوران میں اس طرح ملتے ہوئے شاید ہی کبھی دیکھا گیا ہوگا۔ دونوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے ہوئے تھے۔ 80 کی دہائی میں ریکھا اور امیتابھ کے معاشقوں کی خبریں جب منظر عام پر

آئی تھیں تو برصغیرمیں جاری ’سوتن‘رقابت کی روایت کے تحت ریکھا اور جیہ کے رشتوں میں تلخی آ گئی تھی۔ حتی کہ 1981 میں فلم سلسلہ کے بعد ریکھا اور امیتابھ کا رشتہ بھی وہیں ختم ہو گیا۔ اس کے بعد ایک دوسرے سے بچ کرچلنے کا نیا سلسلہ شروع ہوا جو اس رات ختم سا محسوس ہوا۔ کہنے والے آج بھی کہتے ہیں کہ امیتابھ کی کامیابی میں جہاں راجیوگاندھی کی قربت کی بدلت

اندراگاندھی کے اس تعارفی خط کا دخل ہے جو انھوں نے بالی وووڈ کی اہم شخصیات کو تحریر کیا تھا وہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر فلم کے پردے پر ریکھا جیسی منجھی ہوئی اداکارہ کا ساتھ امیتابھ کو نہ ملا ہوتا تو شاید وہ اتنی بلندی تک نہیں پہنچ پاتے جہاں سے انھیں خود ریکھا دکھائی دینی بند ہو گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *