ماہ رمضان میں صرف تین دن بسم اللہ کا وظیفہ پڑھو لو 3دن میں اللہ کی غیبی مدد سے آپ کونیا گھر مل جائے گا

این این ایس نیوز! آج ہم آپ کو ایک ایسا وظیفہ بتائیں گے جو کہ ” بسم اللہ ” شریف کا ہے یہ خاص وظیفہ ماہ رمضان میں صرف تین دن کرناہے۔ اگر ماہ رمضان میں صرف تین دن “بسم اللہ ” شریف کا یہ وظیفہ آپ کرلیتے ہیں۔ تو یقین مانیں کہ صر ف تین دن کے اندر اللہ کی غیبی مدد سے آپ کو گارنٹی کے ساتھ اپنا نیاگھر مل جائےگا۔ یہ خاص عمل آپ نے کسی بھی بڑے مقصد کو پورارکرنے کے لیے یہ عمل کرسکتےہیں ۔

کوئی بھی آپ کی حاجت ہے جو ابھی تک پوری نہیں ہورہی ہے۔ تو “بسم اللہ ” شریف کو جو وظیفہ ہے آپ کرسکتے ہیں ۔ انشاءاللہ! یہ عمل کرکے آپ فیضیاب ہوجائیں گے۔ اگر ہم “بسم اللہ الرحمن الرحیم ” کے فضائل بیا ن کریں تو چند فضائل آپ کو پیش کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بعض چھوٹی چیزوں میں بڑی برکت عطا کی ہے ” بسم اللہ ” بھی اسی میں شامل ہے۔ اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد حاصل ہوتی ہے۔ اس چھوٹی آیت میں اس قدر طاقت ہے کوئی عام مسلمان تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ہمارے پاس “بسم اللہ ” جیسی قوت و طاقت ہونے کے باوجود اگر ہم مایوس ہوتےہیں تو یہ بڑے افسوس کی بات ہے ۔ ” بسم اللہ ” کے بڑے فضائل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ : مجھ پر ایک ایسی آیت اتار ی ہے جو کسی نبی پر سوائے حضرت سلیمان ؑ کے ایسی آیت نہیں اتاری ہے۔ وہ آیت”بسم اللہ الرحمن الرحیم” ہے۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ جب یہ آیت اتری توبادل مشرق کی طرف جھٹ گئے ۔ ہوائیں ساکن ہوگئے۔ سمندر ٹھہر گئے ۔ جانوروں نے کان لگا لیجیے۔ شیاطین پر آسمان سے شعلے گرے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عزتو ں جلال کی قسم کھا کر فرمایا: جس چیز پر میرا یہ نام لیا جائے گا اس میں ضرور برکت ہوگی۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جہنم کے انیس دروغے سے جو بچنا چاہے وہ ” بسم اللہ ” پڑھے۔ اس کے بھی انیس حروف ہیں ۔ ہر حروف جو ہے ہر فرشتے سے بچاؤ بن جائے گا۔ اسی طرح ” بسم اللہ ” کے انیس حروف ہیں ۔

اور وہاں فرشتوں کی تعداد بھی انیس ہے۔ تاجدار مدینہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: ایسی کوئی دعا رد نہیں ہوتی جس کے آغاز میں ” بسم اللہ ” ہو۔ آ پ نے فرمایا: قیامت کے دن بلا شبہ میری امت “بسم اللہ ” کہتی ہوئی آگے بڑھے گی۔ اور میزان میں اس کی نیکیاں وزنی ہوجائیں گی۔ اس وقت دوسری امتیں کہیں گی۔ امت محمدیہ کے ترازو میں کس قدر وزنی اعمال ہیں ۔ انبیائے کرام ان کے جواب میں فرمائیں گے کہ امت محمدیہ کی اکلام کا آغا ز اللہ کے تین ایسے ناموں سے ہے کہ ان کو ترازو کے ایک پلڑا میں رکھ دیا جائے تو تمام مخلوق کی برائیاں دوسرے پلڑے میں رکھ دی جائیں ۔ تب بھی یقینا ً نیکیاں جو ہیں وہ بھار ی ہوں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *