یہ غلطی کبھی مت کریں

این این ایس نیوز!اگر انسان کے گردے خراب ہونے لگیں تو اس کی کچھ علامات پہلے ظاہر ہوجاتی ہیں لیکن لوگ انہیں نظر انداز کردیتے ہیں اور سنگین نقصان اٹھاتے ہیں۔آئیے آپ کو ایسی پانچ علامات اور ان کا طریقہ علاج کے بارے میں بتاتے ہیں ۔

کمر کے پچھلے حصے میں نچلی جانب درد
یہ گردے کی خرابی کی سب سے پہلے ظاہر ہونے والی علامت ہے اور اگر اسے سنجیدگی سے لے لیاجائے تو بڑے نقصان سے بچا جاسکتاہے۔بعض اوقات یہ صرف خراب گردے کی جانب ظاہر ہوتی ہے اور اس کی وجہ ماہرین یہ بتاتے ہیں کہ مریض اسی کروٹ سوتا ہے جس جانب گردے میں تکلیف ہو۔

گردوں کا سب سے بنیادی کام جسم سے پیشاب کے ذریعے فاسد مادوں کا اخراج ہے لیکن جب یہ ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتے اور پیشاب صحیح طرح نہیں آتا تو زہریلے مادے جسم میں ہی رہ جاتے ہیں اورہماری جلد پر سرخی آتی ہے اور ساتھ ہی جلد خشک ہوجاتی ہے اور کبھی کبھار اس پر خارش بھی ہوتی ہے۔
پیشاب کے معمولات میں تبدیلی

گردوں کی خرابی کی وجہ سے پیشاب کے معمولات میں بھی تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے۔یہ ممکن ہے کہ آپ کے پیشاب میں خو ن آنے لگے،پیشاب کرنے میں تکلیف ہو،پیشاب میں بلبلے ہوں،رات کو سوتے میں پیشاب نکل جائے یا اس کی رنگت ہی تبدیل ہوجائے۔

ان میں سے کوئی بھی علامت ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر اپنے گردوں کے علاج کے لئے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
جسم کے مختلف اعضاءمیں سوزش

پیشاب نہ آنے کی وجہ سے فاسد مادے جسم کے اندر رہ جاتے ہیں اور یہ جسم کے مختلف حصوں پر سوزش کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔یہ علامت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب گردوں کو کافی زیادہ نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔

تھکاوٹ اور کمزوری
ہمارا جسم اریتھروپائیوٹین نامی ہارمون پیدا کرتا ہے جس کی مدد سے خون کے سرخ خلیے پیدا ہوتے ہیں اور ہمارا خون آکسیجن جذب کرتا ہے۔لیکن گردوں میں خرابی کی وجہ سے یہ ہارمون صحیح طرح پیدا نہیں ہوتااور جسم خون کی کمی کا شکار ہونے لگتا ہے۔اس کمی کی وجہ سے جسم تکان اور کمزوری کا شکار ہوجاتا ہے اور ہلکا سا کام کرنے پر بھی انسان تھک جاتا ہے۔

گردے کی بیماری کی وجوہات
گردے کی خرابی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں بلڈ پریشر اور ذیابیطس سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ان بیماریوں کی وجہ سے گردوں میں موجود کروڑوں نیفران متاثر ہوکر ختم ہوجاتے ہیں اور گردے ناکارہ ہونے لگتے ہیں۔

گردوں کی خرابی کی ایک اور وجہ فضائی آلودگی بھی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ فضاءمیں تیل اور گیس کے جلنے کی وجہ سے خطرناک عنصر کیڈیم پیدا ہوتا ہے جو کہ گردوں کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔تمباکو نوشی کرنے والے افراد کے پھیپھڑوں میں کیڈیم بہت تیزی سے جاتا ہے جس کی وجہ سے گردوں کو نقصان پہنچنے کا زیادہ اندیشہ ہوتاہے۔

گردے کی بیماری سے بچنے کے طریقے
گردوں کی کارکردگی کو غذا اور معمولات زندگی میں تبدیلی کرکے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔تمباکو نوشی میں کمی انتہائی ضروری ہے اور اسی طرح نمک کا استعمال کم کیا جائے تاکہ بلڈ پریشر کنٹرول میں رہے۔باقاعدگی سے ورزش اور پانی کا زیادہ استعمال گردوں کو صحت مند رکھتا ہے۔

گردے کمزور کیوں ہوتے ہیں سائنسدانوں نے پتہ چلا لیا
دنیا بھر میں گردوں کی بیماریوں میں روز افروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ کشمیر میں ہزاروں لاکھوں لوگ گردوں کے امراض میں مبتلا ہیں ، مگر وہ بے خبری کے عالم میں زندگی کی شاہراہ پر ’’رینگ ‘‘رہے ہیں ۔ ان کے علامات اتنے واضح یا شدید نہیں ہوتے کہ وہ کسی معالج سے مشورہ کرنے کے بارے میں سوچ سکیں ۔

گردوں کے دیرینہ یا مزمن مرض میں مبتلا ہونے کے بعد گردوں کی ناکامی میں مبتلا ہونے کے درمیان برسوں کا فاصلہ ہوتا ہے ۔ بعض لوگ گردوں کے دیرینہ امراض میں مبتلا ہونے کے باوجود بھی ایک نارمل زندگی گزارتے ہیں ۔ انہیں کبھی گردوں کی ناکامی کا سامنا ہی نہیں کرنا پڑتا ہے ۔ بہرحال عام اور سیدھے سادے لوگوں کے لئے گردوں کی بیماریوں سے متعلق معلومات ایک طاقت ہے ۔

اگر وہ گردوں کی بیماریوں کے علامات کی معلومات رکھتے ہوں تو وہ مرض میں مبتلا ہوتے ہی کسی معالج سے مشورہ کرسکتے ہیں ۔ اگر آپ یا آپ کا کوئی آشنا درج ذیل علامات میں سے ایک یا ایک سے زیادہ کا اظہار کرتا ہے تو آپ کو فوری طورکسی ماہر معالج سے مشورہ کرنا چاہئے۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ بعض علامات گردوں کی بیماریوں کیبجائے کسی اور بیماری کی وجہ سے بھی ہوسکتے ہیں ۔

علامت نمبر1: ہر انسان میں ریڑھ کی ہڈی کے دونوں طرف دو گردے ہوتے ہیں ۔ ان کا کام جسم کے اندر موجود محلول(پانی)اور دیگر مائع جات کو فلٹر کرنا ہے اور جسم سے ردی، فالتو اور زہریلا مواد خارج کرنا ہے۔ پانی اور نمکیات کی مقدار کو طبعی حدود میں رکھنے کے علاوہ بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنا ہے اور خو ن میں خلیات کی تعداد کو مقررہ مقدار میں رکھنے کے لئے ہارمون ترشح کرنا ہے ۔

اگر گردوں یا اس کے ساتھ وابستہ اعضاء میں کوئی خرابی یا بیماری ہو تو پیشاب کے رنگ اور بہاؤ میں بدلاؤ آسکتا ہے ۔ آپ کے پیشاب کا رنگ بدلا ہوا ہے ، نارمل پیشاب ہلکے قہوہ رنگ کا ہوتا ہے ۔ اگر یہ لال، زیادہ پیلا، پیلا، سبز، کالا، سفید دودھیا، زیادہ جھاگ دار، نیلا، نارنجی یا گہرے رنگ کا ہو تو فوری آزمائش ادرار کریں ۔ آپ کو بار بار پیشاب کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔

آپ بہت زیادہ یا بہت کم پیشاب کرتے ہیں۔پیشاب رُک رُک کر آتا ہے پیشاب کرتے وقت ہچکچاہٹ ، جلن یا سوزش محسوس ہوتی ہے۔اگر جلدی سے باتھ روم نہ پہنچے، تو پیشاب قطرہ قطرہ ٹپکنے لگتا ہے یا اس پر کنٹرول ہی نہیں رہتا ہے ۔ ایسامحسوس ہوتا ہے، جیسے پیشاب کرنے کے بعد ابھی مثانہ پوری طرح خالی نہیں ہوا ہے ۔ پیشاب کے ساتھ (یا پیشاب کرنے سے پہلے یا آخر میں )خو ن بھی آتا ہے ۔

پیشاب کرتے وقت زور لگا نا پڑتا ہے تاکہ مثانہ خالی ہو جائے ۔ رات کو دو تین بار جاگنا پڑتا ہے ۔ پیشاب کرنے کے لئے جاگنے کی وجہ سے نیند میں خلل پڑتا ہے ۔ علامت نمبر 2: جب گردوں کو کوئی مرض بہت دیر تک اپنی لپیٹ میں لئے پھرے تو دونوں گردے دھیرے دھیرے خستہ ہو جاتے ہیں اور وہ اضافی پانی جسم سے خارج کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں ، جس سے پیروں ، ٹخنوں ، ٹانگوں ، ہاتھوں میں اور چہرے پر ورم ظاہر ہو جاتا ہے ۔

صبح کے وقت آنکھوں کے نچلے حصوں میں ورم نمایاں ہوتا ہے اور ٹانگوں ، پیروں ، ٹخنوں پر اگر ہاتھ کے انگوٹھے سے دباؤ ڈالا جائے ، تو دبانے کی جگہ گڑھا جیسا نمودار ہو جاتا ہے ۔ علامت نمبر3: تھکاوٹ: صحت مند گردے ایک انتہائی اہم ہارمون اریتھروپوئیٹین بناتے ہیں ۔ یہ ہارمون جسم کے خلیات کو آکسیجن پہنچانے والی (خون میں موجود) سرخ خلیات کو بنانے میں اہم ترین رول ادا کرتا ہے ۔

جب گردے صحیح ڈھنگ سے اپنا کام انجام دینے میں ناکام ہوں تو اس اہم ہارمون کی کمی واقع ہو جاتی ہے، نتیجہ یہ کہ سرخ خلیات کی تعداد میں نمایاں کمی ہو جاتی ہے ۔ اس لئے دماغ اور عضلات جلدی تھک جاتے ہیں اور مریض تھکاوٹ محسوس کرتا ہے، اُسے ہر وقت اپنا آپ خستہ و کوفتہ لگتا ہے ۔ علامت نمبر4: الرجی، خارش: انسانی جسم میں دو گردے جھاڑ پونچھ اور صفائی کا کام کرتے ہیں۔

یہ جسم سے فالتو زہریلا مواد خارج کرنے میں اپنا اہم رول نبھاتے ہیں۔ جب گردے کسی بیماری کی وجہ سے روٹھ جائیں ،تو یہ زہریلا اور غیر ضروری مواد خارج نہیں کرسکتے ہیں اور وہ مواد جسم میں جمع ہو جاتا ہے ۔ مریض کو ہر وقت جسم کی جلد پر حساسیت (الرجی)نظر آتی ہے اور اسے ہر وقت جلد کھجلانے کی ضرورت پیش آتی ہے ۔

بسااوقات اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نہ صرف جلد بلکہ ہڈیوں کے اندر بھی خارش ہو رہی ہے۔ مریض اتنی شدت سے جلد کو رگڑتا ہے کہ کسی وقت اس کی جلد زخمی ہو جاتی ہے اور اس سے خون بہنے لگتا ہے۔ مریض کو یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے اس کی جلد میں دراڑیں پڑی ہوں اور وہ ایک عجیب سی بے قرار ی کا شکار ہو جاتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *