اور دو آزادی اس سعودی لڑکی نے وہ کام کر دیا جو پچھلے 100 سالوں میں کسی لڑکی کی کرنے کی ہمت نہ ہوئی

این این ایس نیوز! سعودیہ ایک اسلامی ملک ہے پر پچھلے کچھ عرصے وہاں بھی خواتین کو آزادی دی گئی ہے اس کا کچھ اچھا اثر نہیں پڑا ایسا ہی کچھ ہوا کہ کینیڈا نے اٹھارہ سالہ سعودی لڑکی رہف محمد القنون کو اپنے ہاں پناہ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ سعودی عرب سے فرار ہو کر آسٹریلیا جا رہی تھیں اور کئی دنوں سے بنکاک میں تھیں۔ وہ آج ہفتہ 29 مئی کو ٹورانٹو پہنچ رہی ہیں۔

کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوہ سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق 18 سالہ رہف محمد القنون سعودی عرب میں اپنے اہل خانہ کی طرف سے مبینہ بدسلوکی اور جبری شادی کے منصوبے سے فرار ہو کر بیرون ملک پناہ لے لینے کی خواہش مند تھیں۔ اسی لیے وہ اپنے وطن سے فرار ہوئی تھیں۔

وہ شروع میں آسٹریلیا جانا چاہتی تھیں مگر انہیں تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں حکام نے روک لیا تھا۔ اس کی وجہ ان کے پاس کوئی سفری دستاویزات نہ ہونا تھی، کیونکہ بنکاک میں سعودی اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان کا پاسپورٹ زبردستی ان سے لے لیا تھا۔

رہف محمد القنون گزشتہ کئی دنوں سے بنکاک ایئر پورٹ کے ایک ہوٹل میں مقیم تھیں۔ شروع میں تھائی حکام نے انہیں ملک بدر کر کے واپس سعودی عرب بھیجنے کا بھی سوچا تھا لیکن اس امکان کی انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کی طرف سے شدید مخالفت کی جانے لگی تھی۔

سوشل میڈیا پر رہف کی بنکاک سے سعودی عرب ممکنہ ملک بدری کے خلاف شدید احتجاج کے بعد تھائی حکام نے اپنا فیصلہ ملتوی کر دیا تھا اور انسانی حقوق کی کئی تنظیمیں رہف کی مدد کے لیے سرگرم ہو گئی تھیں۔

مہاجر کی حیثیت مل گئی
اس پیچیدہ صورت حال کے آغاز کے چند ہی روز بعد اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے نے رہف کی پناہ کی متلاشی ایک سعودی خاتون کے طور پر حیثیت کو باقاعدہ تسلیم کر لیا تھا۔ اسی دوران کینیڈا میں حکام نے یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ اگر رہف محمد القنون کینیڈا آئیں، تو انہیں سیاسی پناہ دیے جانے کے امکانات روشن ہوں گے۔

جسٹن ٹروڈو کا اعلان
اس پیش رفت کے بعد کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں اچانک یہ اعلان کر دیا تھا کہ کینیڈا رہف کو اپنے ہاں پناہ دینے پر تیار ہے۔ وزیر اعظم ٹروڈو نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا تھا، ’’کینیڈا آج تک دنیا بھر میں انسانی حقوق، خاص کر خواتین کے حقوق کےلیے ہمیشہ ہی بہت بلند آواز کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اب اقوام متحدہ نے ہم سے یہ درخواست کی ہے کہ رہف محمد القنون کو کینیڈا میں پناہ دے دی جائے، تو ہم نے یہ درخواست منظور کر لی ہے۔‘‘

بنکاک آمد پر رہف محمد القنون کو تھائی حکام نے روک لیا تھا
سعودی عرب سے تعلقات میں مزید کھچاؤاوٹاوہ حکومت کا رہف کو کینیڈا میں پناہ دینے کا فیصلہ یقینی طور پر کینیڈا اور سعودی عرب کے مابین پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید کھچاؤ کا سبب بنے گا۔ اس کشیدگی کا ایک پس منظر ان دونوں ممالک کے مابین گزشتہ برس اگست میں پیش آنے والے وہ واقعات بھی ہیں، جب کینیڈا کی ایک خاتون وزیر نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کے حوالے سے ایک بہت تنقیدی بیان دیا تھا۔

اس بیان کے بعد ریاض حکومت نے سعودی عرب میں تعینات کینیڈا کے سفیر کو ملک بدر کر دیا تھا اور ساتھ ہی دونوں ممالک کے مابین بہت سے تجارتی اور سرمایہ کاری معاہدے بھی منسوخ کر دیے گئے تھے۔

قریب چھ ماہ قبل کینیڈا اور سعودی عرب کے مابین اس کھچاؤ کی وجہ کینیڈین حکومت کا یہ مطالبہ بنا تھا کہ خلیج کی یہ بہت قدامت پسند عرب بادشاہت اپنے ہاں انسانی حقوق کے احترام کی صورت حال کو بہتر بنائے اور انسانی حقوق کے سرکردہ لیکن زیر حراست کارکنوں کو فوری طور پر رہا کرے۔

کینیڈا کے ساتھ تنازعہ
ان کارکنوں میں ایک تو اپنی سزائے قید کاٹنے والے سعودی بلاگر رائف بدوی ہیں، جن کا خاندان کینیڈا ہی کے صوبے کیوبک میں رہائش پذیر ہے۔ کینیڈا کی اس خاتون وزیر نے خاص طور پر ثمر بدوی کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا تھا، جو رائف بدوی کی ہمشیرہ ہیں اور وہ بھی سعودی عرب میں جیل میں ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کا موقف
اقوام متحدہ کے مہاجرین سے متعلقہ امور کے ہائی کمشنر فیلیپو گرانڈی نے رہف محمد القنون کی ایک مہاجر کے طور پر حیثیت تسلیم کیے جانے کے حوالے سے کہا تھا، ’’مہاجرین کا تحفظ آج کل ایک پرخطر کام ہے، جس کی ہمیشہ ہی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ لیکن رہف القنون کے معاملے میں ترک وطن اور مہاجرت سے متعلق بین الاقومی قانون اور انسانی اقدار کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔‘‘

فیلیپو گرانڈی نے کہا، ’’گزشتہ چند دنوں سے جس طرح رہف محمد القنون کو درپیش صورت حال پر دنیا بھر کی توجہ مرکوز رہی ہے، وہ اس بات کا اندازہ لگا سکنے کا ایک موقع بھی تھا کہ عالمی سطح پر کئی ملین مہاجرین کو کس طرح کے تکلیف دہ حالات کا سامنا ہے۔‘‘

رہف کی بنکاک سے رخصتی
سعودی شہری رہف محمد القنون جمعہ 11 جنوری کو مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے تھائی لینڈ کے دارلحکومت بنکاک سے کینیڈا کے لیے روانہ ہوئیں۔ ان کی روانگی کے بارے میں تھائی امیگریشن پولیس کے سربراہ سوراچاتے ہارکپارن نے صحافیوں کو بتایا، ’’وہ ٹورانٹو کے لیے روانہ ہو چکی ہیں۔ انہوں نے اپنے لیے کینیڈا کا انتخاب کیا۔ اور کینیڈا نے انہیں اپنے ہاں قبول کر لینے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔ وہ اب محفوظ ہیں، بہت اچھی ذہنی اور جسمانی حالت میں بھی اور بہت خوش بھی۔‘‘

’ایک اچھی مثال‘
رہف محمد القنون کا اپنی نئی منزل کینیڈا کا سفر بنکاک کے اسی ہوائی اڈے سے شروع ہوا، جہاں قریب ایک ہفتہ قبل انہوں نے اپنے لیے سیاسی پناہ کی درخواست دینا چاہی تھی اور جس کی وجہ سے دنیا کو ایک ایسا انسان دوست اور مہاجر دوست قانونی عمل دیکھنے کو ملا تھا، جو بہت سے مروجہ دفتری معمولات کے برعکس تھا۔ اس کارروائی کو ماہرین بین الاقوامی سطح پر مہاجرین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ’ایک اچھی مثال‘ کا نام دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *