سعودی خواتین اور آپ میں بہت کچھ ایک جیسا ہے

این این ایس نیوز!چند ہفتے قبل ایک لڑکی کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ صحرا میں مٹر گشتی کرتے نظر آتی ہے۔ یہ ویڈیو اتنی بڑی خبر اس لیے بن گئی تھی کیونکہ اس ویڈیو میں لڑکی نے ایک مخصوص ملک میں ایک مخصوص قسم کا لباس پہنا ہوا تھا۔ لباس تھا اسکرٹ اور چھوٹی سی شرٹ، جبکہ ملک تھا سعودی عرب۔

یہ تو سب ہی کو پتہ ہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو عبائے سے اپنا جسم ڈھکنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ چونکہ میں سعودی عرب میں پیدا ہوئی اور وہاں بڑی ہوئی لہٰذا میں اس قانون سے اچھی طرح واقف ہوں۔

میں سمجھتی ہوں کہ ایسے سخت قوانین کے باوجود، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ لوگ آخر لوگ ہی ہوتے ہیں، بھلے ہی وہ جہاں کہیں بھی ہوں یا کسی بھی ثقافتی ماحول میں زندگی گزارتے ہوں۔

کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی کے جو برس سعودی عرب میں گزارے وہ باقی دنیا سے کافی مختلف ماحول میں گزارے ہوں گے اور لوگ جس طرح کے سوالات اکثر پوچھتے ہیں، ان سب باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ دراصل کافی غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔

سعودی عرب میں مجھے پہلے تارکین وطن کے لیے ایک بین الاقوامی امریکی اسکول اور بعد میں صرف اور صرف لڑکیوں کے لیے مختص سعودی اسکول میں پڑھنے کا موقعہ ملا۔ اگرچہ دونوں اسکولوں کی پالیسیاں ایک دوسرے سے مختلف تھیں مگر میں نے میری اور اپنی سعودی ہم جماعتوں کی دلچسپیوں میں کوئی فرق نہیں پایا۔

مجھے سعودی اسکول میں اپنا پہلا ہفتہ آج بھی یاد ہے، اس وقت میں گھبرائی ہوئی تھی کہ میرے لیے وہاں سب کچھ نیا اور غیر مانوس ہوگا۔ کیونکہ اس سے پہلے میں ایک بین الاقوامی اسکول میں پڑھی تھی جہاں سعودیوں کو پڑھنے کی اجازت نہیں ہوتی، لہٰذا میں ان کے ملک میں قیام پذیر تو تھی مگر سعودیوں کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزارا تھا۔

میں امریکی لہجے میں بوائے بینڈز، پیزا اور خریداری کی باتیں کرنے اور اسکول میں گھر کے عام کپڑے پہننے کی عادی تھی۔ لیکن اب مجھے یونیفارم پہننا تھا اور صبح سب سے پہلے صف میں کھڑے ہو کر سعودی قومی ترانہ پڑھنا تھا۔

لینگویج (زبان) کلاس میں مرکزی طور پر عربی زبان پڑھائی جاتی تھی جبکہ اس اسکول میں آرٹ اور میوزک جیسے انتخاب پر منحصر مضامین کے بجائے میرے نئے نصاب میں اسلامی تعلیمات شامل تھیں۔

ڈھیلی ڈھالی جینز اور ٹی شرٹ کو خیرباد کہا اور پیروں تک لمبی اسکرٹ والی خاکی وردی، جو جسم کو زمین تک پورا ڈھانپ دیتی تھی، کا استقبال کیا۔ جبکہ اسکول بس میں بھی مجھے عبایا اور اسکارف پہننا ہوتا تھا۔ اگر میں باہر جاتے وقت اپنے یونیفارم کے اوپر عبایا نہ پہنتی تو سیکیورٹی گارڈ مجھے باہر نکلنے ہی نہیں دیتا۔

حالانکہ سعودی اسکول میں لباس میں تو کافی تبدیلی آئی تھی لیکن میں نے دیکھا کہ لڑکیوں میں کوئی فرق نہ تھا۔ میں نے دیکھا کہ سعودی لڑکیاں بھی انہی موضوعات پر باتیں کرتی ہیں جن پر ان دنوں باقی لڑکیاں کیا کرتی تھیں— فلمیں دیکھنا، مرایہ کیری کو سننا، اور یقیناً لڑکوں کے بارے میں باتیں۔

میں یہ نہیں کہہ رہی کہ سب کچھ 100 فیصد پہلے جیسا تھا، مثلاً میرے نئے اسکول میں لڑکے نہیں تھے، لیکن وہاں کے ٹین ایجرز بالکل باقی دنیا کے ان ٹین ایجرز جیسے ہی تھے جنہیں میں جانتی تھی اور وہاں میں نے وہاں جلد ہی اپنے نئے دوست بنالیے تھے۔

میں نے اگلے چند ہفتے اپنی نئے دوستوں کے ساتھ چھٹیوں پر ملاقاتوں اور ساتھ بیٹھ کر بریڈ پٹ کی فلمیں دیکھتے، کوکیز بناتے، فون پر گھنٹوں گپ شپ کرتے، ہیری پوٹر پڑھتے اور حد سے زیادہ شوارمے کھاتے گزارے۔

ہائی اسکول کے بعد، میں سعودی عرب سے باہر چلی گئی، لیکن جب ایک ہسپتال کے ریسرچ سینٹر میں کام کرنے دوبارہ سعودی عرب لوٹی تب تک میں بالغ ہو چکی تھی۔ شمالی امریکا سے یہاں لوٹنے کے بعد میں نے دونوں جگہوں میں تو واضح فرق دیکھا مگر لوگوں میں کوئی فرق نہ پایا۔

یہاں کوئی میٹرو یا سب وے نہیں تھی اور ہر صبح میرا کوئی مرد رشتے دار گاڑی میں مجھے دفتر چھوڑنے ساتھ جایا کرتا، لیکن میرے سعودی ساتھی میرے سعودی عرب سے باہر رہنے والے ساتھیوں جیسے ہی تھے۔

لیبارٹری میں کسی سعودی خاتون کو اسکارف کے بغیر جینز اور لیب کوٹ میں دیکھنا عام بات تھی، جبکہ چند خواتین خود کو پوری طرح ڈھکتی تھیں۔

سچ تو یہ ہے کہ کپڑوں کے اندر کا وجود عام لوگوں جیسا ہوتا تھا۔ میں نے ایک ایسی لڑکی کے ساتھ کام کیا جو نقاب پہنتی تھی۔ آپ اس کی صرف آنکھیں دیکھ سکتے تھے لیکن آپ یہ باآسانی بتا دیتے کہ وہ کب کب مسکراتی ہیں کیوں کہ جب وہ مسکراتیں تو نقاب کے دونوں اطراف شکن بن جاتے تھے۔

وقت کے ساتھ ساتھ ہم نے پودینے والی چائے کی پیالیوں پر ایک دوسرے کو اپنے خواب اور خواہشیں بتائیں۔ اس کی پریشانیاں بھی سعودی سے باہر رہنے والی ان تمام لڑکیوں جیسی ہی تھیں جنہیں میں جانتی تھی، جیسے کریئر میں کامیابی، ایک اچھے جیون ساتھی کی تلاش اور اپنی مزید تعلیم حاصل کرنے کی خواہش۔

ہم ایک ساتھ سوچ بچار کرتے کہ ملازمت میں ترقی کیسے حاصل کی جائے، شادی کیسے کی جائے، اور اسکالرشپ کیسے حاصل کی جائے۔ اور ہم دونوں دوپہر کے کھانے پر قہقہوں کے ساتھ اپنے تمام مسائل حل کر لیتے۔

اس عرصے کے دوران وہاں اپنی اس ساتھی اور دیگر جن سعودی باشندوں سے ملی اور ساتھ کام کیا، وہ دوستانہ، پرمزاح، مہربان مزاج کے مالک تھے یا کم لفظوں میں کہیں تو باقی دنیا کے عام لوگوں جیسے ہی تھے جنہیں میں جانتی تھی۔

دفتر میں بریک کے دوران اپنا زیادہ وقت ان باتوں میں ہی گنوادیتے کہ اگلی چھٹی پر ہونے والی پارٹی پر زارا کا کون سا لباس پہننا ہے۔ سعودی خواتین کو صرف عوامی جگہوں پر ہی خود کو پوری طرح سے ڈھکنا ہوتا ہے؛ جبکہ ویسے انہیں اپنی مرضی کے لباس زیب تن کرنے کی اجازت ہوتی ہے، پھر چاہے وہ پارٹیوں پر بھڑکیلے کپڑے پہنیں یا پھر گھر پر جینز پہنیں۔

حتیٰ کہ مردوں کی پریشانیاں بھی وہی ہوا کرتیں جو کینیڈا یا امریکا کے کسی مرد کی ہوتی ہیں— جو صرف سخت محنت کر کے اپنے مقاصد کو پورا کرنا اور اپنے گھروالوں کا بہتر طور پر خیال رکھنا چاہتے تھے۔ کنوارے مرد ایک اچھی بیوی کی تلاش میں رہتے اور شادی شدہ مرد اپنی بیوی اور بچوں کے لیے پریشان رہتے۔

کسی سست دن پہ میرے ایک مرد ساتھی دفتر میں اونچی آواز میں عربی میوزک چلاتے اور میں کبھی کبھی انہیں بے سرا گاتے ہوئے پکڑ لیتی۔ وہ کافی کم عمر نوجوان تھے، انہوں نے مجھے ایک بار بتایا کہ انہیں اپنی شادی کا ثبوت اپنے ساتھ رکھنا ہوتا ہے کیونکہ ڈرائیونگ کے دوران مذہبی پولیس اہلکار انہیں اور ان کی بیوی کو یہ چیک کرنے کے لیے روک لیتی ہے کہ وہ شادی شدہ ہیں یا نہیں اور تسلی ہونے کے بعد ہی گاڑی میں ساتھ جانے کی اجازت دیتے ہیں۔

وہ کھانے کے کافی شوقین تھے، انہیں فوٹوگرافی اور سیر و سیاحت کافی پسند تھی اور انہوں نے مجھے اپنے فون پر عمدہ سوشی کی تصویر بھی دکھائی تھی جو انہوں نے اس سال اسپین میں چھٹیوں کے دوران اپنی فیملی کے ساتھ کھائی تھی۔ ان کی زندگی ان کے گھر والوں اور کام کے گرد گھومتی ہے، اور وہ اپنی زندگی کے ہر ایک منٹ سے محظوظ ہونے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔

بالغ ہو کر جب سے یہاں لوٹی ہوں، تب سے دیکھا ہے کہ سعودی معاشرہ دھیرے دھیرے بدل رہا ہے۔ جب میں وہاں بڑی ہو رہی تھی، تب یہ ایک سخت معاشرہ تھا اور گھر سے باہر مالز، ریسٹورینٹس یا دیگر دوستوں کے گھر جانے کے علاوہ کچھ زیادہ کرنے کے آپشنز نہیں ہوتے تھے۔

مجھے یاد ہے کہ ایک بار مشہور ایرانی امریکی کامیڈین معاز جبرانی کو دیکھنے کی خاطر مجھے گھنٹوں صحرا میں گاڑی چلانی پڑی تھی کیونکہ ان دنوں انٹرٹینمنٹ کے مواقع بمشکل ہی فراہم ہو پاتے تھے۔

اس شام ریت کا شدید طوفان آیا تھا جس نے ٹریفک کی روانی کو سست کر دیا اور مجھے تو وہ مشکوک افواہ بھی یاد ہے کہ جس شہزادے نے اس شو کو اسپانسر کیا ہے، وہ شیروں کا مالک ہے، اور اس کے شیر شاید وہاں آس پاس موجود ہوں۔

ان خراب موسمی حالات اور اپنے آپ کو ممکنہ طور پر شیر کا کھانا بننے کے تصوراتی خطرے کے باوجود ہر کوئی اپنی چہروں پر مسکراہٹ سجائے وہاں پہنچ گیا تھا، جس پر معاز جبرانی نے کہا کہ چونکہ ہم پیچھے نہ مڑے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم انٹرٹینمنٹ کے لیے شدید بے تاب رہے ہوں گے۔

وہ درست تھے لیکن حکومت کے نئے اقدامات کے ساتھ ہو سکتا ہے کہ مستقبل آج کے مقابلے میں کافی مختلف ہو۔ اب سعودی عرب نے وژن 2030 کے حصے کے طور پر مقامی سیاحوں کو متوجہ کرنے کی خاطر انٹرٹینمنٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔

گزشتہ سال جنرل اتھارٹی برائے انٹرٹیمنٹ قائم کی گئی اور سعودی عرب میں پہلی بار کامک کنوینشن کا انعقاد ہوا (جس میں مرد و خواتین کے لیے داخلی و خارجی دروازے تو علیحدہ تھے مگر کنوینشن رومز مخلوط تھے۔)

انٹرٹینمنٹ کا آغاز ہی اپنے آپ میں ایک بڑا قدم ہے۔ کیونکہ مجھے یاد ہے کہ گزشتہ دنوں میں پہلی بار ایک کتب میلے میں شرکت میرے لیے ایک بہت بڑی بات ثابت ہوئی تھی۔

ظاہر ہے کہ مذہبی پولیس کتب میلے کی نگرانی کر رہی تھی، وہ دیکھ رہے تھے کہ آیا لوگ اخلاقیات کا خیال رکھ رہے ہیں یا نہیں، جبکہ دیگر اس بات کو یقینی بنا رہے تھے کہ ہم زیادہ ہلہ گلہ نہ کریں۔ ایک اہلکار میرے اور میری دوست کے پاس آیا اور ہمیں اپنے سر ٹھیک طرح سے ڈھکنے کا کہا، کیونکہ ہمارے اسکارف کافی ڈھیلے ڈھالے تھے اور میرے سر سے تو بار بار اسکارف گرتا جا رہا تھا۔

ایسی صورتحال سے جان چھڑانے کے لیے ہم نے وہی کیا جو اکثر لڑکیاں کرتی ہیں— ہم نے اس اہلکار کو یہ باور کروایا کہ ہم اس کی زبان سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ہم نے کہا، “کیا آپ فرینچ بول سکتے ہیں؟” اس اہلکار کو ہماری زبان سے پریشانی ہو رہی تھی، لہٰذا وہ ہمارا پیچھا چھوڑ کر کسی دوسرے کو تنگ کرنے چلا گیا جب کہ ہم کتابوں کا جائزہ لیتے رہے۔

میرے ٹین ایجر دور میں سعودی عرب میں قانون کے مطابق خواتین کو دکانوں میں کام کرنے کی اجازت نہیں تھی، اس وجہ سے خریداری میں کافی مشکلات پیش آتیں۔ انڈر گارمنٹس خریدنا بھی ایک کٹھن مرحلہ ہو جاتا کیونکہ ان دکانوں پر کام کرنے والے ناگوار مرد ملازمین ہمیشہ رات کے بے ہودہ لباس دکھاتے۔

میں نے اپنی چند سعودی دوستوں سے سنا ہے کہ عورتوں کو مالز میں کام کرنے کی اب اجازت مل گئی ہے، اور صرف خواتین کے لیے مختص مالز میں ہی نہیں بلکہ مخلوط مالز میں بھی۔ میں تو شکرانے کے نفل ادا کرتی ہوں کہ کم از کم اب ٹین ایج لڑکیوں کی ان ناگوار مردوں سے تو جان چھوٹی۔

حالیہ دنوں میں میں نے محسوس کیا ہے کہ اس ملک میں نئے امکانات کے دروازے کھل رہے ہیں اور میں دھیمی تبدیلی کا موقع دیکھ رہی ہوں جو اس ملک کے نوجوان یہاں لا سکتے ہیں۔ میں وہاں جن نوجوانوں سے ملی ہوں وہ ایک کھلے ذہن کا اور آزاد معاشرہ چاہتے ہیں اور شاید ایک دن وہ ایسا معاشرہ حاصل بھی کر لیں۔ وہاں رہنے والے نوجوان گزشتہ نسل کے مقابلے میں باقی دنیا سے بہتر انداز میں جڑے ہیں یا یوں کہیں کہ گلوبلائزڈ ہیں اور کئی معاملات میں تبدیلی کے خواہشمند ہیں۔

وہاں کی لڑکیوں کو بھی باقی دنیا کی لڑکیوں کی طرح اسنیپ چیٹ اور سیلفیاں پسند ہیں، اور وہ ایسی نسل بننا چاہتی ہیں جنہیں ٖڈرائیو کرنے کی قانوناً اجازت ہو اور زیادہ آزادی حاصل ہو۔ چاہے آپ کسی بھی ملک میں رہتے ہوں یا کسی بھی قسم کی روایات کے مطابق زندگی گزار رہے ہوں، وہاں کی نوجوان نسل ہمیشہ ‘اسٹیٹس کو’ کو چیلنج کرتی نظر آئے گی۔

سعودی عرب میں اپنی زندگی کے برسوں میں مجھے کئی نوجوان سعودیوں سے ملنے سے موقع ملا، جو کافی ذہین، متحرک اور سخت محنتی ہیں، اور سعودی عرب میں ایسے لوگوں کو دیکھ کر، میں امید کرتی ہوں کہ مستقبل میں اس ملک میں مزید ترقی آئے گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//graizoah.com/afu.php?zoneid=3437593