ازدواجی فرائض کے لیے مخصوص تین راتوں میں ممانعت

این این ایس نیوز! احب احیاء نے لکھاہے کہ تین راتوں میں ازدواجی فرائض ادا کر نا مکروہ ہے۔ ایک مہینے کی اول شب دوسرے آخیر شب تیسرے پندرہوہیں شب۔ کہتے ہیں ان تینوں راتوں میں ازدواجی فرائض کے وقت شیطان موجود ہو تے ہیں اور بعض یہ کہتے ہیں کہ ان راتوں میں شیطان یہ فیل کیا کر تے ہیں ۔

اور اس امر کی کراہت ان راتوں میں حضرت علی حضرت معاویہ اور حضرت ابو ہریر ہ ؓ سے مروی ہے صاحب رفاہ المسلمین نے بھی مذکورہ بالاراتوں کے علاوہ شب چہار شنبہ اور شب عیدین میں اور اس رات میں کہ صبح کو ارادہ سفر کا ہو ازدواجی فرائض کرنے سے منع لکھا ہے ۔ ایسا کر نے سے فرزند میں کچھ عیب عارض ہو تا ہےطب نبوی ؐ میں بھی ابونعیم کی کتاب الطب کے حوالہ سے لکھا ہے کہ رسول ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ اے علی ! آدھے مہینے میں اپنی اہلیہ سے ازدواجی فرائض نہ کیا کرو کیونکہ اس تاریخ میں شیا طین آیا کرتے ہیںَ۔شمائل ترمذی کے ترجمہ میں فائدہ کے تحت لکھا ہے کہ مشائخ کی رائے میں عین نماز کے ازدواجی فرائض ادا کرنے سے اگر حم۔ل ٹھہر جائے تو اولاد نافرمان ہو تی ہے۔

Comments are closed.