باہر والی

این این ایس نیوز!زینب کی شادی کو آج سترہ سال پورے ہونے کو آئے تھے. مگر اکثر وہ یہ بات دہرایا کرتی اللہ کسی کو” باہر والی ‘ کا دکھ نہ دکھائے.اس کی بیٹیاں اکثر اس سے پوچھتی؛ اماں! یہ باہر والی کون ہوتی ہے ؟آج اس کی بیٹیاں اس کو زبردستی بٹها کر پوچھنے لگیں. زینب ہنس کر بولی بیٹا! باہر والی تمہاری ماں جیسی ہوتی ہے. بچیاں حیرانی سے

بولیں :”اماں ! زینب ہنس کر بولی :”بیٹا! تمہارے ابا کا رشتہ جب میرے ماں باپ نے قبول کیا تو وہ اسی بات کے داعی تھے کہ زات پات، برادریاں، قبیلوں کی تقسیم صرف انسانوں کی پہچان کے لیے ہے ان کی تقسیم کے لئے نہیں.”مگر شادی کہ بعد مجھے میرے سسرال نے بتایا کہ میرا تعلق ان کی برادری سے نہیں .اس لئے میں “باہر والی ” ہوں. کتنے مزے کی بات ہے کہ آج سترہ سال بعد بھی میں باہر والی ہوں.کمرے میں خاموشی چھا گئی “باہر والی ” کے غم میں”

جب کوئی شوہر یا بیوی دوسرے فریق سے طلاق کا مطالبہ کر دے تو اس فریق کو اس پر حیران نہیں ہونا چاہیے کیونکہ کوئی بھی شخص طلاق کا فیصلہ یک لخت نہیں کرتا، دوسرے فریق کی کچھ مخصوص عادات کا ایک تسلسل ہوتا ہے جو اسے اس فیصلے پر مجبور کرتا ہے۔ ہر میاں بیوی کو اپنی ان عادات پر گاہے غور کرتے رہنا چاہیے تاکہ دوسرا فریق اس تلخ فیصلے پر مجبور نہ ہونے پائے۔

ازدواجی تعلقات کے ماہرین نے میاں بیوی کی یہ مخصوص عادات اپنی نئی تحقیقاتی رپورٹ میں بیان کی ہیں۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ماہرین انڈیا کنگ اور ایرنی کروگ نے تحقیقاتی نتائج میں بتایا ہے کہ شوہر یا بیوی کی بعض مخصوص عادات ہوتی ہیں جس سے مخالف فریق اس قدر تنگ آ جاتا ہے کہ وہ علیحدگی کا فیصلہ کر لیتا ہے، لیکن ان بری عادات کے مالک فریق کو ان کا احساس اسی وقت ہو پاتا ہے جب برا دن آ چکا ہوتا ہے۔“ ”ان مخصوص بری عادتوں میں ”کسی ایک فریق کا بے جادوسرے فریق سے شکایات کرتے رہنا اورمسلسل اس پر تنقید کرنے کے بہانے ڈھونڈتے رہنا،

اپنے شریک حیات پر دوسروں کو ترجیح دینا، دوسرے کے سامنے شریک حیات کی برائی کرنا، شریک حیات پر غلبہ پانے اور اسے اپنے کنٹرول میں کرنے کی کوشش کرنا، ازدواجی زندگی کی وجہ سے اپنے مشاغل ترک کر دینا، شریک حیات کی حدود اور شخصی آزادی کا احترام نہ کرنا، شریک حیات سے کبھی اظہار تشکر نہ کرنا،

ہر وقت کڑھتے اورمنہ بسورے رہنا“ شامل ہیں۔ یہ 9بری عادتیں ایسی ہیں کہ جس مرد یا عورت میں ہوں اس کا شریک حیات لامحالہ اس سے علیحدگی پر غور کرنے لگتا ہے اور بالآخر اس پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا ازدواجی تعلق خوشگوار اور طویل ہو تو غور کیجیے کہ کہیں آپ میں یہ عادات تو موجود نہیں ہیں۔ اگر ہیں تو انہیں دور کرنے کی کوشش کیجیے۔“

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

//graizoah.com/afu.php?zoneid=3437593