جسے کوئی قرض دینے پر تیار نہ ہوتا، ہمت اور محنت سے امریکہ کا صدر منتخب ہو گی

این این ایس نیوز!اس عظیم انسان کی کہانی 12فروری1809ء سے شروع ہوتی ہے۔وہ منہ میں سونے کا چمچہ لیکر پیدا ہوا،اس کے باپ کے پاس 600ایکڑ قابل کاشت اراضی ہے،بیشمار گھوڑے،بھینسیں اور بکریاں ہیں مگر اس کی پیدائش کے محض سات سال بعد اس کا باپ یہ سب مال و اسباب ایک عدالتی مقدمے میں ہار جاتا ہے اور اسے بچوں سمیت گھر سے بیدخل کر دیا جاتا ہے۔

سڑک پر آنے کے دو سال بعد ہی اس کی ماں مر جاتی ہے اور اسے گھر کا چولہا جلانے کے لئے لڑکپن میں نوکری کرنا پڑتی ہے۔1831ء میں اس نے پیسے جوڑ کر ایک اسٹور کھولا لیکن اس کی قسمت کا ستارہ گردش میں تھا اس لئے نقصان اٹھانے کے بعد اسٹور بند کرنا پڑا۔اس نے مایوس ہونے کے بجائے ایک ورکشاپ بنائی مگر شومئی قسمت کہ یہاں بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ تنگ آ کر فوجی دستے میں شامل ہو گیا۔اس کے فوجی کیرئر میں بھی نحوست نے ساتھ نہ چھوڑا، پہلے اس کی تنزلی ہوئی اور پھر نوکری سے ہی نکال دیا گیا۔ اسی دوران اس نے منگنی کی تو محبوبہ کا انتقال ہو گیا۔سب لوگوں نے اسے ’’پنوتی‘‘ کہنا شروع کر دیا۔کوئی اسے قرض دینے پر تیار نہ ہوتا۔ ایک دوست نے ترس کھا کر قرض دیا اور دوبارہ کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دی۔ایک بار پھر دیوالیہ ہو گیا اور پیسے ڈوب گئے۔ قانون کی تعلیم حاصل کر رکھی تھی،سوچا کیوں نہ وکالت کا پیشہ اختیار کیا جائے۔یہاں بھی کامیابی نہ ملی اور تھک ہار کر ملازمت کرنا پڑی۔1832ء میں ریاستی مجلس قانون ساز کا الیکشن لڑا،مجلس کی رکنیت تو نہ ملی البتہ نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے۔ہمت نہ ہاری 1834ء میں دوبارہ مجلس قانون ساز کا الیکشن لڑا، اس مرتبہ قسمت نے یاوری کی اور کامیاب ہو گیا۔حوصلہ پا کر 1838ء میں مجلس قانون ساز کے اسپیکر کا الیکشن لڑا،لیکن بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔1840ء میں ایک بار پھر الیکشن میں شکست کا مزہ چکھا مگر بدمزہ نہ ہوا اور 1843ء میں کانگریس کے انتخابات میں کود پڑا،ایک بار پھر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا

۔مایوس ہونے کے بجائے 1846ء میں دوبارہ الیکشن میں حصہ لیا اور اس بار رکن کانگریس منتخب ہو گیا۔ کامیابی اور ناکامی کی کشمکش ختم نہ ہوئی،1848ء میں ایک بار پھر کانگریس کا الیکشن لڑا اور ہار کو گلے لگایا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ پے در پے ناکامیوں نے راستہ روک لیا مگر اس شخص کے پایۂ استقلال میں کوئی لغزش نہ آئی۔1854

ء میں سینیٹ کا الیکشن ہارا،1856ء میں پارٹی کا نائب صدر منتخب نہ ہو سکا،1858ء میں ایک بار پھر سینٹ کا انتخاب ہارا مگر 1860ء میں یہ ہارا ہوا شخص ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا صدر منتخب ہو گیا، تاریخ اس عظیم انسان کو ابراہم لنکن کے نام سے جانتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *