گزشتہ برس کے اہم واقعے پر جاوید چوہدری کے انکشافات

لاہور (این این ایس نیوز) خاتون کا تعلق فرانس سے تھا‘ فرانس میں تعلیم حاصل کی‘ فرانس ہی میں جوان ہوئی اور فرانس ہی میں شادی ہوئی‘ خاوند گوجرانوالہ کا رہائشی تھا لیکن پیرس میں رہتا تھا‘ خاتون کا میکہ لاہور میں تھا‘ میکے اور سسرال کے تعلقات ٹھیک نہیں تھے‘ خاوند خاتون کومیکے جانے سے روکتا رہتا تھا‘ گھر گوجرانوالہ میں تھا۔نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔یہ گوجرانوالہ ہی میں رہتی تھی‘ پڑھی لکھی‘ بااعتماد اور سمجھ دار تھی‘ یہ 8ستمبر کو شاپنگ کے لیے لاہور گئی‘ تینوں بچے بھی اس کے ساتھ تھے‘ شاپنگ کے بعد والدہ کے گھر چلی گئی‘ رات کا کھانا کھایا‘ بچوں کو نیند

آ گئی تو اس نے گوجرانوالہ واپس جانے کا فیصلہ کر لیا‘ والدہ روکتی رہ گئی لیکن اس کا خیال تھا خاوند کو پتا چل گیا تو وہ ناراض ہو جائے گا‘ لاہور سے گوجرانوالہ کا فاصلہ صرف چالیس منٹ کا تھا‘ یہ اکثر آتی جاتی رہتی تھی لہٰذا پریشانی کی کوئی بات نہیں تھی۔یہ رات ساڑھے بارہ بجے لاہور سے نکلی‘ محمود بوٹی سے موٹر وے پر آئی اور گوجرانوالہ کی طرف ڈرائیو کرنے لگی‘ یہ رات ایک بج کر پانچ منٹ پر ایسٹرن بائی پاس سے لاہور سیالکوٹ موٹروےپر آئی‘ یہ جوں ہی لنک روڈ پر پہنچی‘ اس کی گاڑی کا پٹرول ختم ہو گیا‘ سڑک پر اندھیرا تھا‘ یہ خوف زدہ ہو گئی‘ بچے پچھلی سیٹوں پر سوئے ہوئے تھے‘ اس نے فوراً اپنے خالہ زاد بھائی سردار شہزاد کو فون کیا‘ اس نے اسے مشورہ دیا تم 130 ڈائل کر کے موٹروے پولیس کو اطلاع دے دو‘ میں بھی آ رہا ہوں۔اس نے اپنے دوست جنید کو ساتھ لیا اور یہ گوجرانوالہ سے روانہ ہو گیا‘ خاتون نے ہیلپ لائین پر موٹروے پولیس کوفون کر دیا‘ اسے بتایا گیا آپ ایم الیون کی

لنک روڈ پر ہیں اور یہ موٹروے پولیس کی حد میں نہیں آتی تاہم موٹروے پولیس نے خاتون کو ایک مقامی نمبر دے دیا‘ خاتون نے اس نمبر پر رابطہ کیا اور بتایا میں اکیلی ہوں‘ میرے ساتھ بچے ہیں اور میں اس وقت لنک روڈ پر پھنس گئی ہوں۔اسے بتایا گیا ’’آپ فکر نہ کریں‘ ہم کچھ کرتے ہیں‘‘ میں بات آگے بڑھانے سے پہلے آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں لاہور سیالکوٹ موٹروے مارچ 2020ء میں مکمل ہوئی تھی‘ پنجاب حکومت نے اس کی نگرانی کے لیے اسپیشلفورس بنائی تھی اور یہ فورس پنجاب پولیس یا موٹروے پولیس کے بجائے کمشنر لاہور کے ماتحت تھی مگر یہ بھی مکمل طور پر ایکٹو نہیں تھی چناں چہ لاہور سیالکوٹ موٹروے اور اس کی لنک کا چار کلو میٹر کا ٹکڑا عملاً کسی کے کنٹرول میں نہیں تھا‘ اس کے گرد تین گائوں آباد ہیں‘اس کے لچے لفنگے اکثر موٹر وے پر آ کر گاڑیاں لوٹتے رہتے ہیں۔ایسے بے شمار واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں‘ میں خاتون کی اسٹوری کی طرف واپس آتا ہوں‘ خاتون نے گاڑی اندر

سے لاک کی اور سردار شہزاد اور پولیس کا انتظار کرنے لگی‘ دو گھنٹے گزر گئے مگر پولیس آئی اور نہ سردار شہزاد پہنچا‘ اس دوران دو اوباش وہاں آ گئے‘ پولیس کا خیال ہے یہ دونوں پروفیشنل لٹیرے نہیں تھے کیوں کہ اگر یہ پروفیشنل ہوتے تو ان کا طریقہ واردات مختلف ہوتا‘ یہ قریبی دیہات کے معمولی وارداتیے ہیں‘ یہ تھوڑی دیر گاڑی کو واچ کرتے رہے۔جب دو گھنٹے تک کوئی شخص گاڑی کے قریب نہیں آیا تو پھر انھوں نے اسے لوٹنے کا فیصلہ کر لیا‘سے لاک کی اور سردار شہزاد اور پولیس کا انتظار کرنے لگی‘ دو گھنٹے گزر گئے مگر پولیس آئی اور نہ سردار شہزاد پہنچا‘ اس دوران دو اوباش وہاں آ گئے‘ پولیس کا خیال ہے یہ دونوں پروفیشنل لٹیرے نہیں تھے کیوں کہ اگر یہ پروفیشنل ہوتے تو ان کا طریقہ واردات مختلف ہوتا‘ یہ قریبی دیہات کے معمولی وارداتیے ہیں‘ یہ تھوڑی دیر گاڑی کو واچ کرتے رہے۔جب دو گھنٹے تک کوئی شخص گاڑی کے قریب نہیں آیا تو پھر انھوں نے اسے لوٹنے کا فیصلہ کر لیا‘

ایک مجرم کے ہاتھ میں ڈانگ تھی جب کہ دوسرے کے پاس ایک چھوٹا ہتھیار تھا‘ یہ گاڑی کے قریب پہنچے اور ہتھیار دکھا کر خاتون کو دروازہ کھولنے کا اشارہ کیا‘ خاتون نے انکار کر دیا‘ یہ وارننگز دینے لگے لیکن خاتون نے دروازہ نہ کھولا‘ یہ مشتعل ہو گئے اور ڈنڈے سے شیشہ توڑ دیا‘ بچوں نے رونا شروع کر دیا‘ خاتون ڈر کر سڑک کی طرف دوڑ پڑی‘ ایک ملزم اس کے پیچھے دوڑا۔اس دوران وہاں سے ایک گاڑی گزری‘ گاڑی کے ڈرائیور نے خاتون کو

دیکھ لیا مگر اس کی اسپیڈ زیادہ تھی تاہم گاڑی میں سوار خالد مسعودکے ذہن میں کھٹکا آیا اور اس نے ون فائیو پر پولیس کو اطلاع دے دی‘ اس دوران دوسرے مجرم نے خاتون کا دو سال کا بچہ اٹھایا اور اسے لے کر جنگل کی طرف دوڑ پڑا‘ خاتون بچے کو بچانے کے لیے گاڑی کی طرف واپس آ گئی‘ دوسرے نے اس کے دوسرے بچے بھی گاڑی سے کھینچ کر باہر نکال لیے‘ ماں بچوں کو بچانے کے لیے ان کے ساتھ الجھ پڑی‘ وہ بار بار بچوں کو کلمہ پڑھنے اور اللہ

سے مدد مانگنے کی تلقین بھی کر رہی تھی‘ بچے چیخ رہے تھے۔خاتون مجرموں کی منتیں بھی کر رہی تھی لیکن دنیا میں انسان سے بڑا درندہ کوئی نہیں ہوتا‘یہ جب جانور بنتا ہے تو یہ جانوروں کو بھی شرمندہ کر دیتا ہے‘ یہ بھی درندے تھے‘یہ چاروں کو دھکیل کر سڑک سے نیچے کھائی میں لے گئے‘ آگے جنگل تھا‘ ایک نے تینوں بچوں کو سائیڈ پر پھینکا اور ان کے سر پر ہتھیار رکھ دیا‘ بچے سسک رہے تھے جب کہ دوسرے مجرم نے خاتون کو بے

Comments are closed.