عید کی نماز پڑھنے والےنبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان لازمی سن لیں

این این ایس نیوز! اگر کوئی شخص عید کی نماز امام کے پیچھے نہ پڑھ سکے یا کسی وجہ سے اس کی عید کی نماز فاسد ہو جائے تو شرعًا اس کی قضا کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا، نہ وقت کے اندر نہ اس کے بعد۔

ہاں اگر وہ شخص چاہے تو نمازِ چاشت کی چار رکعتیں بغیر اضافی تکبیرات کے پڑھ لے۔ پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ سورۃ الاعلی اور دوسری رکعت میں سورۃ الضحٰی، تیسری میں سورۃ الانشراح اور چوتھی میں سورۃ التین پڑھی جائے۔
عید کی نماز دو رکعت ہے اور ارکان و سنن وغیرہ میں دیگر نمازوں کی طرح ہے اور نیت “عید کی نماز” کی کرے اور یہ اس کا ادنیٰ طریقہ ہے۔

اکمل طریقہ
حدیث: آپ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیر کہا کرتے۔(احمد،ابوداود،ابن ماجہ،دار قطنی صححہ احمد و علی و البخاری/تلخیص الحبیر)

تکبیرِ تحریمہ کے بعد دعائے استفتاح (یعنی وجھت وجھی) پڑھے اس کے بعد پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ اور رکوع کی تکبیر کے علاوہ مزید سات(7) تکبیریں کہے اور دوسری رکعت میں سجدہ سے اٹھنے اور رکوع کے لئے جھکنے کی تکبیر کے علاوہ پانچ (5) زائد تکبیرات کہے۔ اور ان زائد تکبیرات میں ہر دو تکبیروں کے درمیان ایک متوسط آیت کے بقدر ٹھہرنا مستحب ہے( تقریباً سورہ اخلاص کے بقدر ٹھہرے۔تحفه)

مسئلہ: ہر دو تکبیروں کے درمیان ایسے الفاظ پڑھنا مستحب ہے، جن میں اللہ تعالیٰ کی حمد، کبریائی، بزرگی بیان ہو(بیھقی)۔

اسی لئے ان الفاظ کا پڑھنا مستحب ہے۔
سُبْحَانُ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَاَللَّهُ أَكْبَرُ
ان کلمات کے ساتھ دیگر کلمات کا اضافہ کرنا بھی جائز ہے۔ مثلاً یہ پڑھے

وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إلَّا بِاَللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ
نوٹ:لیکن ذکر اتنا طویل بھی نہ ہو جائے کہ تکبیرات کے درمیان عرفاً طویل فاصلہ شمار ہو۔(حاشیۃ الجمل ۲/۹۵)۔

نوٹ:-ایک بات یہ ذہن میں رہے کہ مذکورہ ذکر پہلی رکعت میں ساتویں تکبیر اور دوسری رکعت میں پانچویں تکبیر کے بعد نہ پڑھے، بلکہ اس تکبیر کے بعد(یعنی پہلی رکعت میں ساتویں تکبیر کے بعد اور دوسری رکعت میں پانچویں تکبیر کے بعد) تعوذ(یعنی اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم) پڑھے۔

مسئلہ:اسی طرح پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ اور زائد تکبیرات میں سے پہلی تکبیر کے درمیان اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیروں میں سے پہلی تکبیر سے پہلے نہ پڑھے۔(یعنی پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ اور پہلی زائد تکبیر کے درمیان ذکر نہ کرے وہاں تو دعائے استفاتح پڑھنا ہے اسی طرح دوسری رکعت کے لئے جو کھڑے ہوں گے وہ تکبیر اور زائد تکبیر کے درمیان ذکر نہ کریں)

امام نووویؒ نے المجموع میں امام شافعیؒ کا قول نقل کیا ہے کہ ان زائد تکبیرات کے درمیان ذکر سے فصل نہ کرتے ہوئے پے در پے ان تکبیرات کو کہنا مکروہ ہے۔(المجموع ۵/۱۷)۔

مسئلہ:ان زائد تکبیرات کے بعد تعوّذ پڑھ کر سورہ فاتحہ پڑھے ( یعنی پہلی رکعت میں سات زائد تکبیرات کے بعد اور دوسری میں پانچ زائد تکبیرات کے بعد) اور اگر (کسی نے زائد تکبیرات سے پہلے تعوذ پڑھ لی تو اس سے تکبیرات فوت نہ ہوں گی) اگر سورہ فاتحہ شروع کر چکا تو زائد تکبیرات فوت ہوچکیں، لوٹ کر (تکبیرات)پڑھنا مسنون نہیں۔ لیکن رکوع سے پہلے لوٹ کر ان تکبیروں کو پڑھے تو نماز باطل نہ ہوگی۔ رکوع سے ان تکبیروں کے لئے لوتے تو نماز باطل ہوگی۔(اعانة ۱/۲۶۲)

مسئلہ:سورہ فاتحہ کے بعد پہلی رکعت میں سورہ ق اور دوسری رکعت میں سورہ قمر مکمل یا

پہلی رکعت میں سورہ اعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورہ غاشیۃ پڑھنا سنت ہے۔(چاہے مقتدی راضی نہ ہو)۔

حدیث: (۱) آپ ﷺ “عیدالفطر اور عید الاضحیٰ میں سورہ ق اور سورہ قمر پڑھا کرتے تھے”(رواہ مسلم)۔

حدیث: (۲) حضرت نعمان بن بشیرؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ سورہ اعلیٰ اور سورہ غاشیۃ پڑھا کرت تھے(رواہ مسلم)۔

نوٹ:پہلی دو سورتوں یعنی سورہ ق اور سورہ قمر کا پڑھنا افضل ہے۔

زائد تکبیرات میں رفع یدین
زائد تکبیرات میں رفع یدین (یعنی دونوں ہاتھ کاندھوں تک اٹھانا) سنت ہے کیوں کہ حضرت عمرؓ ان تکبیرات میں رفع یدین کرتے تھے(رواہ البیہقی)۔

مسئلہ:ہر تکبیر کے بعد (عام نمازوں کی طرح سینہ کے نیچے ناف کے اوپر) دایاں ہاتھ بائیں پر رکھے۔

مسئلہ: عید کی نماز میں قرأت اور زائد تکبیرات جہراً کہنا سنت ہے۔ البتہ تکبیرات کے درمیان ذکر سراً کہے۔

مسئلہ: زائد تکبیرات میں مقتدی کہ بھی جہر مسنون ہے نیز قضاء پڑھنے کی صورت میں بھی مسنون ہے۔(الشروانی ۲/۴۹۵)۔

(مأخوذ ملخصاً تحفة الباری فی الفقه الشافعی ازشیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ابراہیم بن علی خطیب حفظہ اللہ)

Comments are closed.