میاں بیوی کا یہ عمل جائز ہے ؟

این این ایس نیوز!قربت کرتے ہوئے کیا بیوی بطور عزل اپنے شوہر کو ہاتھ سے فارغ کرسکتی ہے؟ یعنی شوہر انزال سے کچھ پہلے عضو باہر نکال لے اور بیوی اپنے ہاتھ سے اس کو فارغ کرادے، کیا یہ جائز ہے؟جواب: دونوں کی گنجائش ہے؛ البتہ خلافِ اولیٰ ہے، نیز دوسری صورت عزل کی ہے جو بیوی کی اجازت سے جائز ہے۔سوال کیا گیا ہے کہ ان کے شوہر ڈیڑھ سال سے کام کی غرض سے مقیم ہیں اور ڈیڑھ سال سے وہ اپنے گھر نہیں آئے اور نہ ہی بیوی سے قربت ہوسکی ہے وہ پوچھتی ہیں کہ میرے شوہر مجھ سے وڈیو کال پر بات کرتے ہیں۔

اکثر باتوں باتوں میں ہم دونوں کے جذبات بھڑک اٹھتے ہیں او ر وہ مجھ سے کپڑے اتارنے ش رم گ اہ دکھانے پ س ت ان دکھانے کی ضد کرتے ہیں اور خود بھی ب رہ ن ہ ہوجاتے ہیں اور پھر جذبات بھڑک اٹھتے ہیں تو کیا ایسے میں ہم اپنے ہاتھ سےفارغ ہوسکتے ہیں ؟ سوال چونکہ ایک حقیقت پر مبنی ہے اور۔ ایسا ہونا آج کے میڈیا کے دور میں عام بات ہے کیونکہ میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں تو جذبات بھڑک جانا یا بے قابو ہوجانا ایک فطری بات ہے اس سوال میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے۔

کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو ب رہ ن ہ دیکھتے ہیں اگر شریعت کے اعتبارسے ایک دوسرے کو بے لباس دیکھتے ہیں تو ایسا کرنے میں گ ن اہ کا عنصر شامل نہیں یعنی اس عمل سے ان کو گ ن ا ہ نہیں ملتا لیکن چونکہ وہ ایک دوسرے کو چھ و نہیں سکتے جذبات کو ٹھنڈ ا نہیں کرسکتےتو یہ عمل اس قدر شک میں ڈالتا ہے حالانکہ میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے اور ان کو ایک دوسرے کے جسم کی ہر جگہ ہر چیز دیکھنے کا پورا پورا حق ہے

لیکن اس کو دیکھنے کے بعد چھونا اور پھر جو ش ہ وت سر چڑھ جاتی ہے اس کو ٹھنڈا کرنا بھی میاں بیوی کا فرض ہے اب جبکہ مرد غیر ملک میں ہے تو یقینا وہ اپنے ہاتھ سے اپنے جسم سے اور ج ن س ی عمل کے بنا ایک دوسرے کو کیسے مطمئن کرسکتے ہیں وڈیو میں ب رہ ن ہ دیکھنے سے جذبات صرف بڑھک سکتے ہیں اور کسی گ ن اہ کا مرتکب کر سکتے ہیں تو وڈیو کال پر میاں بیوی ایک دوسرے کو دیکھنے سے یقینا ہی گ ن ا ہ ہوگا ایسا کرنا بالکل جائز نہیں۔اگر کسی خاتون کا شوہر غیر ملک میں یا کسی بھی صورت میں اس کے پاس موجود نہیں ہے تو اس کو حتی الامکان کوشش کرنی چاہئے کہ وہ نا پاک گفتگو نہ کریں اور اس سے احتیاط کریں ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Comments are closed.