خزانہ ملنے کی امید پر ایک شخص نے 30 سال پہلے گھر میں دریافت ہونے والے کنویں کی کھدائی شروع کردی

این این ایس نیوز! کولن اور وینیسا سٹیر 1980 کی دہائی میں اپنے نئے گھر میں منتقل ہوئے تھے۔ جب وہ یہاں آئے تو دیکھا کہ  ان کے کمرے کا فرش جھکا ہوا ہے۔ کولن نے پلایماؤتھ، ڈیون، برطانیہ میں واقع اس گھر کے فرش کی مرمت کی  تو تھوڑا نیچے کھودکر دیکھنے کا بھی فیصلہ کیا۔جب انہیں نیچے ایک کنواں ملا تو وہ کافی حیران ہوئے۔اس وقت کولن اور وینیسا کے تین چھوٹے بچے تھے۔

انہوں نے بچوں کی حفاظت کے پیش نطر اس کنویں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن جب کولن اپنی ملازمت سے ریٹائر ہوئے تو انہوں نے اس کنویں کو پھر سے ایک نظر دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ یہ کنویں ان کی سوچ سے بڑآ ہے۔ اپنے ایک دوست کے ساتھ وہ اس کنویں کو 17 فٹ کھود چکے ہیں۔کولن کا خیال ہے کہ اس طرح کھودنے سے انہیں کنویں کی تہہ میں کہیں سونا یا کوئی برتن مل سکتا ہے۔ایک سیٹرھی، بالٹی اور پلی سسٹم سے کولن اور اُن کے دوست نے 6 مہینے میں 17 فٹ کھدائی کی ہے۔کولن کا کہنا ہے کہ انہیں 4 فٹ نیچے ایک سیٹرھی کی لکڑی ملی جسے وہ پہلے تلوار سمجھے تھے۔ اسی وجہ سے وہ مزید کھدائی کرنا چاہتے کہ شاید نیچے کچھ اور مل جائے۔2012 میں کولن اس گھر کے پیچھے باغ میں تعمیراتی کام کر رہے تھے کہ ان کا بیلچہ جرمنی کی دو آتشگیر ڈیوائسز سے ٹکرایا۔ اسی وقت بم ڈسپوزیبل ٹیم وہاں پہنچ گئی اور پوری عمارت کو خالی کرا لیا اور ان ڈیوائسز کو ایک محفوظ مقام پر لے جا کر ضائع کر دیا۔اب کولن کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک کھدائی کرتے رہیں گے جب تک کنویں کی تہہ تک نہ پہنچ جائیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *