ایسا ملک جہاں جہاں میت کی تدفین مہینوں نہیں بلکہ سالوں بعد بھی کی جاتی ہے وجہ ایسی آپ دانتوں میں انگلی چبا لیں گے

این این ایس نیوز! زیادہ تر ممالک میں لوگوں کو ان کی وفات کے چند گھنٹوں بعد ہی دفنا دیا جاتا ہے لیکن افریقہ کے ملک گھانا میں کفن دفن کے معاملات خاصے پیچیدہ ہیں جن کو طے کرنے میں مہینے یا بسا اوقات سالوں لگ جاتے ہیں۔ کچھ کمیونیٹیز میں مردے کو جلدی سے دفنا دینا بے ادبی سمجھا جاتا ہے لہٰذا مرحوم اور اس کے گھر والوں کی خواہشات کے باوجود بھی لاشوں کو ان کے آخری  سفر پہ روانہ کرنے سے قبل انہیں مہینوں مردہ خانے میں رکھا جاتا ہے۔

گھانا میں کسی شخص کی آخری رسومات کی ادائیگی میں اتنا طویل عرصہ لگانے کا سبب افریقی ملک میں خاندان سے متعلق مسائل ہوتے ہیں۔ انسان کی زندگی میں اس کی بیوی ، بچے اور والدین اس کا خاندان ہوتے ہیں لیکن یہاں کے رواج کے مطابق مرنے کے بعد اس شخص کا خاندان وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے درمیان وہ پیدا ہوا ، پلا بڑھا تھا۔

یعنی یہاں مرنے کے بعد میت کا مالک قبیلہ اور دور پرے کے رشتے دار ہوتے ہیں۔بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ میت کے یہ دور پرے کے رشتہ دار ایسے ہوتے ہیں جن سے  مرنے والے نے اپنی زندگی میں دہائیوں سے بات چیت تک نہیں کی ہوتی لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اب اس کے مرنے کے بعد صرف انہی لوگوں کے پاس یہ حق ہوتا ہے کہ وہ مرحوم کو کب، کہاں اور کیسے دفنانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ چاہے مرنے والے نے اس معاملے میں اپنی وصیت ہی کیوں نہ چھوڑی ہو یا اپنے قریبی لوگوں کو کوئی ہدایت ہی کیوں نہ دی ہو وہ سب بے معنی قرار پاتا ہے جب تک کہ اس کا قبیلہ اور دیگر رشتے دار وصیت سے متفق نہیں ہوتے۔

گھانا کی صحافی اور سیاستدان الزبتھ اوہین نے میت  کو دفنانے میں طویل عرصہ لگانے کے اس رواج کو ختم کرنے کی غرض سے اس کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے آواز اٹھائی لیکن اس کی کوششیں بار آور ثابت نہ ہو سکیں۔ پچھلے ہفتے ہی ایک ایسے سردار کا کیس سامنے آیا  جسے مرے ہوئے چھے سال ہو چکے تھے اور جس کا جسم تاحال کسی مردہ خانے میں محفوظ رکھا گیا تھا کیونکہ اس کی دور پرے کے رشتے دار  اب تک فیصلہ نہیں کر پائے  تھے سردار سوگوار کون ہوگا۔

لیکن اس معاملے کو لوگوں کی زیادہ توجہ حاصل نہیں ہوئی کیونکہ اس طرح کے کیسز گھانا میں بہت عام ہیں۔کبھی مرنے والے کی آخری رسومات کون ادا کرے گا کا سوال  اور کبھی اس کے کفن کے ڈیزائن کا فیصلہ ، کبھی مردے کو دفن کیے جانے کے مقام کا تعین اور کبھی اس کی آخری رسومات میں شریک ہونے کے لیے دنیا بھر سے  اس کی  سارے خاندان  اور رشتے داروں کے آنے کا انتظار؛ ان سب باتوں کی بنا پر مردے کو دفنانے میں مہینوں و سالوں کا  عرصہ بیت جاتا ہے۔

اس کے علاوہ کبھی تو اس کی آخری رسومات میں کون شریک ہوگا اور کون نہیں، اس بات کا فیصلہ کرنے میں ہی کافی عرصہ گزر جاتا ہے۔ اسی لیے اوہین کا ماننا ہے کہ مرنے والے کی قریبی عزیزوں یعنی ماں باپ، بیٹا بیٹی اور بیوی  کو اس کے دفنانے کو اختیار ملنا چاہیے۔الزبتھ اوہین نے حال ہی میں بی بی سی کے لیے  لکھے گئے اپنے ایک آرٹیکل میں بتایا کہ اس نے اسی ہفتے ایک مشہور صنعتکار اور سیاستدان نانا اکینٹن اپیا-مینکا کی آخری رسومات میں شرکت کی۔

اس موقع پر تدفین کے بروشر میں اس کا 226 صفحات پہ مبنی تصویری البم رکھا گیا جس میں اس کی 84 سالہ زندگی کو خراج تحسین پیش کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ وہاں ان لوگوں کو بھی مسئلہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو مردے کو جلدی دفنا دیتے ہیں جیسا کہ اوہین نے اپنی 90 سالہ ماں کی وفات کے بعد صرف تین ہفتوں کے بعد اسے دفنایا تو اب تک اس کے گاؤں کے لوگ اس کی جلدبازی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

ان کے نزدیک کسی مردے کو اتنا جلد دفنا دینا بے ادبی کا عمل ہے۔
اوہین اب اس طویل العرصہ تدفین کا ذمہ دار ریفریجریٹرز کو قرار دیتی ہے کیونکہ اگر یہ نہ ہوتے تو شاید لوگ مردوں کو دفنانے میں دو یا تین دن سے زائد نہ لیتے۔ مردوں کو اتنا طویل عرصہ تک محفوظ رکھنے کے لیے ریفریجریٹرز کا استعمال کیا جاتا ہے۔اس سے پہلے لوگ اپنے مردوں کو چند دنوں میں ہی دفنا دیتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *