افغان لڑکی، لڑکا بن کر اپنی زندگی گزار رہی ہے

این این ایس نیوز! ستارہ وفادار کا کوئی بھائی نہیں  ہے، جس کی وجہ سے انہیں  والدین کے کہنے پر بیٹا بننا پڑا۔ وہ دس سالوں سے  لڑکے کی طرح زندگی گزار رہی ہیں۔18سالہ ستارہ  اپنے خاندان کے ساتھ افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے ایک گاؤں میں مٹی  کی اینٹوں سے بنے گھر میں رہتی ہیں۔ انہوں نے ا پنی زندگی کا بڑا حصہ خود کو لڑکا ظاہر کرتے گزار دیا ۔

ہر صبح وہ بڑی سی بیگی شرٹ، ٹراؤزر اور چپل پہنتی ہیں اور اپنے والد کے ساتھ کام پر چلی جاتی ہیں۔  لڑکوں کی طرح لگنے کے لیے وہ اپنی آواز بھی بھاری کر لیتی ہیں اور اکثر اپنے بالوں کو سکارف سے بھی چھپا لیتی ہیں۔ستارہ نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کبھی خود کے لڑکی ہونے کے بارے میں نہیں سوچا۔ وہ اپنے والد کے ساتھ ایک بھٹے پر ہفتے میں 6 دن کام کرتی ہیں۔ان کے والد نے بھٹے کے مالک سے قرض لیا تھا، جسے اتارنے کے لیے انہیں بھٹے پر کام کرنا پڑتا ہے۔ستارہ نے بتایا کہ اُن کے والد اسے اپنا بڑا بیٹا سمجھتے ہیں، اور بیٹے کی طرح ہی وہ لوگوں کے جنازوں میں بھی شریک ہوتیں ہیں۔ستارہ ہر روز 500 اینٹیں بناتی ہیں، جس کے انہیں 160 افغانی یا 2 ڈالر ملتے ہیں۔ستارہ کو ایک رسم ”بچہ پوشی“ کے تحت لڑکا بنایا گیا تھا۔ اس کا دری زبان میں مطلب لڑکی کو لڑکوں کے کپڑے پہنانا ہے۔ایسے گھرانوں میں جہاں کوئی بیٹا نہ ہو، ایک بیٹی کو اس رسم کے تحت لڑکوں کے کپڑے پہنا دئیے جاتے ہیں، جس کے بعد وہ لڑکوں والے کام کرتیں ہیں۔لیکن کچھ لڑکیاں آزادی سے گھومنے پھرنے کے لیے لڑکوں کے کپڑے پہنتی ہیں۔اکثر حالات میں بچہ پوش لڑکیاں بالغ ہونے پر لڑکوں کے کپڑے پہننا چھوڑ دیتی ہیں لیکن ستارہ کا کہنا ہے کہ وہ کام پر خود کو محفوظ رکھنے کے لیے لڑکوں کے کپڑے پہنتی ہیں۔ ستارہ نے بتایا کہ اس کے کام کی جگہ پر کسی کو نہیں معلوم کہ وہ لڑکی ہیں۔ اگر معلوم ہو جائے تو اس کے لیے مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں، وہ اغوا بھی ہو سکتی ہیں۔ستارہ کی چار بڑی بہنیں بھی بچپن میں ایٹیوں کے بھٹےپر کام کرتیں تھیں لیکن شادی کے بعد اب گھروں میں رہتی ہیں۔

Comments are closed.