حضرت علی رضی اللہ عنہ وقت سے پہلے کیسے پتا چلے گا سامنے والا شخص سچا پیا ر کرتا ہے یا نہیں ؟زندگی بدلنے والی معلومات

وقت سے پہلے کیسے پتا چلے گا سامنے والا شخص سچا پیا ر کرتا ہے یا نہیں ؟ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کچھ نصیحتو ں کا مطالبہ کیا آپ نے فرمایا: اپنے ر ب کے سوا کبھی کسی سے امید وابستہ نہ کرنا۔ اگر کبھی ڈرنا ہوا تو اپنے گنا ہ وں سے ڈرنا۔ جس بات کا تجھے علم نہ ہو وہ بیان مت کرو۔ اے انسان! تجھے جو چیز تبا ہ کرے گی وہ تیرے گن ا ہ ہیں۔

جو بات کسی کے بارے میں تم نہیں جانتے اسے جاننے کی کوشش مت کرو۔ ایک عورت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی: میں نے زندگی میں بہت دھوکے کھائے ہیں انسان با ہر سے کچھ اور اندر سے کچھ اور ہوتے ہیں۔ ہمیشہ میں نے دوسروں سے بھلائی کی بھروسہ کیا ، اعتبار کیا، لیکن بدلے میں مجھے ہمیشہ دکھ اور تکلیف ملی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عورت ! یاد رکھو جس کے ساتھ نیکی کرو اس کے شر سے بچو انسان سے کی جانے والی نیکیوں کا بدلہ انسان سے نہیں بلکہ انسان کے خالق سے طلب کرو۔پھراس عورت نے آپ سے کہا! حضرت علی رضی اللہ عنہ میرا ایک سوا ل ہے آپ نے کہا! آج تک میرے در سے کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹا کہو جو کہنا چاہتی ہو۔ ۔اس عورت نے دونو ں ہاتھوں کو جوڑ کر کہا کیا کوئی ایسا عمل ہے جس سے وقت سے پہلے معلوم ہوجائے کہ سامنے والا انسان ہم سے سچا پیار کرتا ہے یا نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہا ں ہے اللہ پاک کے علم میں کسی بھی چیز کی کوئی کمی نہیں اگر تم یہ دیکھنا چاہتی ہو کہ سامنے والا انسان تم سے سچا پیار کرتا ہے

یا نہیں تو تم تین مرتبہ “یا ودودو، یاحکیم ، یاکریم ، یارحمان” دل میں پڑھو۔ اور اس شخص کے چہرے میں دیکھو! اگر سامنے والے کا چہرہ منحوس نظر آئے تو سمجھ جانا آنے والے وقت میں وہ تمہیں دھوکہ اور تکلیف دے گالیکن اگر سامنے والے انسان کا چہرہ مطمئن رہے تو سمجھ جانا یہ انسان تم سے پیار تو نہیں کرتا لیکن دھوکہ بھی بھی دے گا۔ لیکن اگر سامنے والے کا چہرہ مسکرائے اور اس کی آنکھوں سے پیار جھلکنے لگے تو سمجھ جانا یہ انسان خود سے بھی زیادہ تم سے پیار کرتا ہے۔کسی کے برا کہہ دینے سے نہ ہم برے بن جاتے ہیں اور نہ ہی اچھے اپنی زبان سے ہرشخص اپنا ظرف دکھاتا ہے دوسرے کا عکس نہیں۔ جوتم چاہتے ہو اسے صرف تم اسی صورت میں پاسکتے ہو جبکہ تم اس پر صبر کرو جو تم نہیں چاہتے۔ اونٹ کا سوئی کے سوراخ سے گزرنا آسان ہے بہ نسبت اس کے ایک دولت مند جنت میں داخل ہوجائے۔ ک فر کے بعد سب سے بڑا گ ن ا ہ کسی کی دل آزاری ہے۔ زمین کی اچھائی یا ب رائی کامعیار اس کی پیداوار ہے خیالات دل کی پیداوار ہیں ان سے دل کی اچھائی یا بر ائ معلوم کی جاسکتی ہے۔

Comments are closed.