عزت شہرت اور کامیابی کی لکیر

این این ایس نیوز! علم دست شناسی میں ہتھیلی پہ پائی جانے والی تمام علامات کو مد نظر رکھ کر ہی گرافیکل زائچہ بنایا جاتاہے۔آسٹرو پامسٹری کے ماہرین لکیروں کے ساتھ ساتھ علم النجوم اور علم الاعدادکے دست شناسی کے ساتھ باہمی تعلق کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں۔چونکہ ہتھیلی پہ واقع ابھار وں کی ستاروں اور بروج کے ساتھ نسبت پائی جاتی ہے۔ایک سمجھدار اور ماہر پیشین گو تمام تر علمی جہات کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی مشاہدہ بیان کرتا ہے۔

یوں علمی اسلوب اور فنی قواعد و ضوابط کی رو سے کی جانے والی پیش گوئی سے حامل دست بھی فائدہ اٹھاتا ہے اور پیشین گو بھی اپنی انہی صلاحیتوں کے بل بوتے عزت،دولت اور شہرت کمانے کے لائق ہو پاتا ہے۔ہاتھ پر موجود کئی دیگر اہم علامات کے ساتھ ساتھ چند غیر اہم لکیریں بھی پائی جاتی ہیں جن کی تفصیل کچھ یوں ہے:مریخ کی لکیر:یہ خطِ حیات کے نیچے پائی جاتی ہے۔ اسے عام طور قدرتی حفاظت اور بہتر صحت کی علامت گردانا جاتا ہے۔یہ اچانک حادثات،قدرتی آفات اور دشمنوں کی ریشہ دوانیوں سے حفاظت کرنے کی قدرت محافظ کہلاتی ہے۔اس لکیر کی موجودگی میں حامل بعض ایسے حادثات سے بھی بال بال بچ جاتا ہے جن پہ ناقابل یقین حد تک یقین نہیں ہوتا۔ حلقۂ زُہرہ: یہ دل کی لکیر کے بالائی طر ف ہوتا ہے اور ابھارِ زُحل اور ابھارِ شمس کو گھیرے ہوتا ہے۔یہ حامل میں طبعی بے چینی اور فطری لا ابالی پن کی مظہر کہلاتی ہے۔اگر یہ علامت کمزور ہو تو دیگر خوبیوں کے اثر ات میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔خطِ کشف: یہ ایک قوس کی شکل میں ابھارِقمر سے ابھارِ عطارد کی طرف رُخ کرتا ہے۔یہ علامت عام طور پہ خفیہ علوم کے ماہرین کے ہاتھوں پہ دیکھی جا سکتی ہے۔خطِ عیاشی:یہ ابھارِ قمر پر صحت کی لکیر کے متوازی پایا جاتا ہے۔اس کا ابھارِ زہرہ کی طرف رجحان انتہائی خطرناک علامت مانی جاتی ہے۔ خوش بختی کے تین کنگن:یہ ہتھیلی کے آغاز میں کلائی پر پائے جاتے ہیں۔

یہ زندگی کی سہولیات، خاندانی وراثت اور غیر متوقع فوائد کے حصول کا پتہ دیتے ہیں۔ ہتھیلی پر لکیروں کے علاوہ ابھار بھی پائے جاتے ہیں۔مشاہدہ بنانے میں یہ بھی بہت زیادہ مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ انسانی ہاتھ پر پائے جانے والے ابھارات کی کچھ تفصیل اس طرح سے ہے: ابھارِ مشتری : یہ ستارہ مشتری سے منسوب ہے اور یہ انگشت شہادت کی بنیاد پہ واقع ہوتا ہے۔ یہ حکمرانی،حسد،روحانیت کی خوبیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ابھارِ شمس: اس کا تعلق ستارہ شمس سے ہے اور یہ رنگ فنگر کی جڑ میں پایا جاتا ہے۔ آرٹ،فنونِ لطیفہ۔موسیقی اور کامیابیوں کو ظاہر کرتاہے۔ابھارِ زْحل: یہ ستارہ زحل سے منسوب ہے اور یہ درمیانی انگلی کی بنیاد پہ ہوتا ہے۔ مال ودولت،باغبانی اور مادی منصوبوں پر روشنی ڈالتا ہے۔ابھارِ عطارد: اس کا تعلق ستارہ عطا رد سے ہے اور یہ چھوٹی انگلی کے نیچے پایا جاتا ہے۔یہ سائنس، معیشت، انتظامی امور اور صحت کے معاملات روشنی ڈالتا ہے۔ اْبھارِقمر: اس کی نسبت ستارہ قمر سے ہے اور یہ ہتھیلی کے کنارے پہ ابھاہ زہرہ کے سامنے ہوتا ہے۔ یہ سفر،ہیجان،بے سکونی اور تذبذب و توہمات کی عکاسی کرتا ہے۔ علاوہ ازیں ابھارِ قمرپر بے ہنگم اور اینڈی بینڈی لکیروں سے بنا ہوا جال امراضِ معدہ، تخمہ، تیزابیت،تیزابیت،گیس اور اکثر اوقات ورمِ معدہ کو بیان کرتا ہے۔اْبھارِ مریخ : یہ دو طرح کا ہوتا ہے مثبت اور منفی اور کا تعلق ستارہ مریخ سے ہے۔یہ جنگ، صلح، امن، بہادری ، شجاعت، منصوبہ بندی کو بیان کرتا ہے۔ مریخ کے ابھار پر پھیلی ہوئی لکیریں ذہنی ٹینشن، ڈپریشن،پریشانی اور طبعی بے چینی کو ظاہر کرتی ہیں۔حامل کے مزاج میں چڑچڑے پن کو بھی بیان کرتی ہیں۔اْبھارِ زْہرہ : یہ ستارہ زہرہ سے منسوب ہے اور انگوٹھے کی بنیاد پہ پایا جاتا ہے۔یہ رومانس ،محبت ، عشق،آرٹ،شعرو ادب، تعلقات ، جنسِ مخالف کے لئے کشش، اور جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ ابھارِ زہرہ کا تنگ اور ضرورت سے زیادہ پچکا ہوا ہونا بانجھ پن کی علامت خیال کی جاتی ہے۔

Comments are closed.